سینئر صحافی ہارون الرشید نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کو بھاری رقم ادا کرنے کے بعد لندن جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ان کا کہنا ہے انہیں یہ خبر انتہائی اعلی سطح کے قابل اعتماد ذرائع نے دی ہے کہ نواز شریف 50 کروڑ ڈالرز کی ادائیگی کر چکے ہیں، انہوں نے لندن جا کر باقی رقم دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اب ان کا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔
انہوں نے بتایا کہ 50 کروڑ ڈالرز میں سے 445 ملین ڈالرز اسٹیٹ بینک میں جمع ہوئے ہیں جبکہ باقی 55 ملین ڈالرز کے بارے میں ان کے پاس معلومات نہیں ہیں کہ کہاں جمع کرائی گئی ہے۔
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی بیماری ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، اسے جان بوجھ کر اچھالا گیا تاکہ ایک خوف کی فضا پیدا کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان بھی پریشان ہو گئے کہ خدا نہ کرے ایسا کوئی حادثہ ہو اور مصیبت آ جائے گی۔
ہارون الرشید نے کہا کہ عدالتوں کو کیا پتہ ۔۔ اندرون خانہ ہنگامہ ہے کیا کیا چراغ رہگزر کو کیا کیا خبر ہے ۔۔ چنانچہ نواز شریف کی ضمانت ہو گئی اور وہ لندن چلے گئے۔
تاہم وہ اسپتال داخل ہونے کے بجائے مشہور زمانہ فلیٹس میں مقیم ہو گئے، اب ان کا اس وقت تک واپس آنے کا ارادہ نہیں جب تک کوئی ایسی حکومت نہ آ جائے جو ان سے زیادہ تعرض نہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی نئی حکومت آئے گی تو وہ یہ راز فاش کرے گی، کیونکہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور تاریخ اپنے دامن میں کوئی راز چھپا کر نہیں رکھتی ہے، اس لیے یہ ثابت ہو جائے گا کہ نواز شریف نے پیسے دیے تھے۔
ہارون الرشید نے کہا کہ اس ملک کے سب سے دو با خبر آدمیوں میں ایک نے ذاتی طور پر مجھے بتایا تھا کہ شریف خاندان کی برطانیہ میں 300 جائیدادیں ہیں۔ اس آدمی کو پتہ ہو گا کہ وہ کون تھا اور اسے یہ بھی یاد ہو گا کہ اس نے مجھے کب یہ بتایا تھا۔
خبر بتانے سے پہلے ہارون الرشید نے کہا کہ شاید یہ خبر مجھے بھگتنی بھی پڑ سکتی ہے۔
(ہارون الرشید نے92 نیوز پر اپنے پرو گرام مقابل میں یہ خبر بریک کی ہے)
پاکستان کے معاشی حالات تو ویسے کے ویسے ہی ہیں ورنہ اتنی بڑی رقم سے کافی بہتری نظر آتی۔ اگر موصوف نے یہ رقم اداکی تو کس مد میں؟ عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ، تاوان، رشوت یا یہ کسی کی جیب میں چلی گئی۔ ریکارڈ میں اس کا اندراج ہوا تو کس حوالے سے۔
پاکستان کی تاریخ میں لوٹا ہوا مال سی نے واپس نہیں کیا۔ اور نہ ہی نئے برسراقتدار آنے والوں کی یہ خواہش ہوتی ہے۔کیونکہ اس بہتی گنگا میں انہوں نے بھی ہاتھ دھونے ہوتے ہیں۔ کیا پرویز مشرف کی جائداد ضبط ہو گئی ہے۔ نواز شریف خود لندن نہیں گیا۔ بلکہ س سے پیچھا چھڑانے کے لئے اسے زبردستی بیماری کے بہانے باہر بھیجا تاکہ ہم بھی اچھی طرح قومی خزانے پر ہاتھ صاف کر سکیں۔ یہ آٹا چینی سکینڈل بھی عمران خان نے اپنی دکان کی مشہوری کے لئے پبلک کیا ہے۔ عوام کی توجہ بھی بیڈ گوورننس سے ہٹ جائے گی۔
اگر اتنی بڑی رقم واپس ہوتی تو عمران خان اس کا کرڈٹ لینے میں دیر نہ لگاتے۔ ۔۔۔یا پھر حصہ بقدر جثہ یہ بھاری رقم آپس میں تقسیم ہوگئی ہے۔
اندرون خانہ ہنگامہ ہے کیا کیا چراغ رہگزر کو کیا کیا خبر ہے