• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

مودی حکومت کی آمریت، کشمیری فوٹو گرافر مسرت زہرہ پر قید کے سائے منڈلانے لگے

by sohail
اپریل 22, 2020
in تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سرینگر سے تعلق رکھنے والی فری لانس فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کیخلاف ملک دشمن سرگرمیوں کی ترویج کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کے بعد انہیں سرینگر پولیس نے طلب کر لیا ہے، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت انہیں 7سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

صحافیوں کی سلامتی کے لیے کام کرنیوالی تنظیم رپورٹرود آؤٹ بارڈرز نے مسرت زہرہ پر عائد الزامات کو فوری اور غیر مشروط واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسرت زہرہ کو جموں اینڈ کشمیر کی انسداد ہشت گردی پولیس کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس موصول ہوا تھا، ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر فوٹوز و دیگر مواد اپ لوڈ کر کے وہ ملک دشمن سرگرمیوں کی ترویج کی مرتکب ہوئی ہیں۔

مودی حکومت نے بھارت میں آزادی صحافت کا خاتمہ کیسے کیا؟

کورونا وبا اور معاشی نقصانات کے صحافت پر تباہ کن اثرات

زہرہ نے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 18 اپریل کو سرینگر پولیس کی جانب سے سمن موصول ہوا جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ان کے پاس کرفیو پاس بھی نہیں اور ایسی صورتحال میں ان کے لیے باہر جانا مشکل ہوگا۔

زہرہ کو سرینگر پولیس کی جانب سے 20 اپریل کو کیے گئے ٹویٹس کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کیخلاف ’ان لاء فل ایکٹوٹیز پری وینشن ایکٹ ‘ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں پینل کوڈ سیکشن 505 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اس ایکٹ کے تحت نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی باقاعدہ الزام کے بغیر کسی بھی مشتبہ شخص کو حراست میں لے سکتی ہے۔

 زہرہ نے بتایا کہ وہ بالکل ہی حیران ہیں کہ وہ ایسی تصاویر پہلے بھی شائع کرتی رہی ہیں جس بناء پر اب انہیں طلب کیا گیا ہے، میں پروفیشنل فوٹو جرنلسٹ ہوں میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس کے سامنے حاضری کے وقت انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

آر ایس ایف، ایشیاء پیسفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیل باسٹرڈ نے کہا کہ پولیس کی طرف سے کسی بھی طرح کے واضح ثبوتوں کی عدم موجودگی میں، ہم جموں و کشمیر کے حکام سے مسرت زہرہ کے خلاف فوری طور پر اشتعال انگیز الزامات ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، یہ کارروائی واضح طور پر ڈرانے کے مترادف ہے اور ہندوستان کے آئین 1950ء کے آرٹیکل 19 (ون اے ) کی بھی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

اسلام کا مذاق اڑانے پر دبئی نے بھارتی شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا

دہلی میں انتہاپسند ہندوؤں کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والے 53 افراد کی کہانی

انہوں نے کہا کہ خاتون فوٹو جرنلسٹ کو بغیر خوف اور مزید حراساں کیے بغیر اپنے فرائض کی ادائیگی کی اجازت دی جائے۔

زہرہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کشمیری عوام کی روز مرہ کی زندگی کی فوٹو گرافی کرنے میں غیر معمولی مہارت رکھتی ہیں۔

ان کی تصاویر واشنگٹن پوسٹ،الجزیرہ، بھارتی ویب سائیٹس دی کاروان، برٹش ٹیبلائیڈ دی سن، فرانسیسی میگزین سوفوٹ اور ترکی کے قومی نشریاتی گروپ ٹی آرٹی استعمال کرتے ہیں۔

سرینگر سے تعلق رکھنے والے فری لانس صحافی اطہر پرویز کے مطابق مسرت زہرہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جنہیں ریاست دشمن سرگرمیوں کو پروموٹ کرنے سے جوڑا جائے۔

کشمیر پریس کلب کے نائب صدر معظم محمد کے مطابق زہرہ نوجوان صحافی ہیں جو اپنے کام کے بارے میں بہت جذباتی ہیں، ان کیخلاف اس طرح کا کیس زیادتی اور آزادی صحافت پر سنگین حملہ ہے۔

کشمیری مصنف اور سیاسی مبصر گوہر گیلانی کا کہنا تھا مسرت زہرہ کیخلاف کیس، صحافیوں کو خاموش کرنے، طاقت کے استعمال کے ذریعے بیانیے پر قابو پانے اور لاقانونیت کے ساتھ کشمیر کی کہانی پر قابو پانے کے لیے میڈیا کیخلاف بنائے گئے محاذ کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔

مسرت زہرہ کے علاوہ دیگر کشمیری صحافیوں مشتاق احمد غنی اور امیسر گل کو بھی کورونا وباء کے دوران کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران حراساں کیا گیا۔ 20 اپریل کو جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے بھارت کے اخبار دی ہندو کے رپورٹر پیرزادہ عاشق کیخلاف ایک خبر کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2019ء کی رپورٹ کے مطابق بھارت کا شمار 180 ممالک میں سے 140 نمبر پر آتا ہے۔

مسرت زہرہ نے اپنے حالیہ ٹویٹر پیغام میں بتایا ہے کہ میں نے کیس سے متعلقہ پولیس عہدیداران سے ملاقات کی اور تحقیقات سے متعلق ان کے سوالات کے جواب دیے، مجھے گرفتار نہیں کیا گیا اور تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے اس مشکل وقت میں ساتھ دینے والے تمام لوگوں کو شکریہ ادا کیا ہے۔

ملک دشمن سرگرمیوں کی ترویج کے الزامات کا سامنا کرنیوالی مسرت زہرہ کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر Pinnedٹویٹ میں غم سے مدہوش ایک خاتون کی تصویر لگی ہے جس کی کیپشن پر درج ہے کہ ’’عارفہ جان کو 2000ء میں بھارتی فوج کی جانب سے ان کے شوہر کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے دو دہائیوں بعد بھی اکثر خوف و ہراس کے دوروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ وہ اب بھی جب اپنے خاوند کے بارے میں سوچتی ہیں تو انہیں بندوق کی آوازیں سنائی دیتی اور اپنے شوہر کی خون میں لتھڑی لاش نظرآتی ہے،عارفہ جان آج بھی یاد کرتی ہے کہ اس کے خاوند کے جسم میں 18 گولیوں کے سوراخ تھے اور انہیں آج بھی یاد ہے کہ وہ کتنے گہرے تھے‘‘۔

Tags: کشمیری صحافیمودی اور آزادی صحافت
sohail

sohail

Next Post

چین میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز، ہربن شہر میں لاک ڈاؤن نافذ

سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ

بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا اس سے پہلے آڈٹ نہیں کرایا گیا، خواجہ آصف کا اعتراف

کورونا کے ڈر سے فرانس بھاگ جانیوالی ہانگ کانگ کی ٹیم اس سے نہ بچ پائی

دنیائے کرکٹ کے وہ 5 واقعات جب سچن ٹنڈولکر متنازعہ بن گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In