• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, جون 6, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

مجھے کیوں نکالا؟

by ویب ڈیسک
جون 6, 2026
in بلاگ
0
ممکن ہے یہ ن لیگ کا آخری اقتدار ہو،حکومت چند ماہ کی مہمان ، بچوں کے پیچھے ہاتھ باندھ کر نوکری نہیں کر سکتا، نواز شریف کے قریبی ساتھی کا ن لیگ چھوڑنے کا عندیہ
0
SHARES
13
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

شہباز شریف کی پی ڈی ایم حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد جب الیکشن کمیشن نے 2024 میں انتخابات کروانے کا اعلان کیا تو 50 روپے کے اسٹامپ پیپر پر علاج کے نام پر لندن جانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی 4 سال بعد ملک واپس تشریف لے آئے۔ جس سسٹم نے انہیں جیل سے نکال کر لندن بھجوایا تھا، وقت بدلا تو اسی سسٹم نے واپسی پر نواز شریف کی سزاؤں سمیت انتخابات میں حائل تمام قانونی رکاوٹیں بھی صاف کر دیں۔

نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کا خواب لیے ملک لوٹے تھے اور یہ خواب دیکھنا بے جا بھی نہ تھا کہ آسمانی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ 2024 کے انتخابات کے دن عوام نے وہ کر دکھایا جس کی زمین و آسمان پر دسترس کا دعویٰ رکھنے والی قوتوں کو قطعاً امید نہ تھی۔ سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کو مسندِ اقتدار پر بٹھا دیا گیا۔آسمانوں سے قربت رکھنے والوں کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران شہباز شریف نے جس درجے کی فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا تھا، آسمانی طاقتیں اس سے بہت خوش تھیں۔ انہیں نواز شریف کے ماضی کے اندازِ حکمرانی کا بخوبی تجربہ تھا کہ موصوف اپنی افتادِ طبع کے نتیجے میں کسی بھی وقت کھیل کے قوانین کو تہس نہس کر سکتے ہیں۔سو مرکز میں شہباز شریف دوبارہ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہو گئے اور نواز شریف کی دلجوئی کے لیے بیٹی مریم نواز کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سونپ دی گئی۔اب دو سال کے عرصے کے بعد نواز شریف ایک بار پھر گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں کسی عوامی سیاسی سرگرمی میں حصہ لیتے نظر آئے۔ مگر وہاں جا کر بھی نواز شریف عوام سے وہی شکوہ کرتے نظر آئے جو آج سے 9 سال قبل کیا تھا کہ "مجھے کیوں نکالا؟”نواز شریف 9 سال بعد بھی اس تکلیف کو نہیں بھول سکے کہ وہ پاناما لیکس سے متعلق مقدمات پر کیوں نکالے گئے، یا پھر اس سسٹم نے انہیں کیوں فارغ کیا جس سسٹم نے ان کے بھائی کو کرپشن الزامات کے باوجود وزارتِ عظمیٰ دی اور ان کی بیٹی کو پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ بنایا۔جی بی میں عوام سے یہ سوال کرنے کی بجائے انہیں اپنے بھائی اور بیٹی کو لانے والوں سے پوچھنا چاہیے تھا کہ بھئی، مجھے کیوں نکالا گیا؟نواز شریف جیسے سینئر سیاستدان سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ جو لاتا ہے، نکالتا بھی وہی ہے۔ عوام بیچارے تو تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔

بہت سارا شور ڈالا جاتا ہے کہ نواز شریف کو عمران خان اور مقتدرہ نے جوڈیشری پر دباؤ ڈال کر وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کروایا۔ توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ ایک وزیراعظم کو بیٹے کی ملکیتی کمپنی سے تنخواہ یا آمدن نہ لینے پر کیسے سزا دی جا سکتی ہے۔یہ ہمارے عدالتی نظام کی ستم ظریفی ہے کہ پاناما لیکس میں شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کے ذریعے لندن کی جائیدادیں خریدنے کے ثبوتوں کے باوجود جان بوجھ کر انہیں ایک ایسے کیس میں نااہل کر دیا جائے، جسے ہمارے معاشرے میں بدعنوانی کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کو بھی ایسا لگتا ہے کہ انہیں جس کیس میں نااہل کیا گیا تھا، وہ بنتا نہیں تھا۔ جہاں تک بات بیٹے کی کمپنی سے پیسے لینے کی ہے تو ایک پبلک آفس ہولڈر کا اپنے اثاثہ جات ظاہر نہ کرنا نہ صرف عوامی بلکہ قانونی طور پر بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔مگر چونکہ ہمارا نظامِ عدل انتہائی کمپرومائزڈ ہے، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلتا ہے، اس لیے اشرافیہ ہمیشہ قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے میں کامیاب رہی ہے۔شہباز شریف پر 16 ارب روپے کے کرپشن کیسز تھے اور جس دن ان پر فردِ جرم عائد ہونی تھی، اسی دن انہیں وزیراعظم بنا دیا گیا۔ سارے کیسز بھی ٹھپ ہو گئے۔سب کو کلین چٹ مل گئی، یہاں تک کہ لاہور ہائی کورٹ نے تیز ترین انصاف فراہم کرنے کی مثال قائم کرتے ہوئے مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس بند ہوتے ہی ضمانت کے لیے جمع کروائے گئے 7 کروڑ روپے واپس کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

بھائی تقریباً 4 سال سے وزیراعظم ہے اور بیٹی کو ملک کے 52 فیصد آبادی والے صوبے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالے دو سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے، مگر اپنی کارکردگی بتانے کی بجائے نواز شریف ابھی بھی 2017 میں کھڑے ہیں اور وہی سوال دہرا رہے ہیں کہ "مجھے کیوں نکالا؟”نواز شریف یہ نہیں بتاتے کہ جب خود وزیراعظم تھے تو کتنی بار پارلیمنٹ گئے؟ جس پارلیمنٹ سے نکالے جانے کی تکلیف بھول نہیں رہی، اس کو آپ نے کتنی عزت دی؟ایک ایسا وزیراعظم جو اپنے دورِ اقتدار میں ہر پانچویں دن ملک سے باہر رہا ہو، اسے بار بار ایک ہی راگ الاپنا جچتا نہیں کہ "مجھے کیوں نکالا؟”دفترِ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے 2013 سے 2016 تک اپنے تقریباً ڈھائی سالہ دورِ اقتدار میں قومی خزانے سے تقریباً 64 کروڑ روپے خرچ کر کے 65 غیر ملکی دورے کیے، جن کے دوران 631 افسران کے ہمراہ مجموعی طور پر 185 دن بیرونِ ملک گزارے۔نواز شریف سرکاری دوروں کے ساتھ ساتھ لندن اور سعودی عرب کے طویل نجی دورے بھی کرتے رہے۔ 940 دن اقتدار میں رہنے والے نواز شریف بمشکل 35 بار قومی اسمبلی گئے، اور آج بھی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے کہ "مجھے کیوں نکالا؟”جس پارلیمنٹ کی عمارت میں جانے کے لیے یہ سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں، بعد میں اسی کی بے توقیری کرتے ہیں اور پھر عوام سے شکوہ کرتے ہیں کہ ہم نکالے کیوں گئے۔چند برسوں بعد ہو سکتا ہے شہباز شریف بھی یہی کہیں کہ "میں تو بہت اچھا بچہ بنا رہا، پھر مجھے کیوں نکالا؟”

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In