جس وقت عالمی ادارہ صحت نے چین کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی کورونا وبا کا انکشاف کیا، اس وقت تک چار لکھ 30 ہزار لوگ چین سے براہ راست پروازوں کے ذریعے امریکہ پہنچ چکے تھے۔
دونوں ملکوں کے اکٹھے کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ٹرمپ کے سفری پابندی عائد کرنے کے بعد بھی تقریباً 40 ہزار لوگوں نے چین سے امریکہ کا سفر کیا۔
جنوری میں بڑی تعداد میں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے مسافر امریکہ کے جن ہوائی اڈوں پر اترے ان میں لاس اینجلس، سان فرانسسکو، نیویارک اور ڈیٹرائٹ شامل ہیں۔ ان میں سے ہزاروں افراد ایسے تھے جنہوں نے براہ راست ووہان سے سفر کا آغاز کیا تھا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پروازیں گزشتہ ہفتے بھی جاری رہیں جس میں کچھ ایسے امریکیوں اور دوسرے افراد نے بیجنگ سے لاس اینجلس، سان فرانسسکو اور نیویارک کا سفر کیا جن کو دو فروری کو لاگو ہونے والی پابندیوں سے استثنی حاصل تھا۔
امریکہ میں کورونا کی تباہی کی سمندری طوفان سے تشبیہ
امریکہ وینٹی لیٹرز کی شدید کمی کا شکار، میڈیا حکومت پر برس پڑا
کورونا وائرس کے باعث امریکہ شدید بیروزگاری کے چنگل میں
اس وقت سے لیکر اب تک 279 پروازیں چین سے امریکہ آ چکی ہیں اور مختلف لوگوں سے انٹرویو میں انکشاف ہوا ہے کہ ایئرپورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ کے انتظامات ناکافی تھے۔
ٹرمپ نے کئی بار اپنی تقریروں اور پریس کانفرنسز میں اس بات کو دہرایا کہ بروقت سفری اقدامات کی وجہ سے کورونا وائرس پورے امریکہ میں نہیں پھیلا۔
منگل کو ہونے والی پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہم نے جلد ہی اقدامات کیے، لیکن میں سمجھتا ہوں ہم بہت اسمارٹ ہیں کیونکہ ہم نے چین کو روکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سفری پابندی عائد کرنا اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ تھا۔ پچھلے ماہ بھی صدر ٹرمپ نے یہی دعویٰ کیا تھا کہ ہم ہیں وہ جنہوں نے چین کو یہاں سے دور رکھا۔
تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق اعدادوشمار کوئی اور کہانی پیش کرتے ہیں جن کے مطابق امریکہ نے چین کو دور رکھنے میں بہت دیر کر دی۔
حال ہی میں طبی ماہرین نے یہ انکشاف کیا کہ 20 جنوری کو واشنگٹن میں پہلا کیس رپورٹ ہونے سے پہلے ہی وائرس امریکہ میں پھیل چکا تھا کیونکہ 25 فیصد لوگوں میں کورونا کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتی۔
جنوری کے وسط میں جب چینی حکام اس ہولناک وائرس کی شدت کو دبے ہوئے انداز میں پیش کر رہے تھے تب چین سے آنے والے کسی مسافر کی اسکریننگ نہیں کی گئی۔
جب جنوری کے آخر میں یہ اسکریننگ شروع ہوئی اس وقت تک 4 ہزار لوگ امریکہ میں داخل ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے جانب سے سفری پابندی عائد کرنے سے قبل جنوری میں 1300 پروازیں چین سے امریکہ کے 17 ہوائی اڈوں پر پہنچ چکی تھیں۔
