اربوں روپے کے آٹا اور چینی اسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ کے ضمنی سوالنامہ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب میں محکمہ خوراک میں تبادلے وزیراعلیٰ ہاؤس سے زبانی احکامات کے تحت ہوتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں انتظامی امور میں بد نظمی، بڑے پیمانے پر تقرریاں اور تبادلے اور بد ترین انداز میں آٹے کی سپلائی کا انتظام پرکیورمنٹ میں ناکامی کی وجہ بنے۔
پنجاب میں پروکیورمنٹ سیزن اپریل کے مہینے سے شروع ہوتا ہے جو جون تک چلتا ہے۔ تقرر کیے گئے چار سیکرٹریوں کے لیے تیار کی گئی سمریوں میں وجوہات درج نہیں کی گئیں اور ہر سمری پر Subject to the directions of Competent Authority لکھا ہوا تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اپریل 2019 سے اگلے ماہ تک محکمہ خوراک پنجاب میں چار سیکریٹریوں کے تبادلے کیے گئے جن میں شوکت علی، نسیم صدیق، ظفر نصراللہ اور وقاص علی محمود شامل ہیں۔
نسیم صدیق کے علاوہ تمام سیکرٹریوں نے بڑے پیمانے پر تبادلے کیے، شوکت علی نے 35 ڈی ایف سیز کے تبادلے کے احکامات مارچ میں جاری کیے جبکہ ظفر اللہ نے اپنے عرصے میں 32 ڈی ایف سیز اور نو ڈپٹی ڈائریکٹرز کو تبدیل کیا۔
شوکت علی اور ظفر نصراللہ نے کمیٹی کو بتایا کہ تمام تبادلے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی منظوری سے ہوئے تاہم انہوں نے کچھ ڈی ایف سیز جن کی تقرریاں سیاسی اثر و رسوخ پر ہوئی تھیں کو انکی کار کردگی کی وجہ سے ہٹایا۔
24ارب شوگر سبسڈی اسکینڈل: ترین، خسرو، مونس الہی نے اربوں کمائے، انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی
کورونا کے پھیلاؤ کی تحقیقات کے لیے درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے زلفی بخاری کو نوٹس جاری کر دیا
ظفر نصراللہ نے اعتراف کیا کہ آدھے تبادلوں اور تقرریوں کی سمریاں انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے زبانی احکامات پر تیار کیں، دونوں مذکورہ سیکرٹریوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ محکمہ خوراک کی جانب سے تجویز کردہ نام کبھی بھی تبدیل نہیں کرائے گئے مگر سمریوں میں ان کے نام بھی شامل ہوتے جنکے زبانی احکامات وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے دیے جاتے تھے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی ضمنی رپورٹ میں برملا کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس سیکرٹریوں کی تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات ہیں اور تمام سیکرٹری ان کی منظوری سے تبدیل ہوئے۔
اسکے علاوہ جس وقت ڈی ایف سیز تبدیل کیے گئے، اس وقت تقرریوں اور تبادلوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے پابندی لگا رکھی تھی اور تمام ڈی ایف سیز کی تبدیلی کی منظوری بھی انہوں نے خود ہی دی۔
اس حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی نے عثمان بزدار سے تقرریوں اور تبادلوں بارے سوال جواب بھی کیے۔
شوکت علی کے بارے میں وزیر اعلیٰ بزدار نے کہا کہ ان کا تبادلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ انکی تقرری گزشتہ دور حکومت میں ہوئی تھی اور وہ یہ چاہتے تھے کہ نئے سیکرٹی کو محکمہ خوراک میں لایا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹا خریدنے میں کوئی مسائل پیدا نہ ہوں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے کہا ہے کہ تبدیل کیے جانے والے سیکرٹری کافی عرصہ سے اس پوسٹ پر کام کر رہے تھے اور ان کا ایسے معاملات میں تجربہ بھی تھا جبکہ انکے تبادلے کا وقت بالکل بھی مناسب نہیں تھا۔
وزیر اعلیٰ بزدار نے نسیم صادق کی تقرری محکمہ خوراک میں کی اور دو ماہ بعد اسے بھی تبدیل کر دیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ نسیم صادق کا تبادلہ اس وجہ سے کیا گیا کیونکہ انکی خدمات محکمہ ہاؤسنگ کو درکار تھیں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے گندم خریدنے کے ٹارگٹ میں ناکامی کے معاملے میں نسیم صادق کی نشاندہی کی، کمیٹی نے کہا کہ اتنے کم عرصے میں ان کا تبادلہ مناسب پلاننگ اور پالیسی نہ ہونے کا فقدان ہے۔
نسیم صادق کے بعد ظفر نصراللہ نے سیکرٹری کا عہدہ سنبھالا اور پانچ ماہ بعد انکا بھی تبادلہ کر دیا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ بزدار کے پاس اسکے تبادلے کی بھی کوئی خاص وضاحت نہیں۔
کمیٹی کے مطابق ظفر نصراللہ پانچ ماہ تک سیکرٹری رہے لیکن اگست کے بعد تک وہ آٹے اور چینی کی ترسیل بروقت یقینی بنا رہے تھے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق انکو ہٹانے سے محکمہ کا کام پر متاثر ہوا اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
وزیر اعلیٰ بزدار نے تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ سیاسی شخصیات صوبے کے سربراہوں سے تقرریوں اور تبادلوں کے لیے ہمیشہ رابطہ کرتے ہیں اور کچھ سیاسی تجاویز کو مانا بھی گیا لیکن سپیشل برانچ کی رپورٹ فیصلہ لینے سے پہلے دیکھی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انکی حکومت آنے کے بعد انتظامیہ پر تبادلوں کے لیے بہت دباؤ تھا اور اس پر قابو پانے کے لیے انہوں نے احکامات جاری کیے کہ کسی بھی قسم کی تقرری اور تبادلہ انکی منظوری کے بغیر نہیں ہوگی۔
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ دباؤ کے پیچھے کون سے عناصر ملوث تھے۔
