جنوری کے آخر میں جب کورونا وائرس چین کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا تب دنیا کے دیگر ممالک اس خوفناک وائرس کے ممکنہ خطرے سے بیدار ہو رہے تھے۔ 25 جنوری کو دنیا کے دو ممالک آسٹریلیا اور تائیوان میں کورونا کے چار چار کیس رپورٹ ہو چکے تھے۔
آسٹریلیا اور تائیوان آبادی کے لحاظ سے برابر ہیں، ان کی کل آبادی دو کروڑ چالیس لاکھ افراد پر مشتمل ہے، دونوں ممالک جزیرہ نما ہیں اور سرحدوں پر ہونے والی آمد و رفت کے حوالے سے سخت پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے چین کے ساتھ گہرے تجارتی مراسم ہیں۔ جنوری 25 کے 10 ہفتوں بعد آسٹریلیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ ہزار سے زائد جبکہ تائیوان میں 400 سے بھی کم رپورٹ ہوئی۔
دنیا کے چار ممالک جنہوں نے پابندیاں لگائے بغیر کورونا کےخلاف کامیابی حاصل کی
امریکہ میں کورونا کیوں پھیلا؟ نئے حقائق سامنے آ گئے
ایران کو طبی امداد کی فراہمی، تین بڑے ممالک نے امریکی پابندیاں نظرانداز کر دیں
سوال یہ نہیں ہے کہ آسٹریلیا نے ایسا کیا غلط کیا کہ وہاں پر کورونا متاثرین میں تائیوان کے مقابلے میں بہت اضافہ ہوا، بلکہ سوال یہ ہے کہ تائیوان نے ایسا کیا کہ اس نے دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت کورونا کی وبا پر مثالی طریقہ سے قابو پا لیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق 2003 میں پھیلنے والی سانس کی بیماری سارس (SARS) نے ہانگ کانگ اور جنوبی چین کے ساتھ ساتھ تائیوان کو بھی بری طرح متاثر کیا۔
اس وبا نے جہاں ایشیا کو جس طرح اپنی لپیٹ میں لیا، وہ باقی ممالک کے لیے بھی سبق آموز تھا۔
پرانے تجربے کے باعث اس خطے نے کورونا وائرس کی وبا کو سنجیدگی سے لیا اور اس پر قابو پانے کے لیے حکومتی اور سماجی سطح پر بھرپور اورسرتوڑ کوشش کی گئی۔
انھوں نے بہت جلد اپنی سرحدوں پر کنٹرول شروع کیا اور ماسک پہننے کو اپنا معمول بنا لیا۔
تائیوان نے چند فیصلہ کن اقدامات کیے جن کی وجہ سے اس وبائی مرض پر قابو پانے میں مدد ملی، ان میں بروقت تجربہ کار ہیلتھ کیئر میکنزم کا قیام، ماسک کی مقامی طور پر فراہمی، بندرگاہوں، سرحدوں اور ہوائی اڈوں کی بندش کا قیام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ان لوگوں کے لیے سخت سزاؤں کا آغاز کیا گیا جو حکومت کے قرنطینہ سے متعلق قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے اور وائرس سے متعلق غلط معلومات پھیلانے والے عناصر کے خلاف بھی سخت سزا کا حکم دیا۔
اس کے علاوہ تائیوان نے پورے جزیرہ پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بہت زیادہ ٹیسٹ کئے۔
اسی طرح اگر یورپ میں دیکھا جائے تو جرمنی کی مثال دی جا سکتی ہے جہاں پر کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد تو 92 ہزار سے زائد ہے لیکن دوسرے یورپی ممالک ک نسبت شرحِ اموات کافی کم ہیں۔
اب تک جرمنی میں تقریباً 13 سو لوگ اس وبا سے لقمہ اجل بن چکے ہیں تاہم اس میں اموات کی شرح 1.2 فیصد، اٹلی کی 12 فیصد، اسپین کی 10 فیصد اور برطانیہ کی 4 فیصد رہی۔
جرمنی کی اس کامیابی کی وجہ بروقت اور زیادہ سے زیادہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ ممکن بنانا تھا۔
