• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا وبا غریب ممالک میں کتنی تباہی پھیلا سکتی ہے؟

by sohail
اپریل 2, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
کورونا وبا غریب ممالک میں کتنی تباہی پھیلا سکتی ہے؟
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ترقی یافتہ ممالک میں صحت کا نظام کورونا وبا کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ دنیا کے بہترین طبی نظام کے حامل ممالک اٹلی، اسپین، امریکہ میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مگر ترقی پذیر اور غریب ممالک بہت بھیانک خطرے سے دوچار ہیں کیونکہ ان کا صحت کا نظام عام حالات میں بھی درست کام نہیں کرتا اور اب انہیں کورونا جیسی وبا کا سامنا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مغربی افریقہ کے 48 لاکھ آبادی کے ملک لائبیریا کے پاس صرف تین وینٹی لیٹرز ہیں۔ اس ملک میں کورونا وائرس وبا کے دوران تین سے زائد افراد کو اس مشین کی ضرورت پڑ گئی تو کیا ہو گا؟

اس طرح پاکستان میں 22 کروڑ آبادی کیلئے صرف 2200 وینٹی لیٹرز ہیں جن میں سے کورونا وائرس مریضوں کیلئے ایک ہزار کے لگ بھگ دستیاب ہوں گے۔

امریکہ وینٹی لیٹرز کی شدید کمی کا شکار، میڈیا حکومت پر برس پڑا

کورونا وبا دنیا بھر میں حکومتیں تبدیل کر سکتی ہے

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کیا مسائل درپیش ہیں؟

طبی ماہرین کے مطابق آنیوالے مہنیوں میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد خوفناک ہو گی۔ ترقی یافتہ ممالک میں اموات کا اندازہ لاکھوں میں بتایا جا رہا ہے۔

اب تو امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکیوں کو بتادیا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے امریکہ میں ڈھائی لاکھ تک اموات ہوسکتی ہیں۔

ماضی کی وباؤں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ترقی پذیر غریب ممالک میں وبائیں بہت بڑے پیمانے پر تباہی مچاتی ہیں۔

اس لیے طبی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کورونا وبا سے ترقی پذیر ممالک میں یورپی ممالک اور امریکہ سے کہیں زیادہ تباہی مچ سکتی ہے۔

1918ء کے وبائی فلو میں ڈھائی کروڑ سے دس کروڑ کے درمیان ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس وبا سے متحدہ ہندوستان میں سوا کروڑ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ گولڈ کوسٹ(موجودہ گھانا) کی اس وقت کی 20 لاکھ آبادی میں سے ایک لاکھ لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ ماہرین موجودہ کورونا وبا میں بھی اسی طرح کے اندازوں کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک میں کورونا وائرس اٹلی، امریکہ، اسپین کی طرح پھیل گیا تو انکے پاس ان ممالک جیسی طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ امریکہ میں 2800 لوگوں کیلئے ایک آئی سی یو بیڈ کی سہولت دستیاب ہے جبکہ یوگنڈا میں دس لاکھ لوگوں کیلئے ایک آئی سی یو بیڈ موجود ہے۔

اسی طرح مڈگاسکر میں ایک لاکھ لوگوں کیلئے دس ڈاکٹرز ہیں جبکہ امریکہ میں 295 افراد کیلئے اتنے ہی ڈاکٹرز دستیاب ہیں۔ کورونا کے شکار غریب ممالک میں اکثر لوگوں کیلئے ہینڈسینیٹائزر خریدنا مشکل ہے۔

کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاں‌لائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں

کورونا وبا کا خاتمہ کیسے ہو گا؟ تین امکانات سامنے آ گئے

ترقی پذیر ممالک کے پاس کورونا وائرس کے نتائج کم کرنے کیلئے لوگوں کو الگ تھلگ کرنے کی حکومتی صلاحیت کا بھی فقدان ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں لوگوں کو سختی سے الگ تھلگ کیا گیا تو فاقہ کشی کی صورت میں برے نتائج نکل سکتے ہیں۔

برطانوی حکومت کی جانب سے الگ تھلگ ہونیوالے 15 لاکھ افراد کو کھانا اور دوائیں مہیا کی جارہی ہیں مگر ٹوگو جیسا ملک اپنے شہریوں کو ایسی سہولیات دینے کاشاید سوچ بھی نہ سکے۔

اسی طرح غریب ممالک میں کچھ شعبے تو آن لائن منتقل کئے جا سکتے ہیں مگر انڈیا، افریقہ اور دیگر کئی ایشیائی ممالک میں چھابڑی فروش اور کچی آبادیوں سے ملحق مارکیٹیں آن لائن نہیں کی جا سکتیں۔ بنگلہ دیش کی فیکٹریاں سماجی دوری پر عمل نہیں کرا سکتیں۔

غریب اور ترقی پزیر ممالک کیلئے وبا کی روک تھام بھی ایک چیلنج ثابت ہو رہی ہے۔ ان ممالک میں لوگ عبادت گاہوں کی بندش کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں۔

سینیگال میں مساجد بند کی گئیں تو بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ ایران میں مزاروں کی بندش پر مظاہرے کئے گئے۔

ان ترقی پذیر ممالک کے حوالے سے کچھ اچھی خبریں بھی ہیں۔ بہت سے غریب ممالک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ابھی بہت کم ہے۔

بلاشبہ ترقی یافتہ ممالک کی حکومتوں کو سب سے پہلے اپنے شہریوں کو بچانا چاہئے مگر دنیا کے غریب ممالک کیلئے ایک فنڈ کے قیام سے وینٹی لیٹرز اور دیگر حفاظتی سامان کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح فاقہ کشی کے خطرات سے دوچار جگہوں کیلئے امداد کی کوششیں ہونا چاہئیں۔ جو امیر ممالک کورونا وائرس وبا پر قابو پالیں انہیں چاہئے کہ اپنا اسٹاف اور سامان کورونا سے لڑنے والے غریب ممالک کو دیں۔

Tags: ترقی پذیر ممالک میں کورونا کی وباکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post
چین کے ایک شہر میں کتے اور بلیاں کھانے پر پابندی عائد

چین کے ایک شہر میں کتے اور بلیاں کھانے پر پابندی عائد

نفیس جذبوں کی داستان: کورونا کا مریض بیٹی سے جھوٹ بولتا رہا

نفیس جذبوں کی داستان: کورونا کا مریض بیٹی سے جھوٹ بولتا رہا

ہمارے نواب صاحب - دوسری اور آخری قسط

چھنڈ آندی سی چھنڈ لیندے ساں

کورونا وبا:بل گیٹس مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی زد میں

کورونا وبا:بل گیٹس مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی زد میں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In