1977 کی ہندی فلم ایمان دھرم کے ایک منظر میں امیتابھ بچن عدالت میں داخل ہو کر گُلّو میاں کے حق میں ایسا پُراعتماد اور مبالغہ آمیز بیان دیتے ہیں کہ جج اور وکلا دنگ رہ جاتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ “گُلّو میاں” کتنا لمبا ہے تو وہ ایک ہاتھ اٹھاتے ہیں، لیکن جب وکیل بتاتا ہے کہ گُلّو میاں دراصل ایک مرغ ہے تو امیتابھ خاموشی سے دوسرا ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں، یعنی ایک جھوٹ کو دوسرے جھوٹ سے سنبھال لیتے ہیں۔
تقریباً پانچ دہائیوں بعد کچھ ایسا ہی منظر فلمی سیٹ پر نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے ضلع مئوگنج کے پولیس ریکارڈز میں سامنے آیا ہے۔ جی ہاں ۔۔بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع مئوگنج میں پولیس نظام کے اندر ایک سنگین بے ضابطگی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ایک ہی تھانے کے ڈرائیور، باورچی، صفائی ملازم، سبزی فروش اور حتیٰ کہ ایک معذور شخص کو درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں فوجداری مقدمات میں “پیشہ ور گواہ” کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔
یہ انکشاف پولیس کے اپنے کرائم اینڈ کرمنل ٹریکنگ اینڈ نیٹ ورک سسٹم (CCTNS) کے ریکارڈ سے سامنے آیا، جس کے مطابق سابق تھانہ انچارج جگدیش سنگھ ٹھاکر کے ذاتی ڈرائیور امیت کشواہا اور تھانے میں کھانا پکانے والے باورچی دنیش کشواہا 106 مقدمات میں مشترکہ طور پر گواہ یا مخبر درج ہیں، جبکہ 18 مقدمات میں امیت واحد گواہ ہے۔ ان کیسز میں منشیات، غیر قانونی شراب اور اسلحہ سے متعلق جرائم شامل ہیں۔
ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جگدیش سنگھ ٹھاکر جہاں جہاں تعینات ہوئے، وہاں وہاں امیت کشواہا کا نام بطور گواہ مقدمات میں شامل ہوتا رہا، جس پر مقامی لوگوں نے اسے “سفر کرنے والا گواہ” قرار دیا۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں پانچ برس میں اس کی عمر صرف ایک سال بڑھی دکھائی گئی، جبکہ ایک کیس میں اسے خود شکایت کنندہ بھی ظاہر کیا گیا۔
اسی طرح دنیش کشواہا نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے صرف ایک ہی مقدمے میں گواہی دی تھی، مگر اس کا نام درجنوں ایف آئی آرز میں شامل کر دیا گیا۔ دیگر افراد میں تھانے کا صفائی ملازم رام کانت یادو، ڈرائیور راہول وشوکرما اور معذور شخص ارون تیواری بھی شامل ہیں، جنہیں بار بار گواہ بنایا گیا۔ دلچسپ موڑ یہ ہے کہ بعد ازاں ارون تیواری کو ہی ایک ڈکیتی کے مقدمے میں ملزم بنا دیا گیا۔
سماجی کارکن کنج بہاری تیواری کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران 500 سے زائد مقدمات ایسے “فکسڈ گواہوں” کی بنیاد پر درج کیے گئے، جبکہ 150 سے زیادہ ایف آئی آرز کے جعلی یا رد و بدل شدہ ہونے کا شبہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کارروائی نہ ہوئی تو معاملہ ہائی کورٹ لے جایا جائے گا۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دلیپ کمار سونی نے جگدیش سنگھ ٹھاکر کو نائی گڑھی تھانے سے ہٹا کر پولیس لائن منتقل کر دیا اور تحقیقات سب ڈویژنل پولیس آفیسر کے سپرد کر دی گئیں۔
ادھر سابق اسپیکر اسمبلی اور بی جے پی کے ایم ایل اے گریش گوتم نے بھی اس اسکینڈل کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے “سیٹ اپ گواہ” قانون اور انصاف کے نظام کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ معاملہ بھارتی پولیس کے تفتیشی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے اور شفافیت و انصاف کے تقاضوں پر نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔



