خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک کم سن لڑکی، عائشہ مریم شارجہ میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد انتقال کر گئی، یہ واقعہ اس کی سالگرہ کے محض دو ہفتے بعد پیش آیا۔ سترہ سالہ عائشہ کو شارجہ کے میسلون علاقے میں واقع اس کے گھر کے قریب ایک اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اسے بچایا نہ جا سکا۔
انڈین ایسوسی ایشن کے سماجی کارکن اور مینجنگ کمیٹی کے رکن مناف کے مطابق، واقعے سے ایک روز قبل وہ بالکل تندرست اور متحرک تھی اور رات تقریباً دو بجے گھر واپس آنے سے پہلے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کھیلتی رہی تھی۔
وہ اس رات دیر سے سوئی اور اگلے دن دوپہر کے وقت جاگی۔ وہ تازہ دم ہونے کے لیے باتھ روم گئی لیکن کافی دیر تک باہر نہ آئی۔ مناف کے مطابق، ’’جب اس کی والدہ نے آواز دی اور کوئی جواب نہ ملا تو اہلِ خانہ نے باتھ روم کا دروازہ توڑا اور اسے فرش پر بے ہوش حالت میں پایا۔‘‘
انہوں نے بتایا، ’’اسے فوری طور پر قریبی اسپتال لے جایا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ اسپتال پہنچنے پر اس کی نبض نہیں چل رہی تھی۔ جمعرات کو سہ پہر 3 بج کر 13 منٹ پر اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔‘‘
خلیج ٹائمز کے مطابق دستیاب ڈیتھ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ لڑکی کی موت کی وجہ دل اور سانس کے نظام کا بند ہو جانا تھی۔
یاب لیگل سروس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلام پپنسیری نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ ان کی کمپنی لڑکی کی میت کو بھارت منتقل کرنے کے لیے درکار کاغذی کارروائی میں تعاون کر رہی ہے۔
مناف نے مزید بتایا کہ عائشہ کو اس سے قبل کسی قسم کے طبی مسائل لاحق نہیں تھے اور وہ واقعے سے پہلے بالکل ٹھیک تھی۔ ان کا کہنا تھا، ’’طبی رپورٹ میں موت کی وجہ کارڈیک اریسٹ بتائی گئی ہے۔ چونکہ وہ نابالغ تھی، اس لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔
شارجہ انڈین اسکول کی طالبہ، بھارتی نژاد عائشہ گیارہویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھی۔ اس کا تعلق بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ سے تھا اور اس کا خاندان گزشتہ چند برسوں سے شارجہ میں مقیم تھا۔
اکتوبر میں دبئی میں بھی ایک 18 سالہ نوجوان دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گیا تھا۔ ویشنَو کرشن کمار، جو ایک یونیورسٹی کا طالب علم تھا، اپنے دوستوں کے ساتھ دیوالی کی تقریب میں شریک ہوا جہاں اس نے تقریباً 45 منٹ تک رقص کیا۔ بعد ازاں وہ ڈانس فلور سے ہٹا ہی تھا کہ اچانک گر پڑا۔ اگرچہ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اسے بچایا نہ جا سکا۔
حال ہی میں ملک کے ڈاکٹروں نے اسکولوں میں بلڈ پریشر کی اسکریننگ نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، ایک تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 20 برسوں میں دنیا بھر میں نوعمر اور کم عمر بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے کیسز تقریباً دوگنا ہو چکے ہیں۔





