برطانوی ڈاکٹر کو افریقہ سے واپسی پر کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں تو اس نے گھر سے کچھ فاصلے پر تنہائی میں رہنا شروع کر دیا اور چار سالہ بیٹی کو یہ بتاتا رہا کہ وہ ابھی تک افریقی جنگلوں میں موجود ہے۔
برطانوی اخبار مرر کے مطابق ڈاکٹر جولین بے ایتھوپیا سے واپس آیا تو اسے کورونا کی علامات ظاہر ہونے لگیں جس پر وہ گھر جانے کے بجائے سامنے کھڑی اپنی ویگن میں تنہائی میں رہنے لگا۔
اس دوران وہ اپنی بیٹی پوپی کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے یہی بتاتا رہا کہ وہ ابھی تک افریقہ میں موجود ہے۔
اپنے جھوٹ کو نبھانے کے لیے اس نے ویگن کے اوپر اور خصوصاً شیشوں کو ایسے سبز کپڑے سے ڈھانپ دیا جس کے باعث اسکائپ پر ویڈیو میں جنگل کا ماحول نظر آ سکے۔
کورونا وائرس کی شکار برطانیہ کی پاکستانی نژاد نرس اریمہ نسرین کی کہانی
بے احتیاطی رنگ لائی، برطانوی وزیراعظم بھی کورونا وائرس کا شکار
کورونا وائرس: بند سرحدوں کے کنارے محبت کی داستان نے سب کے دل چھو لیے
سبز کپڑے کے باعث ویڈیو کے ذریعے گفتگو کے دوران اس کی بیٹی یہی سمجھتی رہی کہ وہ کسی جنگل میں بیٹھا ہے۔
جولین بے لس کے مطابق اس نے اپنی چار سالہ بیٹی سے اس لیے جھوٹ بولا کہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے اور یہ بات نہیں سمجھ پائے گی کہ گھر کے باہر ہونے کے باوجود وہ اسے کیوں نہیں ملنا چاہتا۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پوپی کو کسی بھی قسم کی پریشانی سے محفوظ رکھنے کے لیے یہی بتاتا رہا کہ وہ ابھی واپس نہیں آیا۔
اس نے کہا کہ اگر وہ اپنی بیٹی کو بتا دیتا کہ وہ گھر کے باہر 300 میٹر کے فاصلے پر ہی ویگن میں قرنطینہ میں ہے تو اس کی بیٹی ملنے آتی، گلے ملنے کی کوشش کرتی، بوسہ کرنے کا بھی کہتی مگر کورونا کی علامات کی وجہ سے وہ ایسا کر نہیں سکتا تھا۔
کورونا وائرس کا علاج کرنے والے برطانوی ڈاکٹر کی درد بھری داستان
کورونا وبا غریب ممالک میں کتنی تباہی پھیلا سکتی ہے؟
ڈاکٹر نے کہا کہ پوپی ابھی اتنی کم عمر ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتی جس کی وجہ سے وہ مزید پریشان ہو سکتی تھی۔
تنہائی میں 14 دن گزارنے کے بعد جولین بے لس جب اپنی بیٹی کو ملا تو اسے بتایا کہ اس کی ماں کیسے روزانہ کھانا لاتی رہی اور وہ کیسے ڈرون کیمرہ کے ذریعے ان کو دیکھتا رہا تھا۔

