کورونا وبا کے باعث انٹرنیشنل پروازوں پر پابندی لگ چکی ہے اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
یورپی ممالک اپنے زیادہ تر شہریوں کو واپس لے جا چکے ہیں مگر بھارت نے 24 مارچ سے پروازیں بند کرنے کے بعد اپنے باشندوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔
یو اے ای کی شہزادی جس کی دھمکی کے بعد بھارتی حکمرانوں کا لہجہ بدل گیا
اسلام کا مذاق اڑانے پر دبئی نے بھارتی شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا
گلف نیوز کے مطابق حال ہی میں یو اے ای نے اعلان کیا ہے کہ جو ممالک اپنے لوگوں کو واپس لینے کے انتظامات نہیں کریں گے ان کے ساتھ تعاون اور مزدوری کے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے گی۔
یو اے ای حکومت کی جانب سے معاہدوں پر نظرثانی کے بعد ان ممالک سے مزید کارکن لینے پر پابندیاں اور ان کے لیے کوٹا سسٹم جاری کرنا شامل ہیں۔
تاہم متحدہ عرب امارات کے اس اعلان کے بعد بھی دلی سرکار نے ابھی تک یو اے ای میں پھنسے اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے۔
دوسری جانب پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں، اسلام آباد اس وقت یو اے کی حکومت سے قریبی رابطے میں ہے تاکہ جن لوگوں کا وزٹ ویزا ختم ہو چکا ہے یا جو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں انہیں جلد از جلد واپس لایا جا سکے۔
18 اپریل سے 28 اپریل کے دوران 18 پروازوں کا شیڈول جاری کیا گیا ہے جبکہ مزید کا اعلان اگلے ہفتے متوقع ہے۔
پاکستانی سفارت خانہ ان افراد کو رجسٹر کر رہا ہے جو اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں، اب تک 40 ہزار افراد نے اپنا نام لکھوا دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا چند ممالک سے بھرتیوں پر پابندیاں لگانے کا امکان
سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پوسٹیں، متحدہ عرب امارات میں دو بھارتی شہری مشکل میں پھنس گئے
یو اے ای کے پاکستان میں سفیر حماد عبید الذابی نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی تعریف کی ہے، اپنے ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں جبکہ تعاون کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے، آپ لوگ یو اے ای کی دنیا بھر میں اپنے دوستوں کے معاملے میں استقامت پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق بھارت کو اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے فوری انتظامات کرنے چاہئیں، ابھی تک حکومت ان لوگوں کی خوراک اور صحت کی ضروریات کا خیال رکھ رہی ہے لیکن اس فیاضی کا کسی ملک کو ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