بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں ایک گروپ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کو بحال کرنے کی کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے کنسورشیم میں ایک نئے پارٹنر کو شامل کرنے کا خواہاں ہے، جب کہ وہ گزشتہ ماہ اکثریتی حصص خرید چکا ہے۔
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کے لیے جانچ پڑتال کر رہے ہیں کہ کون ہمارے لیے حقیقی قدر لا سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پاکستانی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض پروگرام کی ایک اہم شرط پوری کرتے ہوئے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے (تقریباً 482 ملین ڈالر) میں اس گروپ کو فروخت کیے۔ پی آئی اے گزشتہ کئی برسوں سے بھاری نقصانات، زیادہ قرضوں، آپریشنل کمزوریوں، پرانے بیڑے اور سیاسی مداخلت کے باعث حکومتی بیل آؤٹس پر چل رہی تھی۔
ماضی میں ایئرلائن کو فروخت کرنے کی کوششیں ملازمین کے احتجاج اور اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے باعث ناکام ہو چکی ہیں۔
عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نے نیلامی میں پاکستان کی قومی ایئرلائن کے حصص خریدنے کی بولی جیتی تھی۔
عارف حبیب نے بتایا کہ ایئرلائن کے بیڑے کو 18 طیاروں سے بڑھا کر 38 کیا جائے گا، تاکہ آپریشنز میں توسیع اور نئی بھرتیاں کی جا سکیں۔
نئے مالکان اپریل میں آپریشنز سنبھالیں گے اور حکومتی شرائط کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو برطرف نہیں کیا جا سکے گا۔ موجودہ ملازمین کو بھی ٹیک اوور کے بعد ایک سال تک کارکردگی دکھانے کا موقع دیا جائے گا تاکہ انہیں برقرار رکھا جا سکے۔
عارف حبیب کے مطابق، عارف حبیب کارپوریشن اور فاطمہ فرٹیلائزر لمیٹڈ کے پاس مجموعی طور پر 25 فیصد حصص ہیں، جبکہ فوج کے زیر انتظام فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ کے پاس بھی اتنے ہی حصص ہیں۔ اے کے ڈی گروپ (جس کے مالک عقیل کریم ڈھیڈی ہیں)، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز کے پاس بھی 25 فیصد حصص ہیں۔
کنسورشیم کے پاس حکومت کے باقی ماندہ حصص پریمیم قیمت پر خریدنے کا اختیار بھی موجود ہے۔





