کورونا وائرس وبا کے دوران دنیا کے امیرترین شخص بل گیٹس پر امریکی میڈیا کی جانب سے مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
مائیکروسافٹ کے بانی اور اپنی اہلیہ کے ہمراہ ’بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘ چلانے والے اس کھرب پتی شخص پر کورونا وائرس وبا کے دوران ایک طرف دنیا کو ڈرانے اور دوسری جانب منافع کمانے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز میں ’شیرل کے چملی‘ کی جانب سے ایک آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ بل گیٹس نے پورے امریکہ کو بند کرنے اور قرنطینہ میں رکھنے کا کہا ہے اور یہ وہ شخص کہہ رہا جس نے کورونا وائرس وبا میں خوف کے ماحول میں کروڑوں ڈالرز بنائے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ بڑے ڈونر ہونے کی وجہ سے بل گیٹس عملی طور پر عالمی ادارہ صحت میں پالیسیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔
بل گیٹس نے”واشنگٹن پوسٹ“ میں لکھتے ہوئے کہا تھا کہ طبی ماہرین کی جانب سے روکے جانے کے باوجود امریکہ کی کچھ ریاستوں اور کاؤنٹیز کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔
انہوں نے لکھا تھا کہ کچھ علاقوں میں ساحلی علاقہ جب کہ کچھ میں ریستوران کھلے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو تباہی کا نسخہ قرار دیا تھا۔
بل گیٹس نے کہا تھا کہ جب تک امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی نہیں ہو جاتی تب تک سب کچھ بند رہنا چاہئے۔
کورونا وائرس کے باعث امریکہ شدید بیروزگاری کے چنگل میں
کیا گرمی کے موسم میں کورونا وائرس ختم ہوجائے گا؟
کورونا وبا غریب ممالک میں کتنی تباہی پھیلا سکتی ہے؟
ان کے مطابق اس عمل میں دس ہفتے یا اس سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے، اس دوران کسی کو معمول کے مطابق کام جاری نہیں رکھنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ کورونا وائرس کے اثرات اگلے ڈیڑھ برس تک رہ سکتے ہیں جب تک کہ اسکے خلاف ویکسین تیار نہیں ہوتی۔
واشنگٹن ٹائمز کی جانب سے بل گیٹس کی ان تجاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محل نما گھروں کے مالک ارب پتی افراد کیلئے تو امریکہ کی بندش کوئی مسئلہ نہیں مگر ان نائب قاصدوں کا کیا ہوگا جن کیلئے کام انتخاب کی بجائے بقا اور کھانا ہے۔
شیرل کے چملی کی جانب سے مزید لکھا گیا ہے کہ ’بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے ’دی میکسیکو فنڈ‘ میں سرمایہ کاری سامنے آئی ہے۔
کورونا وائرس وبا کے بحران کے دوران میکسیکو فنڈکے نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز 42 فیصد تک گر گئے تھے جس کے بعد بل گیٹس کی فاؤنڈیشن نے اس میں سرمایہ کاری کر لی ہے اور فنڈ کے مالکان میں شامل ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسی سرمایہ کاری کرنیوالا بل گیٹس عالمی ادارہ صحت(WHO) کو فنڈنگ کرنیوالوں میں سرفہرست ہے۔ عالمی ادارہ صحت دنیا بھر کی حکومتوں کو وباؤں بارے خبردار کرتی ہے اور مشاورت سے نوازتی ہے۔
واشنگٹن ٹائمز کی جانب سے بل گیٹس کی اس سرمایہ کاری پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ”منافع،منافع اور منافع“ قرار دیا گیا ہے۔ اخبار نے کہا ہے کہ یہ سستے داموں خرید کے مہنگے داموں فروخت کرو والی بات ہے۔
شیرل کے چملی کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ اور نے کئی ہفتوں تک کورونا وائرس کو وبا قرار نہیں دیا تھا جبکہ بل گیٹس کی خواہش تھی کہ عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کو وبا قرار دے گا۔
ان کے مطابق جب بل گیٹس نے ڈبلیو ایچ اور کو ایک بڑی رقم عطیہ کی تو اس کے بعد کورونا وائرس کو وبا قرار دیا گیا۔
پولیٹیکو میں 2017ء کو چھپنے والے ایک آرٹیکل میں کہا گیا تھا کہ کچھ ارب پتی جزیرے خریدنا چاہتے ہیں مگر بِل گیٹس نے جینیوا میں اقوام متحدہ کی ہیلتھ ایجنسی خرید لی ہے۔
اس آرٹیکل میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ دہائی کے دوران بل گیٹس امریکہ کے بعد عالمی ادارہ صحت کے سب سے بڑے ڈونر بن چکے ہیں۔
