• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

ہمارے نواب صاحب – دوسری اور آخری قسط

by sohail
اپریل 2, 2020
in کالم
4
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

(دوسری اور آخری قسط)

(نواب یوسف ٹالپر سابق وزیر زراعت کی ماتحتی میں گزارے ہوئے ایام سرکاری کی یادیں)

 کاٹن اسٹینڈرڈ انسٹی ٹیوٹ کی بدقسمتی وہی تھی جو کہ بین الاقوامی قرضے سے قائم ہونے والے اکثر پراجیکٹس کی ہوتی ہے۔ پراجیکٹ کے دفتر میں تین سو کے قریب گریڈ سولہ کے ایسے افسر بھرتی تھے جن کی نشست کینٹین میں ہوتی تھی۔ وہ بھی شفٹوں میں۔ شام چھ بجے تک تین شفٹیں۔ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود یہ سب دوسری ملازمتیں بھی کرتے تھے۔ یہ سب کاٹن کی کاشت میں بہتری کے ذمہ دار تھے۔ اکثر نے کاٹن کا پودا نہ دیکھا تھا۔ ان کی تقرری کراچی میں تھی۔ کاٹن البتہ کراچی سے کم از کم سو میل دور بوئی جاتی ہے۔ اس کی قیمتی حساس مشینری پانچ سال سے موسم کے مظالم برداشت کر کے لان میں ڈھیر تھی۔

ایک دن دستک ہوئی۔ دراوازہ کھلا ہم چونکہ نواب صاحب کو مختلف تقریبات میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بطور ایڈیشنل سیکرٹری دیکھ چکے تھے لہذا حیر ت نہ ہوئی۔ آہستہ سے کہنے لگے آئی ایم یوسف، یوسف ٹالپر

ساتھ آنے کی دعوت دی اور انکوائری آرڈر کر دی۔

ڈاکٹر صاحب کا اور نواب صاحب کا عجب ساتھ تھا۔ دونوں کو دیگر وزراء سے بہتر کارکردگی کے باوجود کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم بے نظیر صاحبہ کی جانب سے بہت ڈانٹ پڑتی تھی۔ ایک دن بی بی کو لگا کہ ڈاکٹر صاحب پر یہ ڈانٹ گراں گزری ہے۔ انہیں اکیلے میں بلا کر کہنے لگیں کہ تم میرے سیکرٹریز میں لباس کے بارے میں سب سے لاپرواہ ہو تو ڈاکٹر صاحب نے ترنت جواب دیا کہ وہ اپنی فائلز پر زیادہ اور کپڑوں پر کم محنت کرتے ہیں۔ ہنس کر کہنے لگیں تم اور تمہارے وزیر محترم کی میں دل سے قدر کرتی ہوں۔ تم نے زراعت کے میدان میں بہت کام کیا ہے۔

نواب صاحب چونکہ سندھ کے بہت بڑے زمیندار ہیں اس لیے انہیں زراعت کی خوب خبر تھی۔

 بہت سے اہم واقعات میں سے صرف دو سناکر ہم اس مضمون کو لپیٹ دیتے ہیں۔ اس سے ان دونوں حضرات کے تعلقات کی گہرائی کا اندازہ ہو گا۔

ایک دن ہم وزارت خوراک و زراعت کے دفتر پہنچے تو ڈاکٹر صاحب کو کسی میٹنگ میں جانا تھا۔ ہم اپنے ساتھی ریاض چودہری ڈپٹی سیکرٹری کے کمرے میں گئے تو وہ سر پکڑے بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اندھا اعتماد کر کے ایک فائل منظور کر دی تھی۔ چالاکی یہ ہوئی تھی کہ نوٹ جوائنٹ سیکرٹری کے دفتر سے بھیجا گیا تھا۔ ان کے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل شفیع سے بہت قریبی مراسم تھے۔ پلانٹ پروٹیکشن کے فرائض میں زرعی ادویات کی رجسٹریشن کی ذمہ داری تھی۔

 سنا کیم نامی زرعی ادویات کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے انہیں جنوبی افریقہ اپنی فیکٹری کے دورے کی دعوت دی تھی۔ معائنے کے لیے کمپنی کے خرچے پر حضرت نے بیس دن دورے کا پروگرام بنایا تھا۔ روٹ اور عیاشی ملاحظہ ہو ۔۔ فرسٹ کلاس ٹکٹ کراچی تا سنگاپور، سنگاپور تا جوہانسبرگ۔ جوہانسبرگ، لاس اینجلس، دبئی اور پھر کراچی۔ ساتھ ہی دس دن بیٹی سے امریکہ میں ملنے کی چھٹی کی درخواست بھی تھی جو اسی دورے سے نتھی تھی۔

