متحدہ عرب امارات میں مقیم ہندوؤں کی طرف سے اسلام مخالف پراپیگنڈہ پر یو اے ای کی شہزادی ہیند القاسمی نے خبردار کیا ہے کہ ایسے افراد پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا اور انہیں ملک سے نکال بھی دیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بات ٹویٹر پر کہی جس کے بعد یو اے ای کے دیگر لوگ بھی ان کی حمایت میں بولنا شروع ہو گئے۔
دی ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے شہزادی نے کہا کہ میں نے محسوس کیا کہ بھارتی میرے مذہب، میرے پیغمبر، میرے ملک اور اس کے کارناموں کا مذاق اڑا رہے ہیں، وہ ہمیں ہماری ہی سرزمین پر دھمکی دے رہے تھے۔
اسلام کا مذاق اڑانے پر دبئی نے بھارتی شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا
سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پوسٹیں، متحدہ عرب امارات میں دو بھارتی شہری مشکل میں پھنس گئے
انہوں نے کہا کہ بعد میں کئی بھارتیوں نے کہا کہ میں تبلیغی جماعت کا دفاع کر رہی ہوں حالانکہ میں انسانوں کے قتل کے خلاف بات کر رہی تھی۔
شہزادی ہیند القاسمی نے استفسار کیا کہ بھارت کو کیا ہو گیا ہے؟
دی ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے شہزادی ہیند کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک اور ہٹلر کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مارٹن لوتھر، نیلسن منڈیلا اور گاندھی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
15 اپریل کو انہوں نے ایک بھارتی باشندے سوراب اپادھے کے سکرین شاٹس ٹویٹر پر دکھا کر کہا تھا کہ جو بھی نسل پرستی یا امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرے گا اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا اور ملک سے نکال دیا جائے گا۔
سوراب اپادھے نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی لیکن پھر حکومت کے خوف سے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کر دیا تھا۔
ان کی ٹویٹ کو عرب ایکٹویسٹس اور دانشوروں کی جانب سے غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔
شہزادی ہیند القاسمی کی طرف سے سخت ردعمل کے بعد یو اے ای کے بااثر افراد نے بھی بھارتی سیاستدانوں کے مسلمان مخالف بیانات اور بھارت میں تشدد کی ویڈیوز شیئرکرنا شروع کر دیں۔
یو اے ای کے دباؤ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے وزرا کے بیانات آنے شروع ہو گئے۔
19 اپریل کو مودی نے ٹویٹ کیا کہ کورونا وائرس حملہ کرنے سے قبل نہ نسل دیکھتا ہے اور نہ ہی مذہب، رنگ، ذات، عقیدہ، زبان اور سرحدیں دیکھتا ہے۔
اگلے ہی روز یواےای میں بھارتی سفیر پون کپور نے اسے ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انسانوں میں امتیاز ہمارے اخلاقی وجود اور قانون کی حکمرانی کے تصور کے خلاف ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی باشندوں کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔
اس وقت تقریباً 33 لاکھ بھارتی باشندے یو اے ای میں مقیم ہیں، یہ اپنے ملک سے باہر بھارت کی سب سے بڑی آبادی ہیں، مجموعی طور پر خلیجی ممالک میں 89 لاکھ بھارتی کام کرتے ہیں۔