• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

یونس حبیب کی دعوت

by sohail
اپریل 4, 2020
in کالم
2
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

(اصغر خان کیس کے مرکزی ملزم حبیب بینک کے صوبائی صدر تھے)

یونس حبیب کی گرومنگ نہیں ہوئی تھی۔ لالو کھیت والوں کے محاورے میں کہیں کھلے بندھے نہ تھے۔ مال بنانے کا چمتکار پرانا تھا۔ لڑکپن میں لیاری کے علاقے نو آباد کے اسکول میں سب بچوں سے پاس کرانے کے پانچ پانچ روپے پکڑ لیتے تھے۔ پچیس میں پانچ فیل ہوتے تھے۔ ان کو پیدائشی لوزر ہونے کا طعنہ گالی اور رقم سمیت لوٹا دیتے تھے۔ استادوں کو اس بندہ پروری پر ان دنوں فیشن کریز کیریلین کی قمیص کا کپڑا دیتے تھے۔ وہ Drip -Dry اور آئرن فری ہوتا۔ باقی پیسے جیب میں۔

حبیب بینک کے سابق صدر اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک کے گورنر قاسم پاریکھ بھی ان کے اسکول کے دوست تھے۔ لگتا ہے یونس نے اسے رقم نہیں گھٹکائی کیوں کہ جب وہ حبیب بنک میں ملازم ہوئے تو یونس کو انہوں نے اپنے پاس میسنجر بوائے رکھ لیا۔ ہندی میں کہتے ہیں ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ جس طرح ایک صحیح تعلق کی وجہ سے اسحق ڈار وزیر خزانہ بنے اسی طرح یونس حبیب بھی ایک ایسے دامن بار آور سے جڑ گئے کہ پہلے، حبیب بنک کے صوبائی صدر اور بعد میں مہران بنک کے مالک بن گئے۔

 چلو بتائے دیتے ہیں وہ کون سا سرچشمہء طاقت و فیض مخصوص تھا کہ جس سے یونس حبیب کا رشتہ یوں تھا کہ انہیں وہ باؤ جی پکارتے تھے۔ اب اس میں کوئی انہونی بات نہیں۔ اقلیم اختر کی بھی تو یحیی خان سے یاد اللہ تھی۔ انہوں نے بھی تو اسے وار کورس کیے بغیر جنرل رانی بنادیا تھا۔ چار ستارہ جنرل پیٹریاس، جب وہ سی آئی اے کے چیف تھے، انہوں نے اپنی آفیشل بائیوگرافر پاؤلا براڈویل کو اپنی ای میلز تک اتنی رسائی دے دی کہ ایف بی آئی کو لگا کہ باجی پاؤلا اور جنرل صاحب کا معاملہ چمی چمی ٹھا ٹھا والا ہے۔ ادارے کی مضبوطی اور قانون کی بالادستی پر دھیان دیں۔ سی آئی اے چیف کی ای میل پر ایف بی آئی کے انسپکٹروں کی نگاہ تھی۔

پاکستان کی ایک بہت اہم سیاسی خاتون شخصیت جن کی اپنی پارٹی میں بہت دھاک تھی انہیں یونس جان کہہ کر ایسے بلاتا تھا جیسے شاعر جون ایلیا ڈھائی پیگ کے بعد رینجرز کو جانی کہہ کربلاتے تھے۔ یہ الگ بات ہے یونس خود جون ایلیا کو جون گھیلیا پکارتا تھا۔ میمنی زبان میں گھیلا پاگل کو کہتے ہیں۔ اسے کسی نے بتادیا تھا کہ ان کی سابقہ بیگم بھی انہیں یہی کچھ پکارتی تھیں اور اس ازدواجی چھیڑ چھاڑ کی شہ ان کی بیگم کو مشتاق یوسفی دیا کرتے تھے جنہیں مہاجروں کی کھلی (ہنسی) اڑانے کا بہت شوق تھا۔

آئیں یونس حبیب کی طرف چلیں۔ ہماری ان سے افسر ہونے کے ناطے واجبی اور میمن ہونے کے ناطے زیادہ یاری تھی۔ وہ ہمارے دوست عبداللہ کے باس تھے اور یہ دونوں مل جل کر ہمارے مرید۔

