• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اکتوبر 21, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

حکومت زراعت پر توجہ دے کر لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرسکتی ہے

by Ahmed Arsalan
اکتوبر 21, 2026
in بلاگ
0
نئے صوبے، پرانے اصول؟ ایک ہی ناکامی کو دہرانے کا نسخہ
0
SHARES
23
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریر : تنویر احمد

پاکستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر جاری بحث کا دائرہ بہت محدود ہے۔روزنامہ ڈان نے 19 اکتوبر کے اداریے میں پاکستان کی اپنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ تقریباً 4.6 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا بڑا حصہ فری لانسنگ، کال سینٹرز اور ابتدائی سطح کی کوڈنگ پر مشتمل ہے، ایسے کام جنہیں خودکار ٹیکنالوجی سب سے پہلے متاثر کر سکتی ہے۔یہ دونوں نکات اہم ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ معیشت کے دوسرے شعبوں میں مصنوعی ذہانت پیداوار بڑھانے کے لیے کس طرح استعمال ہو سکتی ہے۔اس کا ایک اہم جواب زراعت ہے

پاکستان کی تقریباً ایک تہائی افرادی قوت زراعت سے وابستہ ہے اور ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اس شعبے کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہے۔اس کے باوجود زرعی پیداوار کم ہے اور اس شعبے کا بنیادی وسیلہ،یعنی پانی، تیزی سے کمیاب ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے مطابق پاکستان میں گندم کی فی ہیکٹر پیداوار تقریباً 2.9 ٹن ہے، جبکہ چین میں یہی پیداوار 5.4 ٹن فی ہیکٹر ہے۔اگر اس فرق کا کچھ حصہ بھی ختم کر لیا جائے تو اس کے فوائد قلیل مدت میں آئی ٹی شعبے سے حاصل ہونے والے فوائد کے مقابلے میں کہیں زیادہ گھرانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت اس مسئلے کے حل کے لیے موزوں ہے کیونکہ زرعی شعبے کے بہت سے مسائل درست فیصلے کرنے سے متعلق ہیں۔ اگر کسی کسان کو معلوم نہ ہو کہ فصل کو کتنے پانی کی ضرورت ہے اور آبپاشی کا مناسب وقت کیا ہے تو وہ عموماً ضرورت سے زیادہ یا تاخیر سے پانی دیتا ہے۔مٹی میں نمی جانچنے والے سینسرز، مقامی موسم کی پیش گوئی اور فصلوں سے متعلق معلومات کی مدد سے سافٹ ویئر ہر کھیت کی ضرورت کے مطابق آبپاشی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

یہی طریقہ کھادوں اور زرعی ادویات کے استعمال میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ پورے کھیت میں یکساں مقدار میں کھاد یا کیڑے مار دوا ڈالنے کے بجائے انہیں صرف ان مقامات پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں فصل کو ان کی ضرورت ہو۔

ابتدائی تجربات بھی اس امکان کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان کے نتائج کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے ایک آزمائشی منصوبے میں مٹی کے سینسرز کو شمسی توانائی سے چلنے والے، مصنوعی ذہانت کے زیرِ کنٹرول ڈرِپ آبپاشی نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ کسانوں کو اس نظام کا عملی مظاہرہ دیکھنے کی دعوت بھی دی جا رہی ہے۔

اسی طرح رحیم یار خان سے متعلق ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے والے ڈرِپ آبپاشی نظام کے ذریعے پانی کی بچت 30 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ تجربات محدود پیمانے پر کیے گئے ہیں اور پانی کی بچت کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔اب تک کسی ایسے آزادانہ تقابلی مطالعے کی اشاعت بھی سامنے نہیں آئی جس میں نظام استعمال کرنے والے اور اس کے بغیر کاشت کرنے والے کسانوں کے پانی کے استعمال، پیداوار اور فی کسان لاگت کا موازنہ کیا گیا ہو۔

جب تک ایسے شواہد دستیاب نہیں ہوتے، زراعت میں مصنوعی ذہانت کے حق میں دلیل سائنسی طور پر قابلِ فہم ضرور ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ثابت شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

حکومت کو اپنی پالیسی اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دینی چاہیے۔عوامی فنڈز سے چلنے والے ہر آزمائشی منصوبے میں یہ لازمی قرار دیا جائے کہ نظام استعمال کرنے والے کھیت کا موازنہ اسی نوعیت کے ایسے کھیت سے کیا جائے جہاں یہ ٹیکنالوجی استعمال نہ ہو۔ اس موازنے میں پانی کا استعمال، فی ہیکٹر پیداوار اور فی کسان لاگت کی تفصیلات شامل ہوں اور نتائج عوام کے سامنے شائع کیے جائیں۔ یہ کوئی مشکل شرط نہیں، لیکن اس سے منصوبوں کی کامیابی کا اندازہ محض افتتاحی تقریبات اور اعلانات کے بجائے حقیقی نتائج سے لگایا جا سکے گا۔

سب سے بڑا چیلنج اس ٹیکنالوجی کو عام کسانوں تک پہنچانا ہے۔پاکستان کے بیشتر کسان چھوٹے رقبے پر کاشت کاری کرتے ہیں،جبکہ ڈرِپ آبپاشی کی پائپ لائنیں، سینسرز اور شمسی توانائی سے چلنے والے پمپ مہنگے ہیں۔دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی یکساں طور پر دستیاب نہیں۔انگریزی میں دی جانے والی ہدایات یا زیادہ انٹرنیٹ ڈیٹا استعمال کرنے والی موبائل ایپلی کیشنز بہت سے کسانوں کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہوں گی۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محققین کے ایک حالیہ مقالے میں بھی اسی مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مقالے میں بہتر ڈیجیٹل رابطوں اور مخصوص اہداف کے تحت سبسڈی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی تیار کرنا نسبتاً آسان حصہ ہے، اصل پالیسی چیلنج اس کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور کسانوں تک اس کی مؤثر رسائی ہے۔ حکومت اس میدان میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے صوبائی محکمہ زراعت اور دیہی معاونت کے ان پروگراموں سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو پہلے ہی کسانوں تک رسائی رکھتے ہیں۔ چھوٹے کاشت کاروں کو ضروری آلات کی خریداری کے لیے سبسڈی دی جائے اور اردو سمیت علاقائی زبانوں میں ایسے مشاورتی نظام تیار کیے جائیں جو مقامی موسم اور مٹی سے متعلق معلومات کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کر سکیں۔

نوٹ : تنویراحمد امریکا میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی خدمت گار ہیں۔ وہ ہلالِ امتیاز اور پرائیڈ آف پاکستان کے اعزازات کے بھی حامل ہیں

Ahmed Arsalan

Ahmed Arsalan

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In