وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے آبائی شہر ڈیرہ غازیخان کے ضلعی اسپتال میں کام کرنے والے 14 ڈاکٹرز بشمول پیرامیڈیکل اسٹاف کورونا کا شکار ہو گئے ہیں۔
ان افراد میں کچھ کو ترکی اسپتال مظفر گڑھ اور دیگر تمام کو ڈی جی خان میں بنائے گئے قرنطینہ اور آئیسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف کو انتظامیہ نے کورونا سے حفاظت کا سامان دیے بغیر اس وبا سے نمٹنے پر لگا دیا۔
اس دوران سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز بار بار کہتے رہے کہ انہیں حفاظتی لباس PPE دیا جائے، ان کی آواز میں شہریوں نے بھی آواز ملائی لیکن انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔
پنجاب کے مختلف اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں پر ملیریا کی دوا کا استعمال شروع
ڈاکٹرز نے سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت پر کڑی تنقید کی ہے، انکا کہنا ہے کہ وہ چیخ چیخ کر حفاظتی سازوسامان مانگتے رہے لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ڈاکٹرز کی اتنی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے اور یہ مرض کئی اور شہریوں کو بھی منتقل ہوچکا ہے۔
ڈاکٹروں کے کورونا سے متاثر ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد شہر میں خوف کی فضاء طاری ہے، اطلاعات کے مطابق اب تک ڈیرہ غازیخان میں کورونا مریضوں کی تعداد 227 ہو گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا آبائی ضلع اور شہر ہے، اسی میں پنجاب کا سب سے پہلا قرنطینہ سنٹر بنایا گیا جہاں پر ایران سے تفتان اور پھر ڈی جی خان آنے والے 829 زائرین کرام کو ٹھہرایا گیا۔
اسی جگہ انکی بلڈ سمپل ٹسیٹسنگ کا عمل کیا گیا اور 208 زائرین میں کورونا وائرس کا نتیجہ مثبت نکلا جبکہ دیگر کو کچھ دن ٹہرانے کے بعد انکے گھروں میں بھیج دیا گیا۔
اس دوران ڈی جی خان کے پانچ مقامی شہری اس وباء کی لپیٹ میں آئے جن میں دو ڈاکٹرز بھی شامل تھے۔
مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے چند دنوں میں شہر کے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں اور کورونا کے مریضوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے،
