کورونا وبا کو دنیا میں پھیلانے کے الزام میں امریکی ریاست میسوری نے چین کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
ریاست کے اٹارنی جنرل ایرک شمٹ نے امریکہ کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی حکام میسوری سمیت دنیا بھر میں بڑی تعداد میں اموات، تکالیف اور معاشی نقصانات کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ چینی حکومت نے وائرس کے خطرات کے متعلق جھوٹ بولے اور اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔
کورونا وبا سے چین میں امریکہ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
کیا کورونا وائرس کا آغاز چین کی لیبارٹری سے ہوا؟ امریکہ نے تحقیقات شروع کر دیں
اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ چینی حکومت نے کووڈ 19 کے خطرات اور پھیلنے کی صلاحیت کے متعلق دنیا کو جھوٹ بولا اور جن لوگوں نے اس حوالے سے بات کی انہیں خاموش کرا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت نے وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے اس لیے انہیں اپنے اعمال کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے انٹرنیشنل لا کے پروفیسر شمین کیٹنر کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح نہیں کہ اس مقدمے کا کوئی اثر ہو گا یا نہیں کیونکہ امریکی قوانین عمومی طور پر، سوائے چند مستثنیات کے، دوسرے ممالک کے خلاف مقدمے سے روکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر ایسا کرنا ممکن نہیں، انہوں نے اپنے حالیہ بلاگ میں بھی کہا تھا کہ کرونا وائرس کے لیے چین پر مقدمے بازی میں نہ پڑا جائے۔
میسوری کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر لارئن جپفورڈ نے اس مقدمے کو ریپبلکن اٹارنی جنرل کی ایک کرتب بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے برس انتخابات میں امیدوار ہیں۔
منگل کے روز تک میسوری میں اموات کی تعداد 215 تک پہنچ چکی تھی جبکہ کورونا کے مریض 6 ہزار کے قریب پہنچ گئے تھے۔
کیا گرمی سے کورونا وائرس ختم ہوجائے گا؟ چینی سائنسدانوں کی نئی تحقیق