حیدرآباد: بھارت کے شہر حیدرآباد میں نجی اسکول کی پرنسپل روپا ریڈی کے قتل کے ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد پولیس نے اسی اسکول کے دسویں جماعت کے دو طالب علموں کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق دونوں طالب علموں نے روپا ریڈی کو اس وقت قتل کیا جب انہوں نے ان میں سے ایک کو اپنے گھر سے چوری کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔ روپا ریڈی 11 اگست کو نلگنڈہ ضلع میں واقع اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں چاقو کے 27 وار کیے گئے۔
تحقیقات میں اہم پیش رفت روپا ریڈی کی اپنی خالہ سے آخری فون کال سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق فون پر گفتگو کے دوران روپا نے لفظ ’’بابو‘‘ کہا، جس کے فوراً بعد ان کا فون بند ہوگیا۔ چونکہ ’’بابو‘‘ عام طور پر طلبہ کو مخاطب کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے تفتیش کاروں نے اسکول کے طلبہ کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کا جائزہ لینا شروع کیا۔
پولیس نے روپا ریڈی کے قریبی افراد، اسکول اسٹاف اور طلبہ سمیت ان لوگوں سے پوچھ گچھ کی جو ان کے معمولات سے واقف تھے۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے دیکھا کہ قتل کے بعد دسویں جماعت کے دو طالب علم اچانک دوستوں کے ساتھ مہنگی پارٹیاں کرنے اور بڑی رقم خرچ کرنے لگے تھے۔
نلگنڈہ کے ایس پی شرت چندر پوار کے مطابق دونوں طالب علموں کو بدھ کی صبح حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے ایک طالب علم کے قبضے سے 1 لاکھ 51 ہزار بھارتی روپے نقد اور ایک آئی فون برآمد کیا۔ طالب علم نے ابتدا میں دعویٰ کیا کہ رقم اسے والدین نے دی تھی، تاہم فرانزک معائنے کے دوران نقد رقم پر انسانی خون کے آثار ملے۔
پولیس کے مطابق دونوں طالب علم شراب نوشی کے عادی تھے، جبکہ ان میں سے ایک کو موٹر سائیکل اور گاڑیاں چلانے کا خاص شوق تھا اور وہ جلدی پیسہ کمانا چاہتا تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ قتل سے تقریباً 15 روز قبل روپا ریڈی نے مذکورہ طالب علم کو موبائل فون اور نقد رقم رکھنے پر سرزنش کی تھی۔ اسکول انتظامیہ نے اس کے والدین کو بھی آگاہ کیا تھا اور اسے ہاسٹل سے نکال کر صرف باقاعدہ کلاسز میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
پولیس کو شبہ ہے کہ اسی واقعے کے بعد طالب علم نے روپا ریڈی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اسے معلوم تھا کہ 11 اگست کو اسکول میں فیس جمع کی جا رہی تھی اور روپا کے گھر میں بڑی رقم موجود ہوسکتی ہے۔
پولیس کے مطابق قتل کی منصوبہ بندی تقریباً پانچ روز قبل کی گئی۔ دونوں طالب علموں نے دستانے اور چاقو خریدے جبکہ علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کا بھی جائزہ لیا تاکہ شناخت سے بچ سکیں۔
11 اگست کو ایک طالب علم مبینہ طور پر دیوار پھلانگ کر روپا کے گھر میں داخل ہوا جبکہ دوسرا باہر موجود رہا۔ گھر کے اندر موجود طالب علم رقم تلاش کر رہا تھا کہ روپا ریڈی نے اسے دیکھ لیا۔ شناخت ہوجانے اور پولیس کو اطلاع دیے جانے کے خوف سے ملزم نے مبینہ طور پر ان پر چاقو سے حملہ کردیا اور 27 بار وار کرکے انہیں قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق ملزم تقریباً 2.5 لاکھ بھارتی روپے لے کر فرار ہوگیا اور ثبوت مٹانے کے لیے اپنے پہنے ہوئے کپڑے ایک نالے میں پھینک دیے۔
دونوں کم عمر ملزمان کو حراست میں لے کر جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کردیا گیا ہے، جبکہ انہیں جووینائل ہوم منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔



