• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, مئی 31, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

سنجے دت کی گرفتاری اور اعتراف جرم کی تفصیلی کہانی سابق پولیس کمشنر کی زبانی

by sohail
اپریل 25, 2020
in تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 ممبئی کے سابق پولیس کمشنر راکیش ماریا نے اپنی سوانح حیات‘Let Me Say It Now’ میں 1993ء میں بھارتی اداکار سنجے دت کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے اور ممبئی حملوں کے کیس میں گرفتار کرنے اور ان سے بیان اگلوانے کی تفصیل رقم کی ہے۔

انہوں نے سوانح عمری میں لکھا ہے کہ 19 اپریل 1993ء کو سنجے دت نے رات 2 بجے ائیرپورٹ پہنچنا تھا، سینکڑوں کی تعداد میں لوگ سہار ائیرپورٹ کے انٹرنیشنل ٹرمینل کے سامنے جمع تھے۔ سنجے دت کی فیملی اور فلم انڈسٹری کے دیگر لوگوں کے علاوہ سنیل دت کے سیاسی حامی بھی آئے ہوئے تھے، اس کے علاوہ ائیرپورٹ پر میڈیا بھی موجود تھا۔

میری سنجے دت کو گرفتار کرنے کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ اسے تیزی سے گرفتار کر لیا جائے تاکہ ائیرپورٹ پر جمع سینکڑوں لوگوں کو اس گرفتاری کو ڈرامائی شکل دینے کا کوئی موقع نہ ملے۔

بابی ڈال گیت گانے والی بالی ووڈ گلوگارہ کنیکا کپور بھی کورونا وائرس کا شکار

بھارتی اداکار انوپم کھیر کا خوبصورت ویڈیو پیغام، تمام انسانوں کے نام

سابق پولیس کمشنر کے مطابق وہ اپنی ٹیم کے ہمرا ائیروبریج پر سویلین لباس میں تھے۔ بطور فرسٹ کلاس مسافر سنجے دت نے سب سے پہلے جہاز سے نکلنا تھا۔ جیسے ہی وہ نکلے میں نے ان کے کندھوں کے گرد ہاتھ ڈال کر اپنی طرف کھینچا۔ میں انہیں نہیں جانتا تھا۔ میں نے انہیں اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میں ڈی سی پی راکیش ماریا ہوں۔ آپ کا بورڈنگ پاس اور پاسپورٹ کہاں ہیں؟مجھے دیجئے۔

سنجے دت نے حیرانی اور صدمہ کی حالت میں مجھے دیکھا اور بغیر کچھ بولے شائستگی سے اپنا پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس مجھے تھما دیا۔ میں نے دونوں چیزیں اپنے ایک افسر کو دیں اور وہ سنجے دت کا سامان لینے چلا گیا۔ منصوبہ کے مطابق دو گاڑیاں ہماری منتظر تھیں۔ ایک میری سرکاری ایمبیسڈر کار جبکہ دوسری کرائم برانچ کی گاڑی تھی۔ میں ڈرائیور کے ہمراہ اپنی کار میں بیٹھا اور سنجے دت کو پیچھے دو کانسٹیبلوں کے درمیان بٹھا دیا۔

سابق پولیس کمشنر لکھتے ہیں کہ سنجے دت کو لیجاتے ہوئے کسی نے ان سے ایک لفظ نہ بولا۔ میں نے کانسٹیبلز کو واضح ہدایت کر دی تھی کہ سنجے دت کچھ بھی پوچھے یا بولے، آپ نے جواب نہیں دینا اور نہ خود سے کچھ بولنا ہے۔ سنجے مسلسل پوچھتا رہا کہ ہم اسے کہاں لیکر جا رہے ہیں۔ وہ دکھ بھری آوازیں نکالتا رہا کہ اسکا خاندان اسکا منتظر ہے۔ وہ ہمیں کہتا رہا کہ آپ ایسا نہیں کرسکتے، پہلے مجھے اپنی فیملی سے ملنے دو، مجھے اپنے ابو سے ملنے دو، لیکن ہم میں سے کوئی ایک لفظ نہ بولا۔ کانسٹیبلز نے کسی طرح کا ردعمل نہ دیا اور سنجے دت کے چہرے کی جانب بھی نہ دیکھا۔ وہ پتھر کے بت بن گئے۔