کمپنی کی زرعی ادویات کے برآمد کے نمونے انہی نے پاس کرنے تھے لہذا وہ تو انہیں چاند پر بھی بھیج دیتی۔ دورے کی یہ تٖفصیلات فائل کے اندر چھپی تھیں۔ اوپر نوٹ میں صرف اتنا لکھا تھا کہ جنوبی افریقہ اور اس سے زرعی ادویات کے ضوابط اور معیار پہلے سے طے نہیں لہذا یہ دورہ بہت تفصیلی اور اہمیت کا حامل ہے ۔ حکومت پاکستان پر چونکہ کسی قسم کی مالی ذمہ داری نہیں۔ ان کی چھٹی اور دورے کی اجازت کی تجویز منظور فرمائی جائے۔ ڈاکٹر صاحب جلدی میں تھے لہذا اپنے جوائنٹ سیکرٹری کے نوٹ پر Issue orders. Dicussed with FAM. لکھ دیا۔

ہم نے کہا فائل ہمیں دیں۔ ریاض صاحب سے وہ فائل لے کر ہم سیدھے وزیر صاحب کے پاس گئے۔ وزیر صاحب کو جب یہ چمتکار سمجھایا تو وہ چونک گئے۔ ہم سے فائل لے کر لکھا۔

File recalled. In view of details not disclosed earlier it appears to be a case of conflict of interest.Nominate three officers to visit the factory. Program and Travelling reduced to one week, economy class. A comprehensive report to be submitted on return for further orders. D.G to go to Iran for Locust Conference

 ڈاکٹر صاحب آئے تو ہم نے فائل پر اپنا، ریاض کا اور یونس کیمسٹ کا نام لکھوا لیا۔

جنوبی افریقہ میں تیسرا دن تھا۔ کمپنی کے اہم ترین افسر اختر گجراتی تھے۔ ہمارے مرشد شیخ احمد دیدات ان کے پڑوسی۔ انہوں نے دیدات صاحب سے ہمارا ذکر کیا تو وہ پہچان گئے۔ نانا سے واقفیت تھی۔ اسی شام کھانے پر بلالیا۔

اس ملاقات نے ہمیں دوبارہ دین کی پٹڑی پر چڑھا دیا۔ دین کے حوالے سے ہمیں بہت ابہام تھے۔ ابھی جنوبی افریقہ میں ہی تھے۔ ریکھا جیسی سیکرٹری کے پاس فون آیا کہ ڈاکٹر ظفر، دیوان صاحب سے بات کریں گے۔ حکم ہوا کہ میں اور وزیر صاحب مصروف ہیں تم فوراً ملائشیا پہنچو۔ پورم کے وزیر ہیں ڈاکٹر یوسف بیسران۔ ان سے ملو اور ایک ٹیم لے کر پاکستان آؤ۔ وہ پاکستان میں آئل پام کے پودے کی کاشت کریں۔ ہم نے کہا دو مسئلے ہیں۔ ایک تو جیب میں کل دو سو ڈالر ہیں جو ساس نے چلتے وقت دیے تھے۔ دوسرا ہم نے ائل پام کا پودا بھی نہیں دیکھا۔

کہنے لگے۔ ملائشیا کا سنگاپور سے ٹکٹ ایک سو چالیس ڈالر کا ہے۔ ملائشین ائیر لائن سے سفر کرنا۔ ان کے پاس تمہارے ویزے کی ہدایات ہوں گی۔ پودا نہ دیکھنا ہی تمہاری طاقت ہے یہاں سے میں کدو کریلے کا کوئی ڈاکٹر بھیجتا وہ کبھی انہیں قائل نہ کر سکتا اور زراعت کی ٹیکنیکل بھول بھلیوں میں ہی ناک آؤٹ ہو جاتا۔ منسٹر صاحب نے تمہیں بے نظیر صاحبہ کی منظوری لے کر خاص طور پر چنا ہے۔ Just Do It

ملائشیا میں پورم کا وزیر کا ٹور ٹیکا سعودی وزیر پیٹرولیم والا ہوتا ہے۔ کچھ پتہ نہ تھا کہ کوالالمپور پہنچ کر کیا کرنا ہے۔ ملاقات پانچ منٹ سے بھی کم کی تھی مگر اللہ نے کامیابی عطا کی اور پام کے دو ماہر ڈاکٹر طیب اور جیلانی ہمارے ساتھ پاکستان آ گئے۔۔

دوسراواقعہ اور بھی دل چسپ ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوارک و زراعت کے ڈائریکٹر جنرل Jacques Diouf تشریف لائے۔ سردار فاروق لغاری اس زمانے میں صدر تھے۔ ایوان صدر میں ڈیاف صاحب کا عشائیہ تھا۔ حاسدین کی شرارت سے ہمیں کارڈ نہ ملا تو ڈاکٹر صٓاحب کاحکم ہوا کہ فوراً اسلام آباد پہنچیں۔ وی آئی پی لاؤنج میں لینے ان کا اسٹاف آفیسر انور آیا تھا۔ ہمیں لے کر سیدھا میریٹ پہنچا۔

کانفرنس کا اختتام ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کی نگاہ پڑی تو اسٹیج سے جلدی سے اترے اور کہنے لگے وزیر صاحب کو روکو نکل نہ جائیں۔ خود بھی تقریباً دوڑ لگا کر ان کے پاس پہنچے۔

آگے کا بیانیہ ان دو اہم افراد کی بندہ پروری اور تفصیلات پر توجہ اور حاضر دماغی کا ہے جو اس قدر مصروفیت میں بھی الرٹ تھی۔ ہمارے کارڈ کی ترسیل میں کوتاہی اور سیکورٹی سے وابستہ الجھن کا بتایا۔

