چین کا شمال مشرقی شہر ہربن کورونا کی دوسری لہر کا مرکز بن گیا ہے جس کے بعد یہاں سختی کر دی گئی ہے۔
شہر میں کورونا کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد باہر سے لوگوں کی آمد روک دی ہے اور شہریوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ایک کروڑ آبادی پر مشتمل شہر ہیلونگ جیانگ صوبے کا حصہ ہے، یہاں باہر کے لوگوں کی رہائشی علاقوں میں آمد ممنوع قرار دے دی گئی ہے جبکہ مقامی افراد کو رہائشی علاقوں میں آنے اور جانے کے لیے اپنے سمارٹ فون پر کیو آر کوڈ سکین کرنا لازمی کر دیا گیا ہے۔
کیا کورونا وائرس کا آغاز چین کی لیبارٹری سے ہوا؟ امریکہ نے تحقیقات شروع کر دیں
کورونا وبا سے چین میں امریکہ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
کیو آر کوڈ اگر سبز آ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص کورونا کا مریض نہیں ہے اور ماسک پہن کر گھر سے باہر جا سکتا ہے۔
صوبہ ہیلونگ جیانگ روسی سرحد پر واقع ہے اور یہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کا مرکز بن گیا ہے، یہاں گزشتہ دس دنوں میں کورونا کے 57 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
رواں مہینے کے آغاز میں چین نے عارضی طور پر روس کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں، اس دوران ہربن میں باہر سے آنے والے ہر شخص کے لیے 14 روز قرنطینہ میں رہنا لازم کر دیا گیا تھا۔
تاہم اب ہربن میں روس سے پروازیں جاری ہو گئی ہیں اور بدھ کے روز سات مقامی طور پر کورونا کے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد شہر میں مریضوں کی کل تعداد 75 ہو گئی ہے۔
شہر کی انتظامیہ کے مطابق ان میں سے 23 افراد میں کورونا کی کوئی علامت نہیں پائی گئی جبکہ 14 سو افراد کو طبی عملے کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
کیا کورونا وائرس ووہان کی لیب میں تخلیق کیا گیا اور وہیں سے دنیا میں پھیلا ہے؟
کورونا کا پھیلاؤ: امریکی ریاست نے چین کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا
بدھ کے روز مین لینڈ چین میں 72 نئے کیس سامنے آئے تھے جن میں سے 30 میں کورونا کی علامات موجود تھیں۔
مین لینڈ چین میں نئے کیسز میں بڑی تعداد دیگر ممالک سے آنے والے چینی باشندوں کی ہے، 72 کیسز میں سے 30 انہی افراد پر مشتمل ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چین میں کورونا سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 4632 ہے۔
چین میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 82 ہزار 7 سو 88 ہے جن میں سے تقریباً 93 فیصد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