• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

جارج آرویل کا ناول 1984 اور بگ برادر سوسائٹی

by sohail
مارچ 28, 2020
in کالم
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مجھ سے دو میٹر کے فاصلے پر کھڑے نوجوان جوڑے نے اچانک بغل گیر ہو کربوس وکنار شروع کر دیا لیکن چہرے پر دونوں نے ماسک پہن رکھے تھے جن کی وجہ سے بوس کہیں تھا اور کنار کہیں اور، یوں بوس و کنار یکجا نہیں ہو پا رہے تھے۔ ایک دوسرے کو اپنی بانہوں میں لے کر وہ سرگوشیاں کر رہے تھے لیکن آواز سے زیادہ وہ اپنا مدعا آنکھوں سے ہی بیان کر پا رہے تھے۔ وقفے وقفے سے ان کے ماسک ایک دوسرے کے ہونٹوں سے اندازے کے مطابق ٹکراتے اور پھر ایک عجیب سی نا آسودگی اور تشنگی کا احساس انہیں ایک اور کوشش پر مجبور کر دیتا۔

وباء کے ان دنوں سے پہلے پیار محبت کے یہ اندازاس طرح کی مجبوریوں کے محتاج کبھی نہیں تھے، پیار کرنے والوں کے لیے طلب و رسد میں وباء نے ایک ایسا خوف پیدا کر دیا ہے کہ کوئی پیار سے دیکھے بھی تو ڈر لگتا ہے۔

یہ سارا منظر آج صبح معمول کی شاپنگ کے لیے سپر مارکیٹ پہنچنے پردیکھا۔ سپر مارکیٹ کے باہر دور تک لمبی لائنیں لگی تھیں۔ زمین پر پیلی اور کالی پلاسٹک ٹیپ سے دو دو میٹر کی دوری کا تعین کر دیا گیا تھا اور سب لوگ قطار میں لگے اپنی باری کے منتظر تھے۔ مارکیٹ کے گیٹ پر کھڑے سیکیورٹی والے ایک خریدار کے باہر نکلنے پر دوسرے کو اندر جانے کی اجازت دیتے۔ مارکیٹ کے اندر کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کی وجہ سے ایک ساتھ خریدنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ایک بوڑھا چہرے پر ماسک لگائے نقاہت سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا دروازے تک پہنچا لیکن خود کار دروازہ نہ کھلا۔ اچانک اس کی نظر لمبی قطار پر پڑی اور وہ سوری کہہ کر اپنی باری کے لیے پیچھے قطار کی جانب بڑھا۔ سب سے آگے کھڑی عورت نے کمال مہربانی سے اسے اپنی جگہ آفر کر دی اور اس کے ساتھ ہی ہم ایک ایک لائن مزید پیچھے ہو گئے۔

ایک عجیب سی بات یہ تھی کہ ہر ایک چہرہ کسی انجانے خوف کا شکار لگا۔ لگتا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے گزرنے کے بعد انسانوں کو اس کے اثرات سے باہر نکلنے اور اس کے دکھوں بھرے مناظر کو برداشت کرنے سہنے میں ایک زمانہ لگے گا لیکن اس کے ساتھ ایک اور بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ سب لوگ جو ایک دوسرے کو دیکھ کر ہیلو ہائے اور مسکرا کر دیکھا کرتے تھے اب ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے ہیں۔ قریب کھڑے ہونے سے گھبرانے لگے ہیں یہاں کا پورا معاشرہ اس سب کا کبھی بھی عادی نہیں تھا۔

کبھی کبھی لگتا تھا کہ یہاں کے سب لوگ شاید ہفتے کے پانچ دن شاید اس لیے محنت سے کام کرتے ہیں کہ ہفتہ وار چھٹیوں کو خوب دل بھر کے انجوائے کریں۔ جمعہ کی شام کو ہوٹل، ریستوران، کلب اور شراب خانے سر شام ہی بھر جایا کرتے تھے اور لوگ خوشیوں سے جھومتے گاتے نظر آتے تھے لیکن اب اچانک ایسی نظر لگی کہ رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔ اب پولیس کو کورونا وائرس چیک پوسٹیں قائم کرنے کا کہا گیا ہے اور یہ چیک پوسٹیں کہیں بھی اور کسی بھی جگہ اچانک قائم کر دی جائیں گی اور بلا تفریق باہر گھومنے پھرنے والوں سے پوچھ گچھ کر سکیں گی کہ ان کے باہر نکلنے کا مقصد کیا تھا؟

