• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

نفیس جذبوں کی داستان: کورونا کا مریض بیٹی سے جھوٹ بولتا رہا

by sohail
اپریل 2, 2020
in تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
نفیس جذبوں کی داستان: کورونا کا مریض بیٹی سے جھوٹ بولتا رہا
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

برطانوی ڈاکٹر کو افریقہ سے واپسی پر کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں تو اس نے گھر سے کچھ فاصلے پر تنہائی میں رہنا شروع کر دیا اور چار سالہ بیٹی کو یہ بتاتا رہا کہ وہ ابھی تک افریقی جنگلوں میں موجود ہے۔

برطانوی اخبار مرر کے مطابق ڈاکٹر جولین بے ایتھوپیا سے واپس آیا تو اسے کورونا کی علامات ظاہر ہونے لگیں جس پر وہ گھر جانے کے بجائے سامنے کھڑی اپنی ویگن میں تنہائی میں رہنے لگا۔

اس دوران وہ اپنی بیٹی پوپی کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے یہی بتاتا رہا کہ وہ ابھی تک افریقہ میں موجود ہے۔

اپنے جھوٹ کو نبھانے کے لیے اس نے ویگن کے اوپر اور خصوصاً شیشوں کو ایسے سبز کپڑے سے ڈھانپ دیا جس کے باعث اسکائپ پر ویڈیو میں جنگل کا ماحول نظر آ سکے۔

کورونا وائرس کی شکار برطانیہ کی پاکستانی نژاد نرس اریمہ نسرین کی کہانی

بے احتیاطی رنگ لائی، برطانوی وزیراعظم بھی کورونا وائرس کا شکار

کورونا وائرس: بند سرحدوں کے کنارے محبت کی داستان نے سب کے دل چھو لیے

سبز کپڑے کے باعث ویڈیو کے ذریعے گفتگو کے دوران اس کی بیٹی یہی سمجھتی رہی کہ وہ کسی جنگل میں بیٹھا ہے۔

 جولین بے لس کے مطابق اس نے اپنی چار سالہ بیٹی سے اس لیے جھوٹ بولا کہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے اور یہ بات نہیں سمجھ پائے گی کہ گھر کے باہر ہونے کے باوجود وہ اسے کیوں نہیں ملنا چاہتا۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پوپی کو کسی بھی قسم کی پریشانی سے محفوظ رکھنے کے لیے یہی بتاتا رہا کہ وہ ابھی واپس نہیں آیا۔

اس نے کہا کہ اگر وہ اپنی بیٹی کو بتا دیتا کہ وہ گھر کے باہر 300 میٹر کے فاصلے پر ہی ویگن میں قرنطینہ میں ہے تو اس کی بیٹی ملنے آتی، گلے ملنے کی کوشش کرتی، بوسہ کرنے کا بھی کہتی مگر کورونا کی علامات کی وجہ سے وہ ایسا کر نہیں سکتا تھا۔

کورونا وائرس کا علاج کرنے والے برطانوی ڈاکٹر کی درد بھری داستان

کورونا وبا غریب ممالک میں کتنی تباہی پھیلا سکتی ہے؟

ڈاکٹر نے کہا کہ پوپی ابھی اتنی کم عمر ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتی جس کی وجہ سے وہ مزید پریشان ہو سکتی تھی۔

تنہائی میں 14 دن گزارنے کے بعد جولین بے لس جب اپنی بیٹی کو ملا تو اسے بتایا کہ اس کی ماں کیسے روزانہ کھانا لاتی رہی اور وہ کیسے ڈرون کیمرہ کے ذریعے ان کو دیکھتا رہا تھا۔

Tags: برطانیہ میں‌ کورونا وائرسکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

ہمارے نواب صاحب - دوسری اور آخری قسط

چھنڈ آندی سی چھنڈ لیندے ساں

کورونا وبا:بل گیٹس مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی زد میں

کورونا وبا:بل گیٹس مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی زد میں

ٹرک سے مذہبی جماعت کے 19 افراد برآمد

ٹرک سے مذہبی جماعت کے 19 افراد برآمد

پنجاب کے مزاروں کی کمائی سے ہر سال ایک اسپتال بن سکتا ہے

پنجاب کے مزاروں کی کمائی سے ہر سال ایک اسپتال بن سکتا تھا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In