 وہ سرکاری حبیب بنک کے صوبائی سربراہ تھے۔ اس دور میں بیٹی فرحین کی منگنی کی تقریب بارہ دری میں منعقد ہوئی ۔۔۔ تھی تو منگنی کی دعوت مگر کون تھا جو اس رات وہاں نہ تھا۔ پیر صاحب پاگارہ، بے نظیر صاحبہ (تب وہ وزیر اعظم نہ تھیں)، گورنر، جام صادق، ایم کیو ایم کے سب ہی اہم رہنما، باقیوں کا کیا شمار۔ ہم سٹی سب ڈویژن (لیاری) کے ایس ڈی ایم تھے مگر ڈپٹی کمشنر صاحب نے اس میمن معاشی دہشت گرد کو سنبھالنے کے لیے وی آئی پی موومنٹ کی آڑ میں ضلع جنوبی کے سبھی افسروں کی ڈیوٹی لگا دی۔

ایسی بڑی دعوتوں میں ہمارا کیا کام۔ بس میرؔ کے مصرعے  "جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ” کی سرکاری تصویر بنے کھڑے تھے۔

کھانے کے دوران یونس کسی کم سن چور کی سی مسکراہٹ لیے ہماری طرف آئے۔ ہم نے انہیں ایک دفعہ Name -Dropper ہونے کا طعنہ دیا تھا۔ گھاؤ یاد تھا۔ وہ مٹانے آئے۔

 پوچھا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ سے ملو گے؟ ہم نے اسے میمنی میں کہا آرمی چیف سے پاکستان میں ملنا ایسا ہے جیسے طاقت کے پیران پیر دستگیر کا دیدار۔ چلو۔ ترنت کہنے لگا تم یہاں رکو میں لے کر آتا ہوں۔

ہم نے اس کے ان سے دوستانہ تعلق کا ضرور سنا تھا۔ یہ ادراک نہ تھا کہ دسترس و رسائی کا اللہ اللہ یہ مقام ہو گا کہ جدائی نہ تھی۔ ہم نے کہا آزما لیتے ہیں اگر وہ گریڈ سترہ کے ایک اسسٹنٹ کمشنر سے طاقت کے قطب الاقطاب کو ملانے لے آتا ہے تو یہ باتیں سچی باتیں ہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کم آمدنی والے لوگوں کے محلوں میں بھی ایک آدھ ایسا خوش حال گھرانہ ضرور ہوتا ہے جسے شو آف کرنے کا بہت ہڑکا ہوتا ہے۔ عید قرباں کی گائے بیس پچیس دن پہلے لے آئیں گے۔ خوب سجائیں گے۔ پھر شام شام ان کے بچے اترا اترا کر اسے محلے میں گھمائیں گے۔

 عین اس وقت ہمارے سامنے بھی ایسا ہی کچھ منظر تھا۔ ہلکے نیلے رنگ کے شلوار قمیص میں ہمارے محترم جنرل صاحب کا ہاتھ تھامے یونس حبیب چلے آتے تھے۔ تعارف کرانے کے دوران لب و لہجہ یوں تھا کہ ”جنرل ساب ان سے ملو ہمارے علاقے کے بہت بڑے افسر ہیں ہمارے ایش ڈی ایم ساب“

     جنرل صاحب کی یہ بڑائی تھی کہ وہ یہ مضحکہ خیز تعارف سن کر ہنس دیے۔ اب کیا ہے کہ ہم جب تک افسر نہیں بنے تھے میمنوں کی اکثریت کو پتہ نہ تھا کہ جنرل بڑا ہوتا ہے یا میجر جنرل۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ایک افسر کو اللہ نے میجر اور جنرل دونوں عہدے دے رکھے ہیں تو میجر جنرل کا عہدہ، خالی جنرل سے بڑا ہے۔ اسی رو رعایت سے لفٹیننٹ سے میجر بڑا ہوتا ہے لہذا سب سے چھوٹا جنرل اس سے سے بڑا لفیٹیننٹ جنرل اور سب بڑا میجر جنرل اور ان سے بھی بہتر کوارٹر ماسٹر جنرل جس کو سرکار نے کوارٹر بھی دے رکھا ہے اور اس کو ماسٹری (ٹیچنگ) کرنے کی اور جنرل کی تنخواہ بھی ملتی ہو۔ اب ہم میمن سرکاری معاملات میں پنجابیوں سندھیوں جیسے برجو مہاراج والے بھید بھاؤ سے  تو واقف نہیں۔

