حکومت نے بجلی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اور جنریشن کمپنیوں کی نجکاری کا طریقہ کار وضع کرنے کیلئے بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بجلی کے جن شعبوں میں پاور سیکٹر ریفارم پلان لاگو ہونے جا رہا ہے ان میں بجلی کی پیداواری لاگت کا دوبارہ تعین، تقسیم کے نظام کی نجکاری، ایس او ایز میں گورننس اصلاحات، کم اخراجات کے نظام کو بہتر بنانا اور اوپن مارکیٹ میں ریگولیٹری اصلاحات جیسے اقدامات شامل ہیں۔
عوام پر بجلی کے مہنگے بلوں کا بوجھ کون ڈال رہا ہے؟ چیئرمین واپڈا نے بتا دیا
بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا اس سے پہلے آڈٹ نہیں کرایا گیا، خواجہ آصف کا اعتراف
بزنس ریکارڈر میں شائع مشتاق گھمن کی خبر کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل اور سی سی او ای نے ڈسکوزاور جنکوز سمیت پبلک سیکٹر پاور کمپنیوں کی نجکاری شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے نجکاری کمیشن نے سرکاری کاروباری اداروں کی مناسب معاونت کے لیے مالی مشاورتی ماہرین/ کنسورشیم کو مقرر کیا ہے لیکن مزدور یونین نجکاری کی مخالفت اور اس عمل کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ تمام کمپنیوں کے لیے نجکاری کا ایک ہی طریقہ کار اپنایا گیا ہے اور کسی بھی نجکاری کے عمل سے پہلے جن کلیدی اقدامات کو مکمل طور پر حل کرنا لازمی ہوتا ہے ان پر توجہ نہیں دی گئی۔
ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر اس وقت جن سیاسی اور مالی مشکلات سے دوچار اس میں نجکاری کو ہی ایک بہترین آپشن کے طور پر سمجھا جا رہا ہے لیکن بنیادی ریگولیٹری ایشوز کو حل کیے بغیر ملکیت کی تبدیلی ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ دنیا میں نجکاری کے متعدد ماڈلز موجود ہیں، مثال کے طور پر ترک ماڈل جس کا کبھی مطالعہ ہی نہیں کیا گیا۔
ندیم بابر چیئرمین ٹاسک فورس برائے توانائی نے دو ڈسکو، لیسکو اور پیسکو کی نجکاری شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے لیکن ان کے مطابق نجکاری کا عمل شروع کرنے سے قبل کچھ سوالات کے جوابات دینے کی ضرورت ہے۔
یہ فہرست کچھ زیادہ بڑی نہیں لیکن اس میں کچھ اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے، ایک سوال یہ ہے کہ کیا خریداروں کو اجارہ داری کے مکمل حقوق دیئے جائیں گے؟ اسی طرح کیا ملک میں یکساں محصول برقرار رکھا جائے گا؟
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت غریبوں کو سبسڈی جاری رکھے گی؟ نیپرا صارفین کے محصول کے لیے کیا طریقہ کار اپنائے گا؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے خریداروں کو کیا مدد ملے گی اور ورک فورس کی برطرفی سے متعلق حقوق کیا ہونگے؟
پاور ڈویژن نے موقف اختیار کیا کہ ماضی میں بھی مختلف وجوہات کی بنا پر نجکاری کی کوشش ناکام ہو چکی ہے اور ان وجوہات میں ایک بڑی وجہ لیبر یونین تھی۔
اس وقت نجکاری کے عمل کو روک دیا گیا تھا۔ لیکن اس دوران نجکاری سے متعلق متعدد ماڈلز پر ریسرچ نہیں کی گئی جنہیں اختیار کر کے اس عمل میں آنے والی پیچیدگیوں کو حل کیا جا سکتا۔ تاہم پاور ڈویژن نے ترکی جیسے ماڈلز کے مطالعہ کی تجویز پیش کی ہے۔