وزیر صاحب کو درخواست کی کہ وہ ہمیں ساتھ لے جائیں۔ وزیر صاحب نے کہا وہ اس وقت صدر صاحب کے پاس جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے انگریزی میں کہا That is even better. Iqbal is a good company that you already know. Shamsher he himself can handle (شمشیر علی خان صدر لغاری کے بیچ میٹ اور پرنسپل سیکرٹری تھے)۔ پہنچے تو بجائے اس کے کہ نواب صاحب ہمیں انتظار گاہ یا کسی اور غیر اہم کونے میں بٹھاتے، آہستہ سے کہا Shamsher.Here is Diwan from Karachiشمشیر علی خان کو ہم نے راگ کہروے میں کونسی غزل سنائی۔ وہ ہمارے گرویدہ ہو گئے۔

 انہوں نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ ٹیبل نمبر تین پر ملٹری سیکرٹری کے ساتھ بٹھایا۔ مرغ نورجہانی کی ران پاڑتے (چیرتے) ہوئے ہم نے نواب صاحب کو تشکر کی نظروں سے دیکھا تو انہوں نے انگوٹھے سے لگے۔ رہو۔ منا۔ بھائی۔ والا اشارہ کیا۔

امریکہ کی مشہور ادیبہ مایا اینجل لو نے کہا تھا ”آپ نے کیا کہا، لوگ بھول جائیں گے۔ وہ یہ بھی بھول جائیں گے کہ آپ نے کیا کیا لیکن آپ کے عمدہ سلوک کو وہ کبھی نہیں بھولیں گے “۔ ہمیں کہنے دیجیئے کہ ڈاکٹر ظفر الطاف اور نواب محمد یوسف ٹالپر نے ہم سے بہت عمدہ سلوک کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں.

sohail

sohail

Next Post

چھنڈ آندی سی چھنڈ لیندے ساں

کورونا وبا:بل گیٹس مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی زد میں

کورونا وبا:بل گیٹس مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی زد میں

ٹرک سے مذہبی جماعت کے 19 افراد برآمد

ٹرک سے مذہبی جماعت کے 19 افراد برآمد

پنجاب کے مزاروں کی کمائی سے ہر سال ایک اسپتال بن سکتا ہے

پنجاب کے مزاروں کی کمائی سے ہر سال ایک اسپتال بن سکتا تھا

فضل الرحمان نے وزیراعظم کی قائم کردہ ٹائیگر فورس کو مسترد کردیا

فضل الرحمان نے وزیراعظم کی قائم کردہ ٹائیگر فورس کو مسترد کردیا

Comments 4

  1. Miskeen Ahmed Mansoor says:
    6 سال ago

    کیسے کیسے چاند، ستاروں جیسے لوگ تھے ۔ صاف دل، روشن دماغ ۔

    جواب دیں
  2. ماجد رشید says:
    6 سال ago

    جناب ظفر الطاف مرحوم کے بارے میں جناب راؤف کلاسرا صاحب کے کالمز میں بہت تذکرہ پڑھا ہے کہ بہت ایماندار محنتی سور قابل افیسر تھے

    جواب دیں
  3. سعدیہ کیانی says:
    6 سال ago

    دیوان صاحب نے آغاز میں برگ آوارہ کا لفظ تو استعمال کیا ۔ کیا ہی اچھا ہو جو وہ آوارگی کی دلچسپ داستانیں بھی شئیر کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر کا تعارف روف کلاسرا کے ذریعے ہوتا رہتا ہے لیکن دیوان صاحب کا اپنا الگ رخ ہے جو چاہیں تو پھر کبھی لکھیں کہ الطاف صاحب مرحوم کے امتیازات کیسے انہیں ممتاز بناتے ہیں ۔
    زراعت پر نواب صاحب کی خدمات یقینا لینی چاہیں تھیں افسوس ہم ملکی مفاد سے زیادہ ذاتی پسند ناپسند کو ترجیح دیتے ہیں ۔
    دیوان صاحب سے ایک فرمائش ہے کہ احمد دیدات سے متعلق اپنے انداز سے کبھی کوئی تعارفی کالم لکھیں تو ہمیں خوشی ہوگی ۔ ہم بھی کچھ متاثر ہیں ان صاحب علم سے۔ مسلم کرسچن ڈائیلاگ پر ان سے بہتر کسی کو نہ پایا۔ جب دیوان صاحب نے مرشد لکھا تو یقینا ہم سے تو بہت بہتر جانتے ہوں گے تو ضرور کبھی متعارف کروائیے ۔ جزاک اللہ
    ہماری جانب سے نقارخانہ کے طوطیوں کو مبارک ۔۔۔ کامیابی رہے ۔

    جواب دیں
    • محمد اقبال دیوان says:
      6 سال ago

      تشکر۔یقینا”لکھیں گے ہمارا بہت۔ کچھ لکھا مکالمہ پر بھی موجود ہے

      جواب دیں

ماجد رشید کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In