جنرل صاحب نے مزید خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا دیوان صاحب آپ نے تو ہمارے دوست کو دہشت زدہ کر رکھا ہے۔ ہم کہاں اعظم گڑھ۔ یوپی کا ادھار رکھتے۔ ہم نے بھی اترا کر کہا کہ”سر آپ کا دوست اسٹریٹ اسمارٹ ہے۔ اسے پتہ ہے اس کی ایف آئی آر کٹے گی تو پہلا واسطہ ہم سے ہی پڑے گا۔” وہ ویل سیڈ کہہ کر دیگر مہمانوں کی جانب چل دیے۔

ایسا ہی ہوا۔ یونس کو وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے حبیب بنک سے ڈس مس کر دیا۔ عبداللہ کو لے کر روتا روتا اپنی چوتھی بیوی کے گھر سے ہمارے پاس آ گیا۔ بتانے لگا جام صادق کو کتنا مال دیا مگر پھر بھی بینک نے نو۔ سروس۔ بینیفٹ کے ساتھ مجھے ڈس مس کر دیا۔ ہم نے کہا جا جس کو کو پیسے دیے اس کے پاس رو ہمارے پاس کیا کھرکھرا (میمنی میں تعزیت) کرنے آیا ہے۔ دونوں جام صاحب کی طرف چلے گئے۔

ادھا منا ہاؤس گزری ڈیفنس میں جام صادق علی کا بنی گالہ تھا۔ یہ وہاں پہنچے تو ناؤ نوش کا دور تھا۔جام صادق نے سرتاج عزیز کو سندھی میں ایڈی وڈی گالی دی اور یقین دہانی کرائی کہ دیکھنا صبح سب ریورس ہو گا۔

اگلے دن ہمیں فون سی ایم ہاؤس سے آیا کہ چیف منسٹر صاحب کی ہدایات ہیں کہ آپ کو لینے کار آ رہی ہے۔حبیب بینک کے صدر آغا تجمل حسین سے جا کر ملیں۔ ان کے پاس ضروری ہدایات منسٹری کی جانب سے موجود ہیں۔ یونس کی برطرفی کے آرڈر ٹھیک سے ڈرافٹ کر کے جاری کرائیں۔ دشواری کی صورت میں ورنہ کام مکمل کر کے اسی نمبر پر رابطہ کریں۔

سی ایم ہاؤس کی گاڑی میں ہمیں لینے یونس حبیب خود آئے تھے اور ہمارا استقبال حبیب بینک کی کیپسول لفٹ کے سامنے آغا صاحب نے خود کیا۔ لجا شرما کر کہنے لگے میری سیکرٹری کو مرضی کا آرڈر لکھوا دیں۔ میرا افسر دستخط کر دے گا۔ انگریزی ہمیں بھی خاص نہیں آتی۔ سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کا ایک سطری استعفی پڑھ رکھا تھا سو اس کا مراقبہ کرکے حکم نامہ جاری کرا لیا کہ پچیس سال کی ملازمت پوری ہونے پر ان کی اپنی درخواست پر یونس حبیب کو تمام واجبات اور پینشن کے ہمراہ ریٹائر کیا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں.

Tags: یونس حبیب
sohail

sohail

Next Post
کورونا وبا اور تبلیغی جماعت : بھارت میں مسلمانوں کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنانے کا انکشاف

کورونا وبا اور تبلیغی جماعت : بھارت میں مسلمانوں کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنانے کا انکشاف

24ارب شوگر سبسڈی اسکینڈل: ترین، خسرو، مونس الہی نے اربوں کمائے، انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی

چینی، آٹا بحران رپورٹ: کیا عمران خان اپنے سیاسی دوستوں کے خلاف کارروائی کر پائیں گے؟

لندن کا جارج

آٹا، چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ نے عثمان بزدار کی کارکردگی کا پول بھی کھول دیا

Comments 2

  1. Prof Malik Mukhtiar Muhammad Khan says:
    6 سال ago

    An excellent informative article with beautiful use of language.
    . A creation of a beautiful mind and a feast for the mind
    Malik Mukhtiar Muhammad Khan
    ,Distt. Swabi
    KP

    جواب دیں
  2. Seema Gul says:
    6 سال ago

    A beautiful essay from a beautiful mind, written in a very interesting and enjoyable language
    Seema Gul, Principal
    Swabi, KP

    جواب دیں

Seema Gul کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In