• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا وبا کے خلاف حکومت کی ناقص حکمت عملی پر چیف جسٹس برس پڑے

by sohail
اپریل 6, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد: کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت کی ناقص حکمت عملی پر سپریم کورٹ برس پڑی، وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے نیشنل ہیلتھ سروس ڈاکٹر ظفر مرزا کی قابلیت پر بھی سال اٹھایا اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت کا موقف حکومت کے موقف سے الگ نہیں ہو سکتا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر چار سو سے زائد قیدیوں کی رہائی کے حکم کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران فاضل ججز کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے اربوں روپے کہاں خرچ ہو رہے ہیں، کچھ معلوم نہیں۔

سپریم کورٹ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ملک بھر کی اسپتالوں میں او پی ڈیز بند کرنے پر بھی شدید اظہار برہمی کیا۔

سپریم کورٹ قیدیوں کی رہائی سے متعلق فیصلہ آ ج جاری کرے گی جبکہ کیس میں دیگر معاملات کے لیے سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

سماعت کا احوال

آج سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس گلزار احمد نے واضح کیا کہ عدالت نے صرف  قیدیوں کی رہائی کا معاملہ نہیں دیکھنا بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ حکومت کورونا سے کیسے نمٹ رہی ہے۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صرف میٹنگ، میٹنگ ہو رہی ہے، زمین پر کچھ بھی کام نہیں ہو رہا، انہوں نے میڈیکل ایمرجنسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں کس طرح کی میڈیکل ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے کہ نجی کلینکس اور اسپتال بھی بند پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کوئی ایسا اسپتال نہیں جہاں میں جا سکوں، تمام اسپتالوں کی او پی ڈیز بند کر دی گئی ہیں، ملک میں صرف کورونا کے مریضوں کا علاج ہورہا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ انہیں اپنی اہلیہ کو چیک کرانے کیلئے ایک  بہت بڑا اسپتال کھلوانا پڑا۔ کورونا کے علاوہ تمام مریض اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیے گئے ہیں، شوگر، دل کے مریض اور دیگر بیماریوں کی اموات کورونا سے زیادہ ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی حکومت کے پاس طبی آلات کا اسٹاک دو ہزار سے زیادہ نہیں، کے پی اور سندھ حکومتیں صرف پیسہ مانگ رہی ہیں کام نہیں کر رہیں، وفاقی حکومت کے پاس ویسے ہی کچھ نہیں ہے، اسپتالوں کی ضرورت پڑی تو بند کر دیے گئے، عوام کہاں جائیں؟

انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ ہر ایک اسپتال اور کلینک لازمی کھلارہنا چاہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وزارت صحت کی جانب سے لکھے گئے خط پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وزارت صحت نے خط لکھا کہ سپریم کورٹ کی ڈسپنسری بند کی جائے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیوں بھائی یہ ڈسپنسری کیوں بند کی جائے، کیا اسطرح  سے اس وبا سے نمٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ وفاق کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، وہ تو کچھ کر ہی نہیں رہا، آپ نے جو رپورٹ جمع کرائی ہے یہ اس بات کو واضح کررہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب تک ہزار بستر کے دس اسپتال بن کر فعال ہو جانے چاہئیں تھے، قرنطینہ مراکز میں ایک کمرے میں دس دس لوگ رہ رہے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ دو کمروں کے گھروں میں دس دس لوگ رہتے ہیں، لوگ تین چار دن شکلیں  دیکھیں گے پھر ایک دوسرے کو ہی کھانے لگیں گے، کسی حکومت نے سڑکوں پر اسپرے نہیں کرایا، مختص کیے گئے اربوں روپے کہاں خرچ ہو رہے، کچھ معلوم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر بیٹھ کر صرف ہاتھ دھونے اور گھر رہنے کا بتایا جا رہا ہے، تمام حکومتی اقدامات صرف کاغذوں میں ہیں عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے او پی ڈیز کھولنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ایک رپورٹ آج بھی جمع کرائی ہے وفاق بھرپور طریقے سے اقدامات کر رہا ہے۔

اٹارنی جنرل نے مزید استدعا کی کہ وہ حکومتی اقدامات پر عدالت کو بریفنگ دینے کو تیار ہے۔

چیف جسٹس ریمارکس دیے کہ حکومت کا ایکشن پلان دیکھا ہے بریفننگ میں کیا کریں گے، ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی کیا اہلیت، قابلیت ہے، بس روزانہ کی بنیاد پر ان کی پروجیکشن ہو رہی ہے۔