سی سی ٹی وی کیمروں سے برطانیہ کی سڑکیں شاہراہیں بھری پڑی ہیں لیکن اب ان میں اور اضافہ کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے یہ بھی دیکھا جائے گا کہ لاک ڈاؤن کے دوران غیر ضروری دکانیں اور کاروبار کرنے والے کون لوگ ہیں تاکہ ان پر بھاری جرمانے عائدکئے جا سکیں۔ دفاتر میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے خصوصی سکینر اور کیمرے لگانے کا سوچا جا رہا ہے تاکہ دفاتر میں کام کرنے والوں کی صحت سے متعلق آگاہی حاصل کی جائے کیونکہ کسی ایک فرد کے کورونا وائرس کے شکار ہونے کے سبب تمام دفتری لوگوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی ضروری حالات میں گھر سے باہر نکل سکتے ہیں اور یہ شاپنگ صرف کھانے پینے کی اشیاء تک محدود ہو گی یا پھر مریضوں کے لیے ادویات لینے کے لیے فارمیسی تک جانے کی اجازت ہو گی، اس کے علاوہ اگر کسی کو اپنے ہمسائے میں بار بی کیو پارٹیز یا دوستوں کی محفلوں کا پتہ چلے تو وہ پولیس کو اطلاع دے کیونکہ اس طرح کرنے سے وائرس بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انڈیا کے صوبہ بہارمیں 1903ء میں پیدا ہونے والے جارج آرویل نے 1984 کے نام سے اپنا شہرہ آفاق ناول 1949 میں لکھا۔ یہ ناول اس نے ایک ایسی سو سائٹی کو سامنے رکھ کر لکھا جو مستقبل کے سنسر شپ، زبان، اظہار، سوچ پر پابندی اور ہر لمحہ کیمروں کی زد میں رہنے والوں اور بگ برادر کو جواب دہ ہونے کا بیان کرتی ہے۔ وہاں انسان ایک نظر نہ آنے والے بگ برادر کے خوف میں مبتلا ہے اور انسان ذاتی زندگی، سوچ، اپنی پسند اور محبتوں کے اظہار کو ممکن نہیں بنا پاتا۔

ابھی ایک اخبار نے لکھا ہے کہ سروے کے مطابق اب بھی لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہیں اور گلے بھی ملتے ہیں، ان لوگوں کی تعداد کہنے کو تو 8 فیصد ہے لیکن یہ 8 فیصد لوگ کل آبادی کے تیس لاکھ لوگ بن جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے انسانوں کو فاصلے پر رکھنے کی اس مہم میں کورونا وائرس نے بگ برادر کا کام آسان کر دیا ہے۔

سوچتا ہوں کہ ہم اس وباء کی وجہ سے جارج آرویل کے کرداروں کی طرح بگ برادر کے آگے جوابدہ ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ یہ سب وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے کیا جا رہا ہے اور ہم یقینی طور پر یہ نہیں چاہیں گے کہ آپ لوگ گھر سے باہر قدم رکھیں اور بگ برادر کے نمائندے کی طرح ایک پولیس آفیسر آپ کے دروازے سے باہر قدم نکالتے ہی پوچھے کہ ”آپ کہاں جا رہے ہیں؟“

sohail

sohail

Next Post
کورونا وائرس وبا کے دوران دنیا بھر میں آزاد میڈیا پر حملے

کورونا وائرس وبا کے دوران دنیا بھر میں آزاد میڈیا پر حملے

حکومت کورونا کے اعداد و شمار چھپا رہی ہے، پانی سر سے گزر چکا، پمز کے ڈاکٹر کا دعویٰ

حکومت کورونا کے اعداد و شمار چھپا رہی ہے، پانی سر سے گزر چکا، پمز کے ڈاکٹر کا دعویٰ

امریکی حکومت کے لیے ایک اور پریشانی، کورونا وائرس جیلوں تک پہنچ گیا

امریکی حکومت کے لیے ایک اور پریشانی، کورونا وائرس جیلوں تک پہنچ گیا

بھارت میں کورونا پھیلانے والے مذہبی رہنما کی ہلاکت کے بعد 15 ہزار افراد قرنطینہ میں داخل

بھارت میں کورونا پھیلانے والے مذہبی رہنما کی ہلاکت کے بعد 40 ہزار افراد قرنطینہ میں داخل

دنیا کے چار ممالک جنہوں نے پابندیاں لگائے بغیر کورونا کا پھیلاؤ روک دیا

دنیا کے چار ممالک جنہوں نے پابندیاں لگائے بغیر کورونا کےخلاف کامیابی حاصل کی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In