کورونا وائرس سے بری طرح متاثرہ ممالک اٹلی اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کو ایک ماہ بعد کورونا وائرس کی تباہی کی خبر ملی تو انہیں یقین ہی نہیں آیا۔
یورپ سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا جب فروری کے آخر میں سمندر ی جزیروں کی سیر کو نکلا تو اپنے گھر والوں کو بتا دیا کہ کسی قسم کی بری خبر دینے کیلیے ہم سے رابطہ نہ کرنا۔
کورونا کے ڈر سے فرانس بھاگ جانیوالی ہانگ کانگ کی ٹیم اس سے نہ بچ پائی
کورونا وائرس: اٹلی میں مافیا غریبوں کی مدد کیلئے پہنچ گیا، حکام پریشان
یورپی جوڑے نے اپنی ذاتی کشتی پر بحر اوقیانوس پار کرنے کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی اور انہوں نے کیریبئین جزیروں پر پہنچنا تھا۔
انہوں نے 28 فروری کو اسپین کے جزیرہ لانزاروتے سے بحری سفر کا آغاز کیا تو اس وقت کورونا وبا چین تک محدود تھی۔ سفر سے پہلے انہوں نے یہ خبر بھی سن لی کہ کورونا وائرس سے ہونیوالی اموات کم ہو رہی ہیں۔
سمندری سفر پر روانہ ہونیوالی ایلینا کا تعلق اٹلی سے جبکہ ریان اوسبورن کا تعلق برطانیہ سے ہے، دونوں نے 2017ء میں نوکریاں چھوڑ کر سمندر کی سیر کیلیے ایک کشتی خریدی تھی۔
وہ سمندری سیر کرتے اور اسکی ویڈیوز اپنے یوٹیوب چینل کی زینت بناتے تاہم بحراوقیانوس کے طویل ترین سفر کے دوران وہ لگ بھگ ایک ماہ انٹرنیٹ سے دور رہے۔
کیا کورونا وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا؟ امریکی سائنسدانوں کی تحقیق نے امید جگا دی
سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ
تین ہزار ناٹیکل میل کے سفر پر روانہ ہونیوالے اس جوڑے نے 25 دن تک انٹرنیٹ بند رکھا اور اس بھیانک حقیقت سے بے خبر رہے کہ انکے آبائی ممالک میں کورونا وائرس سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں اموات ہورہی ہیں۔ وہ اپنی ذاتی کشتی پر اس طویل سفر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
25 مارچ کو ایلینا اور ریان نے انٹرنیٹ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور پیکج لگانے کے بعد کورونا کی ہولناکیوں کی خبریں پڑھتے ہی شدید صدمہ کا شکار ہوگئے۔
دونوں کے لیے کورونا وائرس سے ایک ماہ کے دوران کی گئی تباہ کاریوں کو ایک ساتھ سننا ناقابل یقین تھا، ایلینا کا تعلق اٹلی میں کورونا سے سب سے زیادہ تباہ حال علاقہ لومباردی سے ہے۔
انہوں نے دی گارڈین کو بتایا کہ ریان کو نیویارک ٹائمز کا ایک 10 روز پرانا آرٹیکل ملا جس میں بتایا گیا تھا کہ لومباردی میں موجود انکا آبائی قصبہ برگامو دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔
ایلینا کا کہنا ہے کہ جب ہم نے انٹرنیٹ پر اپنے آبائی قصبہ میں لاشوں سے بھرے فوجی ٹرک دیکھے اور یہ پتہ چلا کہ قبرستان میں جگہ کم پڑ گئی ہے تو یہ گھڑی بہت زیادہ حیران کن اور المناک تھی۔
دی گارڈین کے مطابق یورپی جوڑا اب کیریبئین جزیروں میں اپنی منزل مقصود پر پہنچ چکا ہے اور بیکویا نامی جزیرے پر موجودہ ہے جہاں ابھی تک کورونا وائرس کا کوئی کیس نہیں پہنچا مگر وبا نے انکے آبائی ممالک کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