اس دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل احمد بٹ کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ شیریں مزاری نے سپریم کورٹ  میں جواب جمع داخل کرایا ہے کہ پشاورہائیکورٹ نے قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ میرے خیال میں انسانی حقوق کو غلط فہمی ہوئی ہے، پشاور ہائی کورٹ نے  ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس  نے استفسار کیا کہ کیا وزارت دفاع سے کوئی عدالت آ یا ہے، وزارت دفاع سے معلوم کرنا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے وزارت دفاع سے کسی کو طلب نہیں کیا تھا  تاہم وزارت دفاع سے رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے  استفسار کیا کہ کیا عملی طور پر اقدامات این ڈی ایم اے نے کرنا ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ این ڈی ایم کے ذمہ چیزوں کا حصول اور تقسیم ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ لوگوں کو  پیسے لینے کا عادی بنا رہے ہیں جیسے اسٹیل مل میں 15سال سے لوگ بغیر کام کیے تنخواہیں، مراعات اورت رقیاں لے رہے ہیں، پی آئی اے بھی ایسے ہی چل رہا ہے، شپ یارڈ بھی ایک کشتی تک نہیں بنا رہا ہے لیکن تنخواہیں سب لے رہے ہیں اب تو ایک چھوٹی سی کشتی بھی درکار ہو تو چین سے مدد لیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت کی ذمہ داری ہے، صوبوں کے وزرائے اعلی گھر بیٹھ کر احکامات جاری کر رہے ہیں، اس بات کا احساس ہے کہ کورونا سے سپر پاورز کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کیلئے صوبوں کے پاس کٹس ہی نہیں ہیں، خیبر پختونخوا میں جاری ہونے والے پانچ سو ملین آپس میں بانٹ دیے گئے اور سب کا زور صرف مفت راشن تقسیم کرنے پر ہے، عوام کے کاروبار تو ویسے ہی بند کر دیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لالو کھیت میں جس سڑک پر پولیس پر حملہ ہوا اس کا حال دیکھیں، سڑکوں پر دھول، مٹی اور کچرا کسی بیماری سے کم نہیں، ہمارے اراکین اسمبلی پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے ڈررہے ہیں، یورپ امریکانے اس دوران وبا سے نمٹنے کیلئے قانون بنادیا اور اس پر درآمد بھی شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، حکومت سمجھتی ہے کہ بنیادی حقوق اہم نہیں، یہ سوچ غلط ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ  پنجاب جیل میں کورونا وائرس کا مریض سامنے آیاہے۔ بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ ہمیں لوگوں کی زندگی اورت حفظ کااحساس ہے، قانون میں راستہ موجودہے، جیل میں اگر متاثرہ شخص نہیں تو باقی قیدی محفوظ ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جیلوں میں کتنے ملازمین ہیں جوروزانہ باہر سے آتے ہیں، جیل میں متاثرہ شخص نہیں آئے تو باقی قیدی کیسے متاثر ہونگے، ہمیں ان حالات میں تحفظ کے ایس اوپیز بنانے ہوں گے،پ ولیس اور آرمی کی بیرک میں سیکڑوں لوگ رہتے ہیں، وہاں پر ایس اوپیز کو فالو کیا جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل کے حالات کا گھرسے موازنہ نہیں کر سکتے، توازن کیساتھ قیدیوں کی رہائی ہونی چاہئے، قیدیوں کی رہائی کے حوا لے سے اپنی تجاویز دے چکا ہوں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سنگین جرم کے قیدیوں کو رہا کرنا کس طرح درست ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہائیکورٹ کے پاس ازخود نوٹس کااختیار نہیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل  کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا آپکی تجاویز حکومتیں تسلیم کرینگی؟

انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے آرڈر سے معلوم نہیں کون کونسے قیدی باہر آ گئے ہیں، سندھ حکومت نے قیدیوں کو چھوڑا تو اب انہیں واپس کیسے لائینگے؟

وفاقی وزیر شیریں مزاری کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ وزارت انسانی حقوق حکومت کے موقف سے ہٹ کر موقف نہیں اپنا سکتی۔

جسٹس امین نے ریمارکس دیے کہ کوونا وباء ہو یا نہ ہو جسکی ضمانت بنتی ہے اسکو ملنی چاہیے۔ ب

ینچ میں موجود جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ سیدھا سپریم کورٹ سے کیوں کہا جا رہا ہے کہ قیدی چھوڑ دیں، کیا ماتحت عدالتیں ضمانتیں نہیں دے رہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ انگلینڈ میں چار ہزار لوگوں کو رہا کیا گیا ہے  جس پر جسٹس امین نے ریمارکس دیے کہ  انگلینڈ کا قانون ہمارے قانون سے مختلف ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب اور منشیات کے قیدیوں کو بھی چھوڑ دیا۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب کے کسی ملزم کی ضمانت پر رہائی عمل میں نہیں آ سکی جبکہ جعلی اکاؤنٹس کیس کے حسین لوائی کو الگ حکم کے تحت ضمانت ملی۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرٹیکل 187 کا استعمال کیا جبکہ اس کا اختیار صرف سپریم کورٹ استعمال کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹ کا حکم درست نہیں تو اسے چیلنج کیوں نہیں کیا؟ جسٹس امین نے پوچھا کہ کیا اسلام آباد انتظامیہ قانون پر سمجھوتہ کرنا چاہتی ہے؟

چیف جسٹس نے سوال پوچھا کہ کیا ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار کا سوال اٹھایا گیا تھا؟ ہائی کورٹ میں مقدمہ کا عنوان ریاست بنام ضلعی انتظامیہ تھا، ہائی کورٹ میں ریاست کی جانب سے درخواست کس نے دی تھی؟

ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت نے پٹیشن میں تبدیل کی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت میں پیش  ہو کر بتایا کہ ہائی کورٹ رجسٹرار نے فون پر اسلام آباد کے قیدیوں کی تفصیل مانگی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے کوئی تحریری خط یا حکم نہیں بھیجا تھا۔

چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ  آپ کو کچھ علم ہی نہیں کہ کیا ہوا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل ایک ذمہ دارعہدہ ہے، آپ کا کام عدالت کی معاونت کرنا ہے، ہم اس بات کو دیکھیں گے کہ آپ نے اس کیس میں کیسی معاونت کی اور ہم اپنے آرڈرمیں آپ کا ذکر بھی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تفتان، چمن اور طورخم بارڈر پر قرنطینہ کیے گئے لوگوں کیلئے تمام حفاظتی اقدام کریں، ان تینوں جگہوں پر لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کریں، بارڈرز پر ہمارے پاس پارکنگ کی جگہ تک نہیں، وہاں بے ہنگم ٹرک کھڑے ہوتے ہیں۔

 چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہو کر کہا کہ کبھی آپ نے چمن بارڈر دیکھا ہے، میں نے چمن بارڈر دیکھا ہے اور مجھے علم ہے کہ وہاں کیا کیا ہوتا ہے، ان تینوں بارڈرز پر لوگوں کی سہولیات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ 519 قیدیوں کو ہائیکورٹ کے حکم پر رہا کیا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون میں زبانی ہدایت کی کیا اہمیت ہوتی ہے، یہ قومی معاملہ ہے کسی ایک جماعت کا نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ جس انداز سے ضمانت دی گئی میں حمایت نہیں کرتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں آئین موجود ہے، عدالتوں، مقننہ اور انتظامیہ نے آئین کے تحت ہی کام کرنا ہے، عدالتوں نے مکمل طور پر قانون کے تحت فیصلے دینے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل بٹ نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل میں کہا کہ قانون کے مطابق ہائیکورٹ کے حکم کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون نے ایسی ضمانتوں کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہی دیا ہے۔ دوران سماعت صوبائی حکومتوں نے اٹارنی جنرل کی سفارشات کی حمایت کر دی۔

Tags: جسٹس گلزار احمدسپریم کورٹ آف پاکستانقیدیوں کی رہائی کیس کی سماعتقیدیوں میں‌ مہلک بیماریوں‌ کا انکشافکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post
کورونا وبا: نئی دنیا تخلیق کرنے کا موقع

کورونا وبا: نئی دنیا تخلیق کرنے کا موقع

چینی اور گندم اسکینڈل کے بعد وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں

چینی اور گندم اسکینڈل کے بعد وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں

چینی، آٹا اسکینڈل : ٹویٹر پر جہانگیر ترین اور شہباز گل آمنے سامنے آ گئے

چینی، آٹا اسکینڈل : ٹویٹر پر جہانگیر ترین اور شہباز گل آمنے سامنے آ گئے

ان پانچ ایپس کو اپنے موبائل سے فوراً نکال دیں

چینی تحقیقاتی رپورٹ کے پیچھے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہیں ، جہانگیر ترین کا الزام

چینی تحقیقاتی رپورٹ کے پیچھے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہیں ، جہانگیر ترین کا الزام

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In