مجھ سے دو میٹر کے فاصلے پر کھڑے نوجوان جوڑے نے اچانک بغل گیر ہو کربوس وکنار شروع کر دیا لیکن چہرے پر دونوں نے ماسک پہن رکھے تھے جن کی وجہ سے بوس کہیں تھا اور کنار کہیں اور، یوں بوس و کنار یکجا نہیں ہو پا رہے تھے۔ ایک دوسرے کو اپنی بانہوں میں لے کر وہ سرگوشیاں کر رہے تھے لیکن آواز سے زیادہ وہ اپنا مدعا آنکھوں سے ہی بیان کر پا رہے تھے۔ وقفے وقفے سے ان کے ماسک ایک دوسرے کے ہونٹوں سے اندازے کے مطابق ٹکراتے اور پھر ایک عجیب سی نا آسودگی اور تشنگی کا احساس انہیں ایک اور کوشش پر مجبور کر دیتا۔
وباء کے ان دنوں سے پہلے پیار محبت کے یہ اندازاس طرح کی مجبوریوں کے محتاج کبھی نہیں تھے، پیار کرنے والوں کے لیے طلب و رسد میں وباء نے ایک ایسا خوف پیدا کر دیا ہے کہ کوئی پیار سے دیکھے بھی تو ڈر لگتا ہے۔
یہ سارا منظر آج صبح معمول کی شاپنگ کے لیے سپر مارکیٹ پہنچنے پردیکھا۔ سپر مارکیٹ کے باہر دور تک لمبی لائنیں لگی تھیں۔ زمین پر پیلی اور کالی پلاسٹک ٹیپ سے دو دو میٹر کی دوری کا تعین کر دیا گیا تھا اور سب لوگ قطار میں لگے اپنی باری کے منتظر تھے۔ مارکیٹ کے گیٹ پر کھڑے سیکیورٹی والے ایک خریدار کے باہر نکلنے پر دوسرے کو اندر جانے کی اجازت دیتے۔ مارکیٹ کے اندر کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کی وجہ سے ایک ساتھ خریدنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
ایک بوڑھا چہرے پر ماسک لگائے نقاہت سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا دروازے تک پہنچا لیکن خود کار دروازہ نہ کھلا۔ اچانک اس کی نظر لمبی قطار پر پڑی اور وہ سوری کہہ کر اپنی باری کے لیے پیچھے قطار کی جانب بڑھا۔ سب سے آگے کھڑی عورت نے کمال مہربانی سے اسے اپنی جگہ آفر کر دی اور اس کے ساتھ ہی ہم ایک ایک لائن مزید پیچھے ہو گئے۔
ایک عجیب سی بات یہ تھی کہ ہر ایک چہرہ کسی انجانے خوف کا شکار لگا۔ لگتا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے گزرنے کے بعد انسانوں کو اس کے اثرات سے باہر نکلنے اور اس کے دکھوں بھرے مناظر کو برداشت کرنے سہنے میں ایک زمانہ لگے گا لیکن اس کے ساتھ ایک اور بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ سب لوگ جو ایک دوسرے کو دیکھ کر ہیلو ہائے اور مسکرا کر دیکھا کرتے تھے اب ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے ہیں۔ قریب کھڑے ہونے سے گھبرانے لگے ہیں یہاں کا پورا معاشرہ اس سب کا کبھی بھی عادی نہیں تھا۔
کبھی کبھی لگتا تھا کہ یہاں کے سب لوگ شاید ہفتے کے پانچ دن شاید اس لیے محنت سے کام کرتے ہیں کہ ہفتہ وار چھٹیوں کو خوب دل بھر کے انجوائے کریں۔ جمعہ کی شام کو ہوٹل، ریستوران، کلب اور شراب خانے سر شام ہی بھر جایا کرتے تھے اور لوگ خوشیوں سے جھومتے گاتے نظر آتے تھے لیکن اب اچانک ایسی نظر لگی کہ رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔ اب پولیس کو کورونا وائرس چیک پوسٹیں قائم کرنے کا کہا گیا ہے اور یہ چیک پوسٹیں کہیں بھی اور کسی بھی جگہ اچانک قائم کر دی جائیں گی اور بلا تفریق باہر گھومنے پھرنے والوں سے پوچھ گچھ کر سکیں گی کہ ان کے باہر نکلنے کا مقصد کیا تھا؟
سی سی ٹی وی کیمروں سے برطانیہ کی سڑکیں شاہراہیں بھری پڑی ہیں لیکن اب ان میں اور اضافہ کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے یہ بھی دیکھا جائے گا کہ لاک ڈاؤن کے دوران غیر ضروری دکانیں اور کاروبار کرنے والے کون لوگ ہیں تاکہ ان پر بھاری جرمانے عائدکئے جا سکیں۔ دفاتر میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے خصوصی سکینر اور کیمرے لگانے کا سوچا جا رہا ہے تاکہ دفاتر میں کام کرنے والوں کی صحت سے متعلق آگاہی حاصل کی جائے کیونکہ کسی ایک فرد کے کورونا وائرس کے شکار ہونے کے سبب تمام دفتری لوگوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی ضروری حالات میں گھر سے باہر نکل سکتے ہیں اور یہ شاپنگ صرف کھانے پینے کی اشیاء تک محدود ہو گی یا پھر مریضوں کے لیے ادویات لینے کے لیے فارمیسی تک جانے کی اجازت ہو گی، اس کے علاوہ اگر کسی کو اپنے ہمسائے میں بار بی کیو پارٹیز یا دوستوں کی محفلوں کا پتہ چلے تو وہ پولیس کو اطلاع دے کیونکہ اس طرح کرنے سے وائرس بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انڈیا کے صوبہ بہارمیں 1903ء میں پیدا ہونے والے جارج آرویل نے 1984 کے نام سے اپنا شہرہ آفاق ناول 1949 میں لکھا۔ یہ ناول اس نے ایک ایسی سو سائٹی کو سامنے رکھ کر لکھا جو مستقبل کے سنسر شپ، زبان، اظہار، سوچ پر پابندی اور ہر لمحہ کیمروں کی زد میں رہنے والوں اور بگ برادر کو جواب دہ ہونے کا بیان کرتی ہے۔ وہاں انسان ایک نظر نہ آنے والے بگ برادر کے خوف میں مبتلا ہے اور انسان ذاتی زندگی، سوچ، اپنی پسند اور محبتوں کے اظہار کو ممکن نہیں بنا پاتا۔
ابھی ایک اخبار نے لکھا ہے کہ سروے کے مطابق اب بھی لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہیں اور گلے بھی ملتے ہیں، ان لوگوں کی تعداد کہنے کو تو 8 فیصد ہے لیکن یہ 8 فیصد لوگ کل آبادی کے تیس لاکھ لوگ بن جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے انسانوں کو فاصلے پر رکھنے کی اس مہم میں کورونا وائرس نے بگ برادر کا کام آسان کر دیا ہے۔
سوچتا ہوں کہ ہم اس وباء کی وجہ سے جارج آرویل کے کرداروں کی طرح بگ برادر کے آگے جوابدہ ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ یہ سب وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے کیا جا رہا ہے اور ہم یقینی طور پر یہ نہیں چاہیں گے کہ آپ لوگ گھر سے باہر قدم رکھیں اور بگ برادر کے نمائندے کی طرح ایک پولیس آفیسر آپ کے دروازے سے باہر قدم نکالتے ہی پوچھے کہ ”آپ کہاں جا رہے ہیں؟“
