چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شینزن کے حکام نے کورونا وائرس کے بعد کتوں اور بلیوں کے گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
سائنسدانوں نے اس شبہ کا اظہار کیا ہے کہ کورونا وائرس جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا ہے
کورونا وائرس کے ابتدائ کیسز چین کے شہر ووہان میں سامنے آئے جہاں مخلتف جانوروں کے گوشت کی بڑی مارکیٹیں واقع ہیں
چینی کے جنوب میں واقع ٹیکنالوجی مرکز کے حکام نے بتایا ہے کہ کتے اور بلیوں کے کھانے پر پابندی یکم مئی سے نافذ العمل ہوگی۔
کورونا وائرس کا آغاز چین سے نہیں اٹلی سے ہوا؟ نئے حیران کن حقائق منظرعام پر
چین کے 21 سالہ کورونا مریض ٹائیگر یی کی کہانی، جسے زندگی موت سے واپس چھین لائی
کورونا وائرس انسانوں سے پالتو جانوروں میں منتقل ہونے لگا
شہر کی حکومت نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے حکم میں لکھا ہے کہ کتے اور بلیاں دوسرے جانوروں کی نسبت انسانوں کے ساتھ بہت قریبی رشتہ استوار کیے ہوتے ہیں لہذا ان پر اور دوسرے پالتو جانوروں کے استعمال پر پابندی عائد کرنا ہانگ کانگ اور تائیوان میں عام رواج ہے۔
فروری میں چین کے اعلیٰ سطح کے قانون سازوں نے کہا تھا کہ وہ جنگلی جانوروں کی تجارت پر پابندی لگا رہے ہیں۔
ملک بھر کی دوسری صوبائی اور شہری حکومتیں بھی اس فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
یاد رہے کہ اس وقت تک دنیا بھر میں کورونا وائرس وبا نے 9 لاکھ 35 ہزار افراد کو متاثر کیا ہے جن میں سے 47 ہزار کی موت واقع ہو چکی ہے۔

