بھارت کی ریاست آسام میں ٹریبونل کے اراکین نے انکشاف کیا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے انھیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ غیر ملکی شہری قرار دیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت غیر قانونی طور پر رہنے والے پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے، کچھ سیاستدانوں نے اس عمل کو ملک بھر میں جاری رکھنے کا عہد کر رکھا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے رپورٹرز کرن دیپ سنگھ اور سہاسنی راج نے ٹریبونلز کے پانچ سابق اراکین کے انٹرویوز کیئے جس میں انھوں نے بتایا کہ مودی حکومت نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو غیر ملکی شہری قرار دیں اور ایسا نہ کرنے والے پانچ میں سے تین اراکین کو ملازمتوں سے برخاست کر دیا گیا۔
ٹریبونل کی رکن وکیل مامونی راج کماری نے تقریباً دو سال اپنے کئی دن اس بات کا فیصلہ کرنے میں گزارے کہ کون بھارتی شہری ہے اور کون نہیں ہے۔
کورونا وبا اور تبلیغی جماعت : بھارت میں مسلمانوں کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنانے کا انکشاف
مودی حکومت نے بھارت میں آزادی صحافت کا خاتمہ کیسے کیا؟
بھارتی اداکار انوپم کھیر کا خوبصورت ویڈیو پیغام، تمام انسانوں کے نام
54 سالہ راج کماری نے انکشاف کیا کہ اسے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو غیر ملکی شہری قرار نہ دینے پر نوکری سے نکال دیا گیا اور ان کو سزا بھی دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ بھارتی شہریت کی اس جنگ میں خود کو فرنٹ لائن پر محسوس کرتی ہیں۔
حال ہی میں ریاست آسام کے حکام نے وہاں کے رہائشیوں کا مکمل بائیو ڈیٹا حاصل کر لیا ہے تاکہ وہ ملکی اور غیر ملکی باشندوں کا تعین کر سکیں۔
اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ تین کروڑ 30 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ریاست آسام میں تقریباً 20 لاکھ لوگ پردیسی ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
اب یہ سلسلہ ملک بھر میں شروع ہونے والا ہے کیونکہ مودی نے سیکولر اور مختلف نسلوں و مذاہیب پر مشتمل ملک بھارت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ان کا مقصد بھارت کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔
ریاستی حکام اور مرکزی حکومت نے اس معاملے پر تبصرے سے گریز کیا۔
دسمبر میں بھارتی حکومت نے ایک نیا امیگریشن قانون پاس کیا جس میں اردگرد کے ممالک سے آئے ہوئے مہاجرین کو بھارتی شہریت سے نوازنے کا فیصلہ کیا لیکن مسلمانوں کو اس قانون کے ثمرات سے محروم کر دیا گیا۔
جواہر لعل یونیورسٹی کے سابقہ پروفیسر بینود کاداریا نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے مسلمانوں کو بہت تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
