وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ باتیں تو سب کرتے تھے مگر پی ٹی آئی کی منفرد بات یہ ہے کہ انہوں نے شفاف تحقیقات کرا کے عوام کے سامنے سب کچھ رکھ دیا ہے۔
مفادات کا ٹکراؤ
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کی چند کمپنیاں جو کابینہ کے اراکین کی ہیں ان سب کے لیے ایک ہی اصول ہے، اگر انہوں نے غلط کام کیا ہے تو صرف کابینہ سے نہیں نکالنا چاہیئے بلکہ سزا بھی ملنی چاہئے لیکن اگر انہوں نے سرمایہ کاری کر کے پیسہ کمایا ہے تو یہ جرم نہیں ہے۔
اسد عمر سے سوال کیا گیا کہ عمران خان یہ بات کہتے رہے ہیں کہ اقتدار میں آ کر آپ کاروبار نہیں کر سکتے ہیں۔ ندیم بابر کی تین کمپنیاں ہیں اور ایک کمپنی رزاق داؤد کی ہے۔ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟
بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا اس سے پہلے آڈٹ نہیں کرایا گیا، خواجہ آصف کا اعتراف
شہباز شریف کے ستارے گردش میں ہیں، تراویح پر جاتے ہوئے گرفتار ہو جائیں گے، شیخ رشید
اسد عمر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت ہماری حکومت ایک نئی آپی پی پیزکا اعلان کرے اور تحریک انصاف کی کابینہ کا کوئی شخص اس کا دعویدار بنے گا تو میں کہوں گا کہ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن یہ سارے فیصلے ہماری حکومت سے پہلے کے کیے ہوئے ہیں۔
چینی کی ایکسپورٹ کا فیصلہ کیوں ہوا؟
سینئر صحافی کاشف عباسی نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے چینی کی ایکسپورٹ کا فیصلہ کیوں کیا؟
اسد عمر نے کہا کہ ایکسپورٹ کے فیصلہ کے پیچھے مفروضہ یہ تھا کہ جب سال کا اختتام ہو گا تو ہمارے پاس 20 لاکھ ٹن چینی اضافی ہو گی جس میں 10 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی جائے، جب سال کا اختتام ہوا تو چینی کا 12لاکھ ٹن سے زائد کا اسٹاک موجود تھا۔
اسد عمر نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ چینی کی ملک میں کوئی کمی نہیں ہوئی مگر اس کے باوجود قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمت میں اضافے کی کوئی منطقی وجہ نہیں تھی۔
اسد عمر نے کہا کہ جنوری سے جون تک 16روپے فی کلو چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا، میں قومی اسمبلی میں بھی یہ بات کر چکا ہوں، میری سبسڈی کے بارے میں کیا رائے تھی وہ سب کو پتہ ہے اس لیے وفاق نے سبسڈی نہیں دی۔
ان سے سوال کیا گیا کہ انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن نے خط لکھا تھا کہ چینی کی قلت ہو گی اس لیے ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
اسد عمر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا بالکل نہیں لکھا تھا، میں چیلنج کرتا ہوں مجھے وہ کاغذ دکھا دیں۔ میں تین ہفتے سے پوچھ رہا ہوں مجھے وہ کاغذ دکھا دیں۔
کاشف عباسی نے کہا کہ رپورٹ کہہ رہی ہے، اسد عمر نے جواب دیا کہ رپورٹ میں مجھے وہ کاغذ دکھا دیں جہاں پر یہ لکھا ہوا ہے۔ کامرس اور انڈسٹریز کا تو وزیر رزاق داؤد تھا اور کامرس کی سمری پر تو اجازت دی گئی ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی نے کہا کہ اس سال کی گنے کی فصل کی زیادہ پیداوار کی امید نہیں ہے کیونکہ پانی کی کمی کا سامنا ہے مگر انہوں نے بھی ایکسپورٹ کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے باوجود سال کے آخر میں بارہ لاکھ ٹن چینی بچ گئی تھی، ای سی سی یا کابینہ کے اجلاس میں کہیں بھی فوڈ سیکیورٹی نے ایکسپورٹ کی مخالفت نہیں کی تھی۔
اسد عمر نے کہا کہ چینی کا کاروبار کرنے والا وزیر ساتھی صرف خسرو بختیار ہے، جس دن ای سی سی میں چینی کی ایکسپورٹ کا ایجنڈا تھا اسی صبح خسرو بختیار کا فون آیا اس نے کہا کہ آج چینی کی ایکسپورٹ بھی ایجنڈے میں شامل ہے اس لیے میں میٹنگ میں نہیں آؤں گا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ خسرو بختیار میٹنگ میں نہیں آیا اور اس نے مجھ پر کسی بھی طرح سے اثر انداز ہونے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔
اسد عمر سے سوال کیا گیا کہ کیا آئی پی پیز کا بھی فرانزک آڈٹ ہو گا؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ایک آزاد و خودمختار کمیشن کے تحت تحقیقات کرائی جائیں گی، اس کواختیار دے رہے ہیں کہ وہ فرانزک آ ڈٹ بھی کرے گا، اس کے علاوہ بھی جو تحقیقات کرانا چاہے کرا سکتا ہے، اس کو بجٹ بھی دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس دن انہوں نے وزیر خزانہ کے عہدے سے استفیٰ دیا تھا اسی دن پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ میرا وزیر اعظم عمران خان ہے اور انہیں اس فیصلے پر صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
جہانگیر ترین کا کردار
ان کا کہنا تھا کہ میں ایم این اے بھی عمران خان کے ووٹوں پر منتخب ہوا تھا، دوبارہ ایم این اے بننے میں پانچ سات فیصد میرا بھی حصہ ہے لیکن کسی ایم این اے کو وزیر بنانا یا پھر نہ بنانا یہ 100 فیصد وزیراعظم کی ہی صوابدید ہوتی ہے۔اس میں بحث کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ میں نے کبھی کسی نجی محفل میں بھی نہیں کہا کہ میں جہانگیرترین کی وجہ سے نکلا ہوں۔ ایسا میں نے کبھی نہیں کہا ہے۔ عمران خان کا فیصلہ تھا وہ جس بنیاد پر ہو۔
اسد عمر سے سوال کیا گیا کہ آپ کی حکومت میں کوئی وزیر یا مشیر ایسا ہے جس نے کسی دوسرے ملک کو جا کر کہا ہو کہ ان کے ذاتی کاروبار میں سرمایہ کاری کی جائے۔
انہوں نے جواب میں کہا کہ میرے ذریعے یا میرے سامنے ایسا کوئی پیغام نہیں پہنچایا گیا۔
اسد عمر نے کہا کہ نہ میں تصدیق کر سکتا ہوں نہ ہی تردید کر سکتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کسی نے کیا ہو لیکن میرے سامنے یا میرے ذریعے ایسی کوئی بات ہیں ہوئی۔
(یہ انٹرویو اے آر وائی کے پروگرام "آف دی ریکارڈ” میں لیا گیا)