ہم ائیرپورٹ سے سنجے دت کو کرافورڈ مارکیٹ میں کرائم برانچ آفس لے گئے جہاں اسے ایک کمرہ میں لے جایا گیا جس کے ساتھ ٹوائلٹ کی سہولت دستیاب تھی۔ میں نے دن کو ہی سنجے کو رکھنے کیلیے اس جگہ کی نشاندہی کر لی تھی، میرے علاوہ سنجے دت سے کسی کو بولنے کی اجازت نہ تھی اور نہ ہی کوئی میری اجازت کے بغیر اسکے کمرہ میں جا سکتا تھا، سنجے دت کو سگریٹ پینے کی اجازت بھی نہ تھی۔

سابق پولیس کمشنر کے مطابق جوائنٹ کمشنر پولیس ایم این سنگھ نے مجھے ہدایت جاری کی تھی کہ وہ صبح ساڑھے 9 بجے آفس آئیں گے تو سنجے کو ان کے سامنے پیش کروں۔ صبح 8 بجے میں چند افسران کے ساتھ سنجے دت کے کمرہ میں گیا، رات بھر کسی نے ان سے بات نہ کی تھی۔

اپنے گھر والوں کی حمایت سے محروم اور ایسے حالات میں جب ان سے ہمدردی کا بول بولنے والا کوئی نہ تھا، سنجے دت مکمل طور پر ٹوٹے ہوئے نظر آئے۔ میں اسے فیملی سے ملنے کی اجازت دے چکا ہوتا تو اس وقت سنجے دت یکسر مختلف روپ میں ہوتے۔

راکیش ماریا نے سنجے سے سوال کیا کہ کیا وہ خود سے سچ بتائے گا یا میں ساری کہانی بیان کردوں، کرسی پر بیٹھے سنجے دت نے جذباتی ہو کر جواب دیا کہ سر میں نے کچھ نہیں کیا۔

میں اس کیس کی وجہ سے گزشتہ چند دنوں سے ٹینشن اور ذہنی دباؤ میں تھا اس لیے جھوٹ برداشت نہ کر سکا اور سنجے دت کو زوردار تھپڑ جڑ دیا۔ تھپڑ سے سنجے دت پیچھے گرنے لگا اور اسکی ٹانگیں ہوا میں اٹھ گئیں تو میں نے تیزی سے اسے لمبے سنہری بالوں سے پکڑ لیا۔ اوپر سے اسکی وحشت زدہ اور ڈری ہوئی آنکھوں میں دیکھ کر میں نے اسے کہا کہ میں ایک جیٹلمین کی طرح پوچھ رہا ہوں تو اسی طرح جواب دو۔ اس پر ٹوٹے ہوئے سنجے دت نے لرزتی آواز میں پوچھا کہ سر کیا میں آپ سے الگ بات کر سکتا ہوں؟

ان کا کہنا ہے کہ یہ سب میری توقع سے بھی زیادہ تیزی سے ہو گیا۔ میں نے دیگر افسران کو باہر بھیج دیا اور سنجے دت نے بچوں کی مانند روتے ہوئے مجھے سب بتا دیا۔ ان کے بیان سے حنیف، سمیر اور دیگر کے بیانات کی تصدیق ہو گئی۔

راکیش ماریا نے پوچھا کہ ہتھیار آپ کے گھر ہیں تو آؤ دکھاؤ کہاں پڑے ہیں۔ جس پر سنجے دت سسکیاں لیتے ہوئے میرے پاؤں پر گرے اور کہا کہ سر میں نے ہتھیار ضائع کر دیے ہیں۔ اس کے بعد سنجے دت نے تفصیلات بتائیں کہ کیسے ’دی ڈیلی‘ میں خبر چھپنے کے بعد انہوں نے اپنے دوستوں کو گھر جا کر ہتھیار اٹھانے اور ضائع کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔

یہ سب بتا چکنے کی بعد سنجے دت نے منتیں شروع کردیں کہ پلیز میرے والد کو کچھ مت بتانا۔ جس پر میں نے کہا کہ میں کچھ نہیں چھپا سکتا۔ مجھے سچ بتانا ہو گا۔ بڑے ہو جاؤ، تمہیں اپنی غلطیوں کے نتائج کا سامنا کرنا چاہئے۔

