عبدالرحمان پشاوری ایک ایسے پاکستانی ہیں جنہیں ایک صدی بعد بھی ترکی میں عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے اور انہیں اس برادر ملک میں ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمان پشاوری ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی انادولو کے بانیوں میں سے ہیں۔
انہیں ترک نیوز ایجنسی کا پہلا رپورٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ’انادولو‘ نے اپنی 100 سالہ تقریبات میں انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
ایک صدی قبل جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے احکامات پر بننے والی ترکی کی نیوز ایجنسی انادولو کے پہلے رپورٹر عبدالرحمان پشاوری کا تعلق شہر کی ایک پٹھان فیملی سے تھا۔
انہیں ’لالہ ترکی‘ اور چاچا ترکی کے القابات سے بھی جانا جاتا ہے، انہوں نے ترکی کی جنگ آزادی میں بھی حصہ لیا تھا۔
ترکی میں کورونا وائرس سے حفاظت کے انوکھے طریقے سوشل میڈیا پر مقبول ہو گئے
کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے والے قومی ہیروز کی واپسی کی کہانی
نومبر 2016 میں پاکستان میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے خطاب میں ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھی عبدالرحمان پشاوری کی ترکی کیلئے خدمات کو سراہا تھا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ پشاوری نے اپنی ماں کی گھر واپس آنے کی التجاؤں کو یہ دلائل دیکر نہیں مانا تھا کہ وہ زیرحملہ ملک ترکی کو چھوڑ کر نہیں لوٹ سکتے۔
عبدالرحمان پشاوری نے ترکی کے سفر کیلئے علی گڑھ یونیورسٹی میں اپنا سامان بیچ کر پیسے اکٹھے کئے تھے۔ وہ ترکی کیلئے پہلی جنگ عظیم میں لڑے تھے اس کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کے ہمراہ جنگ آزادی میں بھی حصہ لیا۔
ترکی نیوز ایجنسی انادولو کو انٹرویو میں عبدالرحمان پشاوری کے بھتیجے محمد سلیم جان نے بتایا کہ پشاوری بلقان کی جنگ میں زخمیوں کو طبی امداد دینے والے کے طور پر ایک وفد کے ساتھ 1912 میں ترکی گئے تھے۔
ان کے مطابق اس وفد میں شامل دیگر افراد آٹھ ماہ بعد لوٹ آئے تھے مگر عبدالرحمان پشاوری نہ لوٹے، وہ ترک فوج میں شامل ہوگئے اور جنگ عظیم اول میں حصہ لیا۔
محمد سلیم جان کے مطابق پشتو، فارسی اور انگریزی میں روانی کے باعث عبدالرحمان پشاوری کو ترکی کی جانب سے افغانستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔
وہ 1920 سے 1922 تک افغانستان میں ترکی کے سفیر رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب عبدالرحمان کو ترکی نے افغانستان میں اپنا سفیر مقرر کیا تھا تو پشاور میں انکے والد نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ایک بار گھر آ کر فیملی سے مل لیں۔ تاہم انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انگریز کے زیرقبضہ بھارت میں قدم نہیں رکھیں گے۔
محمد سلیم جان کے مطابق ان کے صاف جواب کے بعد خاندان کے لوگ عبدالرحمان پشاوری سے افغانستان جا کر ملے تھے۔
