کورونا وائرس کے خلاف چین کی کامیاب حکمت عملی اور یورپی ممالک کی ناکامی جمہوریت کے مستقبل پر سوالیہ نشان بنتی جا رہی تھی اور یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس وبا کے خاتمے پر جمہوریت ایک مثالی نظام حکومت نہیں سمجھا جائے گا۔
اس دوران نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی حکومتیں سیاست سے بالاتر ہوکر کورونا وائرس کو شکست دینے کے قریب پہنچ چکی ہیں، دونوں جمہوری ممالک کی اس کامیابی سے یہ امید پیدا ہورہی ہے کہ انکی مثال کو اپنا کر جمہوریتیں اس وبا سے کامیابی سے لڑ سکتی ہیں۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کے کیسز تیزی سے کم ہو رہے ہیں جس سے اس بات کا امکان ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی کورونا کا مکمل صفایا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان ممالک کی اب تک کی کامیابی دنیا کیلئے مشعلِ راہ ہے۔
کورونا وبا: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اور کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں کمی کر دی
کورونا وبا کا آغاز اور پھیلاؤ: چین نے آسٹریلیا کا تحقیقات کا مطالبہ مسترد کر دیا
دونوں ممالک نے کورونا وبا سے لڑنے کیلئے سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے طبی ماہرین کی آراء پر عمل کیا۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن ایک قدامت پسند عیسائی ہیں جبکہ دوسری طرف نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسندا آرڈن ہیں جنہیں بائیں بازو کی نمائندہ سمجھاجاتا ہے۔
دونوں ممالک میں جمہوری حکومتیں ہیں مگر جماعت بازی کو پیچھے دھکیل کر کورونا وائرس کے خلاف ماہرین کو لڑنے کیلئے آگے رکھا گیا ہے۔ یہی ان کی وائرس کے خلاف حکمت عملی کی خوبصورتی ہے جس نے انہیں دیگر جمہوری ممالک کیلئے مثال بنا دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ڈاکٹر پیٹر کولیگنن کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی حکمت عملی امریکہ سے مختلف ہے کیونکہ ان ممالک میں کورونا وبا سے لڑائی کو سیاست کرنے کا وقت نہیں سمجھا گیا بلکہ اعدادوشمار اکٹھے کر کے وائرس سے نمٹنے پر ساری توانائیاں صرف کی جا رہی ہیں۔
دنیا بھر میں امریکہ سمیت کئی ممالک میں کورونا کے خلاف جنگ میں سائنس کی بجائے سیاست حاوی ہے۔ امریکہ میں ریاستیں اور وائٹ ہاؤس آمنے سامنے ہیں۔ پاکستان میں وفاقی حکومت اور سندھ حکومت میں روزانہ کی بنیاد پر سیاسی بیان بازی دیکھنے میں آرہی ہے۔
بھارت میں وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مودی کی جماعت نے وائرس کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی اقدامات کیلئے ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ غرض دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے استثنیٰ کے ساتھ، کورونا وبا کے خلاف سیاست کسی نہ کسی شکل میں رکاوٹ بنی ہے۔
ان دو ممالک میں اہلیت کو انا پر سبقت دی گئی ہے جس سے جمہوری حکومتوں پر کچھ اعتماد بحال ہوا ہے۔
کیا کورونا وائرس مغربی جمہوریتوں کو مستقل تبدیل کر دے گا؟
کورونا وبا پر قابو پانے کا صلہ: جنوبی کوریا کی حکمران جماعت بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گئی
آسٹریلیا میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 25 جنوری کو سامنے آیا تھا جبکہ نیوزی لینڈ میں وائرس کا پہلا کیس 28 فروری کو سامنے آیا تھا۔ امریکہ اور یورپی رہنماؤں کے برعکس آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی قیادت نے وائرس کے خلاف تیزی سے اقدامات اٹھاتے ہوئے واضح انتباہ جاری کئے۔
آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن نے طبی ماہرین کی ہدایات کی روشنی میں امریکہ سے پہلے یکم فروری کو چین سے آنیوالوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی اور کورونا وائرس کو 27 فروری کو ہی وبا قرار دے دیا۔
یاد رہے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کو آسٹریلیا کی جانب سے وبا قرار دیے جانے کے دو ہفتوں بعد وبا قرار دیا گیا۔ ان ممالک نے اسپتال بنانے اور انکی استعداد بڑھانے کیلئے بہت پہلے سے اقدامات شروع کر دیے تھے۔
آسٹریلیا میں کورونا کے خلاف سیاست دانوں نے سائنسدانوں کو پوری طرح لڑنے دیا۔ ٹیسٹ بڑھائے گئے، متاثرہ لوگوں اور ہیلتھ کئیر اسٹاف کو بجٹ دیا گیا، کیسز بڑھے تو نئے طبی ماہرین کو تیزی سے بھرتی کیا گیا، ملکی قیادت نے سائنسدانوں کی مانی اور بغیر کسی سیاست کے تمام اقدامات اٹھاتے گئے۔
اسی طرح نیوزی لینڈ میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے ایک ماہ کے دوران ہی مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ ہمیں اس وائرس کے خلاف سختی سے جلدی سے لڑنا ہوگا۔
دونوں ممالک میں عوام کی جانب سے کورونا کے خلاف سخت اقدامات پر پہلے مزاحمت ہوئی اس کے بعد عمل ہونا شروع ہوگیا۔
آسٹریلیا کے قدامت پسند وزیراعظم نے طبی ماہرین کی آراء کی روشنی میں عوام کو سمجھانے کیلئے روایتی ریڈیو کا سہارا لیا جبکہ نیوزی لینڈ کی سربراہ نے ’فیس بک لائیو‘ پر پیغامات جاری کئے۔
دونوں رہنماؤں نے طبی ماہرین کی سنی اور اس پر عمل جاری رکھا، جس وجہ سے سائنسدانوں کی جانب سے ان کی تعریف بھی کی گئی، ان ممالک کی قیادت نے طبی ماہرین کی رہنمائی پر عمل جاری رکھا اور کورونا کو شکست دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
آسٹریلیا میں ایسٹر تک کورونا وائرس کے ایک لاکھ 53 ہزار کیسز متوقع تھے مگر قیادت کے ان اقدامات کے باعث اب تک کل 6 ہزار 6 سو 75 کیسز سامنے آئے ہیں۔
آسٹریلیا میں کورونا وائرس سے 78 اموات ہوئی ہیں اور اب اس ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھنے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہوچکی ہے۔
اسی طرح نیوزی لینڈ میں اب تک کورونا وائرس کے ایک ہزار 4 سو 65 کیسز سامنے آئے ہیں اور 17 اموات ہوئی ہیں، نیوزی لینڈ میں کورونا وبا سے 1,095 صحت یاب ہوچکے ہیں اور نیویارک ٹائمز کے مطابق اس وقت ایکٹو کیسز کی تعداد صرف 361 ہے۔ کیسز بڑھنے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
کورونا وبا کے خلاف ان دوممالک کی کامیابی کو دنیا بھر میں جمہوریت اور سائنس کیلئے نیک شگون تصور کیا جا رہا ہے، ان ممالک سے پہلے چین کے ماڈل کو دنیا میں پذیرائی مل رہی تھی مگر ان ممالک کی کامیابی نے جمہوریت کیلئے بھی نئی امید جگا دی ہے۔
Comments 1