سابق پولیس کمشنر نے مزید تفصیلات بتائیں کہ اس وقت تک ساڑھے 9 کا وقت ہوگیا اور مجھے بتایا گیا کہ ایم این سنگھ صاحب دفتر آ چکے ہیں۔ میں نے سنجے دت کو انکے سامنے پیش کیا اور انہیں خود سے بولنے دیا۔ سنجے نے تمام واقعات دہرا دئے جس پر ایم این سنگھ صاحب مطمئن ہو گئے۔

اسی دن سہ پہر کے وقت سنجے دت کو عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے انہیں ہمیں ریمانڈ پر دے دیا۔ سنجے دت کو کرائم برانچ کے لاک اپ میں رکھا گیا۔ سہ پہر کو کچھ دیر بعد مجھے سمرا کی کال آئی کہ سنجے کے والد سنیل دت اور فلمی صنعت کے کچھ لوگ سنجے دت سے ہماری تحقیقات بارے شکوک کا شکار ہیں اور مجھے ملنا چاہتے ہیں۔ اس نے پوچھا کہ کیا آپ ان سے ملو گے جس پر میں نے کہا کہ مجھے ان سے ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔

اس کے بعد ایم این سنگھ نے بھی مجھے کال کرکے کہا کہ سنیل دت اور انکے کچھ ساتھی کرائم برانچ آ رہے ہیں او مجھے ان سے مل کر انکے تحفظات و شکوک کا ازالہ کرنا چاہئے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیریل دھماکوں کے ملزمان کے خاندانوں، بالخصوص والدین کو صبروتحمل سے سننا میرے لیے روٹین کی بات تھی۔ والدین اس بات پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے کہ انکی اولاد نے ریاست کے خلاف ایسا ہولناک اقدام اٹھایا ہوگا۔ جب میں والدین کو بتایا کرتا کہ مجھے انکے بچوں کو جھوٹے طور پر مقدمات میں ملوث کرنے کی کوئی وجہ نہیں تو وہ اتفاق کرتے مگر پھر بھی یقین نہ کرتے کہ انکے بچوں نے ایسا سنگین جرم کیا ہو گا۔

اس کے بعد مجھے ملزمان کو والدین کے سامنے بلا کر پوچھنا پڑتا جس پر ملزمان اعتراف جرم کرتے اور انکی فیملی ہل کر رہ جاتی۔ اس روز ایک فلم اسٹار کے خاندان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہونیوالا تھا۔

راکیش ماریا نے لکھا ہے کہ اس شام سنیل دت اپنے ساتھیوں راجندرا کمار، مہیش بھٹ، یش جوہراور بلدیو کھوسہ کے ہمرا مجھے ملنے آئے۔ بالی ووڈ سے ہونے کے باوجود میں ان میں سے کسی کو نہ پہچان سکا۔ سب سے پہلے سنیل دت بولے اور کہا کہ آپ مجھے جانتے ہیں، حب الوطنی میرے خون میں ہے، یہ ہماری رگوں میں دوڑتی ہے۔ میرا بیٹا یہ کیسے کرسکتا ہے، یہ ناممکنات میں سے ہے۔

میں نے کہا بدقسمتی سے یہ سچ ہے اور ایسا ہو چکا ہے۔ پولیس کسی کو بلاوجہ کیوں ملوث کرے گی؟ میں تو ایسے کبھی نہیں کروں گا۔ سنیل دت کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ میں سنجے کو یہیں بلاؤں گا اور وہ خود جواب دے گا۔

سنجے دت کو بلایا گیا۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا اس نے اپنے باپ کو دیکھا اور رونا شروع کردیا۔ سنجے نے اپنے والد کے پاؤں چھوئے اور اعتراف کیا ”سوری، مجھے معاف کر دیں۔ میرے سے غلطی ہو گئی۔“ اس کے بعد سنجے دت نے اپنی حماقتیں بتانا شروع کر دیں۔“

Tags: سنجے دتسنجے دت کی گرفتاری
sohail

sohail

Next Post

سچن ٹنڈولکر کی بات پر ثقلین مشتاق نے ان سے معافی مانگ لی

اکٹھے آئے ہیں، اکٹھے جائیں گے، کورونا سے مرنیوالی جڑواں بہنوں کی کہانی

کیا کورونا سے صحتیاب ہونے والے دوبارہ اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں؟

ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی واپس چاہیے، جرمنی میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے شروع

عالمی میڈیا پر شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کی موت کی قیاس آرائیاں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In