امریکی حکومت کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کے سائنسدانوں کی نئی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس سورج کی روشنی سے تیزی سے ختم ہونے لگتا ہے۔
ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکرٹری کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مشیر ولیم برائن نے رپورٹرز کو بتایا کہ اس نئی تحقیق کو ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا کیونکہ ابھی مزید جائزہ لینا باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ الٹراوائلٹ شعاعیں وائرس پر اثرانداز ہوتی ہیں جس سے امید ہوتی ہے کہ موسم گرما میں یہ وبا ختم ہو جائے گی۔
کیا نکوٹین کورونا کے خلاف موثر ہے؟ نئی تحقیق سامنے آ گئی
سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ
امریکی میڈیا کے مطابق ولیم برائن کا کہنا تھا کہ اب تک کا اہم ترین مشاہدہ ہے کہ سورج کی روشنی وائرس کو فضا میں اور زمین پر ختم کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ درجہ حرارت اور ہوا میں رطوبت کے اثرات بھی ایسے ہی ہیں، جب درجہ حرارت اور ہوا میں رطوبت بڑھتی ہے تو کورونا وائرس کے وجود کے لیے ماحول ناسازگار بن جاتا ہے۔
برائن نے ایک سلائیڈ بھی دکھائی جس کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ 21 سے 24 ڈگری سنٹی گرینڈ درجہ حرارت اور 20 فیصد رطوبت پر ٹھوس جگہوں پر موجود وائرس کی آدھی عمر، جس میں اس کی تعداد آدھی رہ جاتی ہے، 18 گھنٹے ہو گئی۔
جب رطوبت 80 فیصد ہوئی تو اس کی عمر 6 گھنٹے رہ گئی اور اس میں سورج کی شعاعیں بھی شامل کر دی گئیں تو یہ عمر کم ہو کر صرف 2 منٹ رہ گئی۔
دروازے کے ہینڈل اور سٹین لیس اسٹیل پر موجود وائرس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔
ہوا میں معلق کورونا وائرس کی آدھی عمر 21 سے 24 سنٹی گریڈ درجہ حرارت اور 20 فیصد رطوبت پر ایک گھنٹہ تھی تاہم جب سورج کی شعاعیں شامل کی گئیں تو یہ عمر کم ہو کر ڈیڑھ منٹ رہ گئی۔
نیویارک میں کورونا وائرس چین کے بجائے یورپ سے منتقل ہوا، نئی تحقیق
کورونا مریضوں کی بڑی تعداد میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، نئی تحقیق میں انکشاف
برائن نے بتایا کہ اس تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ موسم گرما کے باعث اس وائرس کی منتقلی کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ گرمیوں میں یہ وائرس ختم ہو جائے گا اور سماجی فاصلے جیسی ہدایات کو لوگ نظرانداز کرنے لگیں۔
اس سے قبل کیے گئے تجربات سے بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ سرد اور خشک موسم کورونا وائرس کے لیے زیادہ سازگار ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سرد موسم میں کورونا وائرس رکھنے والے چھوٹے قطرے زیادہ دیر ہوا میں معلق رہتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ گرم سطح پر وائرس کے اردگرد موجود چربی، جو اس کا تحفظ کرتی ہے، تیزی سے خشک ہو کر ختم ہو جاتی ہے۔
امریکی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگر موسم گرما میں کورونا وائرس کی شدت کم ہو بھی گئی تو اگلی سردیوں میں یہ فلو کے وائرس کے ساتھ دوبارہ واپس آ سکتا ہے۔
تاہم ابھی تک اس تحقیق کو پبلک نہیں کیا گیا جس کے باعث ماہرین کا اس پر تبصرہ اور اس کی صحت کے حوالے سے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
یہ بات بہت عرصے سے سائنسدانوں نے دریافت کر لی تھی کہ الٹراوائلٹ شعاعیں وائرس کی جینیٹک ساخت کو تباہ کرتی ہیں اور اسے مزید وائرس پیدا کرنے سے روکتی ہیں۔
تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ تحقیق کے دوران الٹراوائلٹ کی شدت اور ویو لینتھ کیا تھی، کیا یہ دونوں پہلو قدرتی طور پر پائی جاتی سورج کی روشنی میں بھی موجود ہیں؟
ٹیکساس کی اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے شعبہ حیاتیات کے سربراہ بنجمن نیومین کا کہنا ہے کہ اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ یہ تجربہ کیسے کیا گیا اور اس کے نتائج کو کیسے ماپا گیا۔