5 ستمبر 2023 کو، یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے شعبۂ بشریات (اینتھروپولوجی) میں پی ایچ ڈی شروع کیے ہوئے آدتیہ پرکاش کو تقریباً ایک سال ہو چکا تھا۔ وہ شعبے میں موجود مائیکروویو میں اپنا دوپہر کا کھانا، پالک پنیر، گرم کر رہے تھے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہی عمل انہیں نسل پرستی کا نشانہ بنا دے گا۔
34 سالہ آدتیہ پرکاش کے مطابق اچانک ایک اسٹاف ممبر ان کے پاس آئی، “بدبو” کی شکایت کی اور انہیں کہا کہ وہ اپنا کھانا مائیکروویو میں گرم نہ کریں۔ اس کے بقول کھانے کی بو بہت تیز تھی۔
آدتیہ نے تحمل سے مگر مضبوط لہجے میں جواب دیا:“یہ صرف کھانا ہے۔ میں اسے گرم کر کے جا رہا ہوں۔”لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔
ستمبر 2025 میں، شہری حقوق سے متعلق ایک مقدمے کے بعد، یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر نے آدتیہ پرکاش اور ان کی ساتھی اُرمی بھٹاچاریہ (جو خود بھی پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں) سے تصفیہ کر لیا۔ یونیورسٹی نے دونوں کو مجموعی طور پر 2 لاکھ ڈالر ادا کیے، انہیں ماسٹرز کی ڈگریاں دیں، لیکن مستقبل میں یونیورسٹی میں داخلہ یا ملازمت دینے پر پابندی لگا دی۔ اس ماہ آدتیہ اور اُرمی مستقل طور پر بھارت واپس آ گئے۔
“نظامی نسل پرستی” (Systemic racism) پر بات کرتے ہوئے آدتیہ کہتے ہیں کہ “شعبے نے ہمیں وہ ماسٹرز ڈگریاں دینے سے بھی انکار کر دیا جو پی ایچ ڈی کے دوران طلبہ کو دی جاتی ہیں۔ تب ہم نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔
امریکی ریاست کولوراڈو کی ضلعی وفاقی عدالت میں دائر کیے گئے دیوانی مقدمے میں دونوں نے بتایا کہ آدتیہ کے “امتیازی سلوک” کے بارے میں خدشات ظاہر کرنے کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ۔
مقدمے میں شعبے کی کچن پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کا “غیر متناسب اور امتیازی اثر جنوبی ایشیائی جیسے نسلی گروہوں پر پڑتا ہے”، جس کی وجہ سے بہت سے بھارتی طلبہ مشترکہ جگہوں پر اپنا لنچ کھولنے سے بھی گھبراتے ہیں۔
آدتیہ اور اُرمی کے مطابق یہ “امتیازی سلوک اور مسلسل انتقامی کارروائیاں” ان کے لیے “جذباتی دباؤ، ذہنی اذیت، اور درد و تکلیف” کا باعث بنیں۔
اخبار دی انڈین ایکسپریس کو دیے گئے بیان میں یونیورسٹی کی ترجمان ڈیبورا مینڈیز ولسن کا کہنا تھا کہ “یونیورسٹی نے مدعیان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے اور کسی قانونی ذمہ داری کو تسلیم نہیں کیا۔ یونیورسٹی کے پاس امتیازی سلوک اور ہراسانی کے الزامات سے نمٹنے کے لیے طریقہ کار موجود ہیں اور اس معاملے میں انہی پر عمل کیا گیا۔ سی یو بولڈر طلبہ، اساتذہ اور عملے کے لیے ایک جامع اور شمولیتی ماحول قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
آدتیہ کے مطابق جب کھانا گرم کرنے والا واقعہ پیش آیا، وہ مکمل طور پر فنڈڈ پی ایچ ڈی طالب علم تھے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ “ہراسانی” کے حصے کے طور پر انہیں بار بار سینئر فیکلٹی کے سامنے طلب کیا گیا، ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ “اسٹاف کو غیر محفوظ محسوس کرا رہے ہیں”، اور ان کے خلاف آفس آف اسٹوڈنٹ کنڈکٹ میں شکایات درج کی گئیں۔
آدتیہ کا تعلق بھوپال سے ہے جبکہ 35 سالہ اُرمی بھٹاچاریہ کولکتہ سے ہیں۔ دونوں کی پہلی ملاقات دہلی میں ہوئی تھی۔ بعد میں دونوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا۔ اُرمی نے پہلے یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں شعبۂ سماجیات میں داخلہ لیا، پھر یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر منتقل ہو گئیں۔
آدتیہ نے بتایا کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یہ ان دونوں کے لیے بڑا مالی فیصلہ تھا۔ ہم نے اپنی تمام جمع پونجی اس پر لگا دی تھی۔
جوڑے کے مطابق پہلا سال بغیر کسی مسئلے کے گزر گیا۔ آدتیہ کو گرانٹس اور فنڈنگ ملتی رہی، جبکہ اُرمی کی ازدواجی زیادتی (marital rape) پر تحقیق کو بھی کافی پذیرائی ملی۔
مئی 2025 میں آدتیہ اور اُرمی نے امتیازی سلوک اور انتقامی کارروائیوں کے الزام میں وفاقی شہری حقوق کا مقدمہ دائر کیا۔ تصفیہ ہونے تک دونوں کا امریکہ واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رہا تھا۔
آدتیہ کہتے ہیں کہ واپس جانا اسی نظام اور اسی غیر یقینی ویزا کی صورتحال میں دوبارہ داخل ہونے کے مترادف ہوتا۔
اگرچہ اس کا مطلب نئی زندگی کی شروعات ہے، مگر آدتیہ کہتے ہیں کہ وہ اس کے لیے تیار ہیں:“اگر یہ کیس یہ پیغام دے سکے کہ اس طرح کی (‘کھانے پر مبنی نسل پرستی’) بغیر سزا کے جاری نہیں رہ سکتی، اور یہ کہ ہم بھارتی لوگ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے، تو یہی اصل جیت ہو گی۔




