سمیرا سلیم کا بلاگ
ایک طرف ٹمبر اور لینڈ مافیا نے خیبرپختونخوا کے جنگلات اجاڑنے کے بعد اپنے کلہاڑے کا رخ اسلام کی طرف کر لیا ہے۔ تو دوسری طرف سی ڈی اے اور شہباز سرکار اس شہر پر اذیت بن کر نازل ہو گئے ہیں۔
جنگلات اور درختوں کے قتل عام جیسے سنگین مسلے پر لکھا تھا کہ لینڈ مافیا نے اب اپنی نگاہیں اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں سے متصل ضلع ہری پور میں واقع مکھنیال کے جنگل پر گاڑ لی ہیں، جو مارگلہ پہاڑیوں کے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے۔
مگر سی ڈی اے نے تو انتہا ہی کر دی، گرین بیلٹس اور سر سبز درختوں کو چند ہی دنوں میں صحرا میں تبدیل کردیا ہے۔ خوبصورت ملک کو سر سبز اور ترقی یافتہ بنانے کی بجائے موجودہ سیٹ اپ کا سارا زور ملک کو ہارڈ اسٹیٹ بنانے پر ہے۔ یہاں تو انسانوں کے قتل عام پر حکومت حرکت میں نہیں آئی ، درختوں کا قتل عام ان کے نزدیک کیا ہی حیثیت رکھتا ہے۔
ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں فرق صرف بہترین انفرااسٹرکچر کا ہی نہیں بلکہ سوچ اور افکار کا بھی ہے۔چند ماہ قبل سپین کے شہر میڈریڈ میں درجہ حرارت بڑھنے کے باعث وہاں کے رہائشی مزید درخت لگانے کے لئے شور مچا رہے تھے۔
میڈریڈ میں ایک ایسی گلی جس کے اردگرد درخت نہیں تھے اس کا درجہ حرارت 41.4 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اس کے برعکس قریب ہی ایک ایسی گلی جس کو شہتوت کے درختوں نے سایہ دار بنا رکھا تھا کا درجہ حرارت 38.6سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ میڈریڈ میں درخت ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔ کیونکہ وہاں کا میئر جوز لوئس مارٹنیز المیڈا کا میٹرو لائن کی توسیع کے لئے ایک ہزار درخت کاٹنےکا منصوبہ وہاں کی عوام کو قبول نہیں۔ حالانکہ موجودہ میئر کے دور میں مشرقی اضلاع میں درختوں کی تعداد میں 2.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن Puente de Vallecas کے علاقے میں میں درخت ترقیاتی منصوبوں اور آندھی طوفان سے 3 فیصد کم ہوئے ہیں جس پر وہاں کی عوام سراپا احتجاج ہے۔ شہر میں ہر سات میٹر پر ایک درخت لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
میڈرڈ کے ماحولیاتی ڈیپارٹمنٹ کا گرین بیلٹس کو برقرار رکھنے کے لئے بجٹ میں 49 فیصد اضافہ بھی عوام کو تسلی نہیں دے سکا۔ کیونکہ عوام کو ڈویلپمنٹ کے نام پر ان کو ایک درخت ہٹانا بھی منظور نہیں۔ یورپی یونین کا قانون بھی کہتا ہے کہ اگر کسی ترقیاتی منصوبے کے لیے قابل عمل متبادل موجود ہو تو درختوں کو ہٹانا غیر قانونی ہے۔
صحافی برادری اور چند لوگ اسلام آباد کے حسن کو ملیامیٹ ہوتے دیکھ کر اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ، مگر باقی عوام کو فرق ہی نہیں پڑ رہا۔ یہاں ہزاروں درختوں کو صف ہستی سے مٹا دیا گیا جس میں 50 سالہ پرانے درخت بھی شامل ہیں ، مگر عوام ان کو بچانے نہیں نکلی۔ ہم لوگ بھی عجیب لوگ ہیں، اپنی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوسوں میں چلیں جائیں گے لیکن اپنے حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے کھڑے نہیں ہونگے۔





