سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو بہت مقبول لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں ، مگر پاکستانی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک سابق وزیراعظم جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر اتنا مقبول ہو جائے کہ ہر طرف اس کے نام کا ڈنکا بجے۔
دیگر سابق وزرائے اعظم کے برعکس، جس طرح عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، اس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ پارٹی کے قائد، سینئر راہنماؤں سمیت کارکنوں پر مقدمات ،گرفتاریوں کے باوجود تحریک انصاف کے clout میں کمی واقع نہیں ہو رہی، الٹا عوامی قبولیت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ سہیل آفریدی کی قیادت میں کراچی میں بڑا عوامی پاور شو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ خیبر سے کراچی تک پورا پاکستان خان کا ہے ۔ حکمرانوں نے اس خوف سے کہ تحریک انصاف کراچی میں کوئی بڑا پاور شو نہ کر سکے پی ٹی آئی کے کارکنان پر پولیس کریک ڈاؤن کروایا۔ ابتداء میں لاہور کے برعکس، پیپلز پارٹی نے جمہوری تاثر دینے کی کوشش کی مگر پھر وہی کیا جو پنجاب میں ہو رہا ہے۔ پنجاب میں بدسلوکی کے بعد سندھ حکومت نے بھی مہمان نوازی کا حق ادا نہ کیا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008 سے مسلسل حکومت ہے اور وہ ہی نہیں جانتے کہ پولیس نے کریک ڈوان کیوں اور کس کے کہنے پر کیا۔ سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے اس بات کی انکوائری کر رہے ہیں کہ پولیس کریک ڈاؤن کیوں ہوا۔ فرمایا کہ مزار قائد اور ملحقہ جگہ کیونکہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری میں آتا ہے اس لیئے پیپلز پارٹی تو خود وفاق سے پوچھ کر باغ جناح میں جلسہ کرتی ہے، تحریک انصاف کو جلسے کا این او سی دینے میں تاخیر کی وجہ بھی یہی تھی ۔ بظاہر مہمان نوازی کے بعد پولیس کا استعمال کر کے پیپلز پارٹی نے اجرک اور ٹوپی کی عزت کو اسی طرح مٹی میں ملا دیا ہے جیسے ن لیگ نے ووٹ کی عزت کو۔اگر حکومت سندھ نے پولیس کو حکم نہیں دیا تو پھر کہاں سے ہدایت نامہ جاری ہوا؟
ویسے تو ملک بھر میں عمران خان کی وسیع حمایت موجود ہے، لیکن اڈیالہ کے قیدی کے ساتھ جس طرح کراچی کھڑا ہوا ہے، والہانہ محبت اور یک جہتی کا مظاہرہ کیا گیا ہے ایسے مناظر تو خیبرپختونخوا میں بھی نہیں دیکھے گئے۔ شارٹ نوٹس پر جس بڑی تعداد میں کراچی کی عوام نکلی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کی عوام نے واقعی خوف کے بت کو توڑ دیا ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بنیادی انسانی حقوق کی جو پامالی ہوئی اور خون بہایا گیا ، اس کے بعد عوام کا بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے کسی جلسے یا احتجاجی تحریک کا حصہ بننا اک خواب رہ گیا تھا۔ پارٹی کو کراچی کے پاور شو سے اس تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔
سہیل آفریدی اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کے لئے جس سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ کسی حد تک کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ سہیل آفریدی عوامی ،نڈر اور جرات مند لیڈر کے طور پر ابھر رہے ہیں، اور یہ بات مقتدرہ کو یقینا پسند نہیں آئے گی۔ سہیل آفریدی پر دو پریس کانفرنسز ہو چکی ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا عمران خان کا کھلاڑی سہیل آفریدی کسی صورت قبول نہیں۔ گذشتہ روز پنجاب فرانزک لیب کی رپورٹ منظرعام پر آئی ہے جس میں ریڈیو پاکستان جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز میں سہیل آفریدی کی شناخت کی فرانزک تصدیق کی گئی ہے۔باقی آپ خود سمجھدار ہیں کہ آگے کیا ہو سکتا ہے۔
زمینی حقیقت یہی ہے کہ سہیل آفریدی میں عوام کو اکھٹا کرنے کی صلاحیت ہے۔ عمران خان کی اسیری کے بعد پارٹی میں کوئی ایسی شخصیت نہیں تھی جو عوام کو اپنی جانب کھینچ سکے۔ اک خلا تھا جسے سہیل آفریدی نے بھر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کراچی میں ایک بڑا پاور شو مایوس عوام اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں ایک نیا حوصلہ اور ولولہ پیدا کر سکتا ہے، جو آنے والے دنوں میں عمران خان کی رہائی مہم کے لئے سود مند ثابت ہوگا۔





