اسلام آباد۔۔ رپورٹ: شفیق لغاری
حکومتِ پاکستان نے ہراسمنٹ اور سائبر جرائم کی شکایات کے اندراج کے لیے اپریل 2025 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) قائم کی، جس کا ہیلپ لائن نمبر 1799 ہے۔ تاہم ادارے کی کارکردگی اور وسائل کی کمی سے متعلق سنگین سوالات سامنے آ گئے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے سربراہ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ادارے کو حکومت کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، تاہم بعد ازاں گفتگو میں محکمے کی خستہ حالی اور وسائل کی شدید کمی نمایاں نظر آئی۔ ان کے مطابق اب تک این سی سی آئی اے کو ایک لاکھ چون ہزار چار سو تریسٹھ (154,663) شکایات موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے صرف 620 کیسز رجسٹرڈ کیے گئے، جبکہ 58 کیسز میں انکوائری جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں این سی سی آئی اے کے صرف 15 شکایتی مراکز قائم ہیں۔ خواتین سے متعلق انکوائری کے لیے محکمے میں صرف 6 خواتین افسران دستیاب ہیں، جبکہ مجموعی طور پر پورے ملک میں 33 خواتین ملازمین کام کر رہی ہیں۔ پراسیکیوشن کے لیے محکمے کے پاس صرف 5 پراسیکیوٹرز ہیں، جبکہ متاثرین کی کونسلنگ کے لیے محض 3 افراد تعینات ہیں۔
ادارے کی سربراہ کی گفتگو کے بعد کمیٹی کی رکن شائستہ پرویز ملک نے انکشاف کیا کہ بریفنگ کے دوران دیے گئے ہیلپ لائن نمبر پر وہ مسلسل کال کرتی رہیں، مگر کسی نے فون ریسیو نہیں کیا۔ اس پر این سی سی آئی اے کے حکام نے وضاحت دی کہ ہیلپ لائن پر کل تین آپریٹرز ہیں، جن میں سے دو رات جبکہ ایک دن کی شفٹ میں ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔
محکمے کی کارکردگی سے متعلق سوال پر حکام نے بتایا کہ شکایت کے بعد درخواست، انکوائری، کیس رجسٹریشن، شواہد، شواہد پر جرح، فردِ جرم اور پھر عدالتی کارروائی کا ایک طویل عمل ہوتا ہے، جو فیصلہ آنے تک جاری رہتا ہے۔
ادارے کی مجموعی صورتحال نے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ آیا این سی سی آئی اے واقعی بڑھتے ہوئے سائبر جرائم اور ہراسمنٹ کے مقدمات سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتا بھی ہے یا نہیں۔
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک





