تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ میں کسی ٹاسک فورس کا کبھی چیئرمین نہیں رہا، میرے حوالے سے یہ غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ مجھے چیئرمین ایگری ٹاسک فورس کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے۔
انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ کوئی مجھے میری بطور چیئرمین ایگری ٹاسک فورس تعیناتی کا نوٹیفکیشن دکھا سکتا ہے؟ بہتر ہے کہ اس خبر کے حوالے سے حقائق درست کر لیے جائیں۔
Hello hello, News bring reported that I have been “removed” as C’man Agri Task Force ….I was never chairman of any task force . Can anyone show me a notification with me as C’man ??
Pl get your facts right people— Jahangir Khan Tareen (@JahangirKTareen) April 6, 2020
اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان کے میڈیا کے حوالے سے معاون ڈاکٹر شہباز گل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ چینی اور گندم سے متعلق انکوائری رپورٹ کے نتیجے میں جہانگیر خان ترین کو زراعت سے متعلق ٹاسک فورس کے چیئرمین کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے۔
Mr. Jahangir Khan Tareen has been removed as Chair of Task Force on Agriculture in light of findings of Sugar and Wheat Inquiry Report. Any further action may be taken after final findings of the Inquiry Committee
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) April 6, 2020
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ انکوائری کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے بعد اس حوالے سے مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔
چینی اور گندم اسکینڈل کے بعد وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں
چینی، آٹے کا مصنوعی بحران، وزیراعظم کا تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد کارروائی کا اعلان
آج ہی وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ اور دیگر اعلیٰ سطحی عہدوں میں ردوبدل کیا ہے، رزاق داؤد کو چیئرمین شوگر ایڈوائزری بورڈ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ وزیر اعظم کے مشیر ارباب شہزاد کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اسی طرح وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی خسرو بختار کو تبدیل کر کے اقتصادی امور کا وزیر بنا دیا گیا جبکہ سید فخر امام کو ان کی جگہ وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ چینی اور آٹے کے بحران سے متعلق تفصیلی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں جو 25 اپریل تک سامنے آ جائے گی۔
اپنے ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ایک اعلیٰ سطح کا طاقتور کمیشن تفصیلی رپورٹ تیار کر رہا ہے جس کے سامنے آنے کے بعد وہ ایکشن لیں گے۔
