کورونا وبا سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن نافذالعمل ہے تاہم اب گھروں میں رہ کر لوگ انتہائی ذہنی تناؤ کا شکار ہونے لگے ہیں۔ اسی طرح جرمنی میں تنگ آئے عوام نے لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔
جرمن پولیس نے ہفتے کے روز سنٹرل برلن میں لاک ڈاؤن کے خلاف بڑی تعداد میں اکٹھے ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
مظاہرین ‘ہمیں اپنی روزمرہ زندگی واپس چاہیے’ اور ‘آئینی حقوق کی حفاظت کی جائے’ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ رائٹرز کے مطابق مظاہروں کے دوران یہ نعرہ بھی لگ رہا تھا کہ ‘آزادی ہر شے نہیں لیکن آزادی کے بغیر ہر شے کچھ نہیں’۔
جرمنی میں کورونا سے اموات کی شرح دنیا میں سب سے کم کیوں؟ ایک تفصیلی رپورٹ
کورونا وائرس: امریکہ میں ”میرا جسم میری مرضی“ کے نعرے بلند ہونے لگے
جرمن پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا کہ 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
کچھ مظاہرین ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، کچھ ماسک پہنے زمین پر بیٹھے تھے تاہم کچھ مظاہرین سماجی فاصلے کو نظرانداز کر رہے تھے۔
دنیا بھر میں درجنوں ممالک کی طرح جرمنی میں بھی عوامی سرگرمیوں پر وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 17 مارچ سے پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
جرمنی میں مقیم پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طالبعلم نورولی جو انٹرنیشنل میڈیا اینڈ کلچرل ورک میں ماسٹرز کر رہے ہیں، نے نقارخانہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہاں لوگوں کو آپس میں
1۔5 میٹر دوری رکھنے کا کہا گیا ہے جبکہ ضروری شعبوں میں کام کرنے والوں کو انکے اداروں کی جانب سے خصوصی سرٹیفیکیٹ دیے گئے ہیں۔
نورولی جو پاکستان میں انگریزی اخبار کے ساتھ بطور صحافی منسلک رہے ہیں نے مزید بتایا کہ سب سے بہترین بات یہ ہے کہ اگر کسی کو بازار سے ضروری اشیا لانی ہو یا بچوں کا خیال رکھنا ہو تو لوگ ایک دوسرے کی رضاکارانہ مدد کر رہے ہیں اور ایسے افراد سوشل میڈیا اور ریڈیو کے زریعے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے عوام کی مالی امداد کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
چین میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز، ہربن شہر میں لاک ڈاؤن نافذ
لاک ڈاؤن کے باعث غاروں میں چھپ جانے والے سیاح برآمد
نائیجیریا کی فوج نے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران 18 افراد کو گولی مار دی
رائٹرز کے مطابق مظاہرین "ڈیموکریٹک مزاحمت” کے عنوان سے اخبارات بھی تقسیم کررہے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ کورونا کی نئی وبا خوف پھیلاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔ پیپرز میں دنیا بھر سے 127 ڈاکٹروں کا حوالہ دیا گیا ہے جو سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہیں۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ یہ اخبار تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم حکام نے مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا وبا کے دوران اجتماع پر پابندی کے ضوابط کے تحت ہمیں سب کو اکٹھا جمع ہونے سے روکنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 180 پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔
جرمنی کی آئینی عدالت نے اس ماہ ایک فیصلہ دیا تھا کہ عوام کو مظاہرہ کرنے کا حق حاصل ہے بشرطیکہ سماجی فاصلوں کے لیے بنائے گئے ضوابط کی پابندی کی جائے۔
یہ فیصلہ جمہوریت پسند افراد کی جانب سے دائر درخواست پر کیا گیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ لاک ڈاؤن اکٹھے ہونے کی آزادی کے خلاف ہے۔ ہفتے کے روز کچھ مظاہرین زمین پر فاصلہ رکھتے ہوئے پر امن طریقے سے بیٹھے رہے، ان کے ہاتھوں میں نازیوں کے خلاف وائٹ روزز مزاحمتی تحریک کی نشانی کے طور پر سفید پھول تھے۔
انہی مظاہرین میں شامل پھول تھامے ہوئے ایک خاتون نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنی رائے کے حق میں کھڑے ہونے کے لیے، آئینی حقوق، آزادی اور سب سے بڑھ کر اظہار رائے کی آزادی کے لیے آج یہاں ہیں۔
کورونا وبا سے متاثرہ ملکوں میں امریکہ، اسپین، اٹلی اور فرانس کے بعد پانچویں نمبر پر جرمنی ہے۔ تاہم ابتدا ہی میں زیادہ ٹسٹنگ کے سبب یہاں نقصان کی شرح کم ہے۔
کم انفیکشن کے اعدادوشمار کو حوصلہ افزا جانتے ہوئے حکومت نے کار اور سائیکل ڈیلروں اور کتابوں کی دکانوں کے ساتھ ساتھ پیر کو چھوٹے اسٹوروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی لیکن سماجی دوری کے قواعد و ضوابط 3 مئی تک برقرار ہیں۔
رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ہفتے کے روز تک ملک میں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 152438 جبکہ اموات کی تعداد 5500 ہے۔