اس وقت پوری دنیا کے سائنسدان اور ریسرچرز کورونا وبا کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہر طرف سے نئی تحقیق اور نئے اعدادوشمار سامنے آ رہے ہیں۔
کورونا وبا کا ایک اہم پہلو اس کے مریضوں کے صحتیاب ہونے کی مدت اور اس کے طویل المدت اثرات ہیں۔
کورونا سے صحتیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ مریض کو اس وائرس نے کتنی شدت سے متاثر کیا ہے، بعض لوگ جلدی صحتیاب ہو جاتے ہیں جبکہ بعض کو طویل عرصہ لگتا ہے۔
معمولی علامات والے مریض
کورونا کی دور بڑی علامات بخار اور کھانسی ہیں اور بہت سے مریضوں میں صرف یہی علامات ظاہر ہوتی ہیں تاہم انہیں تھکن، جسم میں درد، گلے میں تکلیف اور سر میں درد بھی محسوس ہوسکتا ہے۔
کیا کورونا سے صحتیاب ہونے والے دوبارہ اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں؟
کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق
سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ
آغاز میں کھانسی خشک ہوتی ہے لیکن بعد میں مواد نکلنا شروع ہوتا ہے جو دراصل ایسے مردہ خلیے ہوتے ہیں جنہیں وائرس نے ختم کر دیا ہوتا ہے۔
ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں آرام، زیادہ سے زیادہ مائع پینا اور درد سے نجات کے لیے پیراسیٹامول وغیرہ استعمال کرنی چاہیے۔
بخار عموماً ایک ہفتے میں ختم ہو جاتا ہے اگرچہ کھانسی زیادہ عرصہ جاری رہتی ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق چینی سے آنے والے مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمولی علامات والے مریض دو ہفتوں میں مکمل طور پر صحتیاب ہو جاتے ہیں۔
زیادہ سنجیدہ علامات والے مریض
بعض افراد میں کورونا کا مرض شدت اختیار کر جاتا ہے، وائرس لگنے کے بعد 7 سے 10 روز کے درمیان ایسا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
سانس لینے میں دشواری اور پھیپھڑوں میں تکلیف شروع ہو جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کا مدافعاتی نظام وائرس کے دھکیلنے کے لیے متحرک ہو جاتا ہے لیکن یہ ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کرتا ہے اور الٹا جسم کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔
ایسی علامات والے چند افراد کو اسپتال جا کر آکسیجن لگوانی پڑ جاتی ہے، ایک خاتون ڈاکٹر سارا جاروس کا کہنا ہے کہ سانس کی تکلیف میں بہتری آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے اور بیماری سے نجات میں دو سے آٹھ ہفتے لگ جاتے ہیں اگرچہ تھکن مزید کچھ عرصہ جاری رہتی ہے۔
انتہائی نگہداشت والے مریض
عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق 20 میں سے ایک شخص کو انتہائی نگہداشت کے علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور سکون آور ادویات دے کر انہیں وینٹی لیٹر لگا دیا جاتا ہے۔
آئی سی یو والے مریضوں کو صحتیاب ہونے میں طویل وقت لگتا ہے، فیکلٹی آف انٹینسو کیئر میڈیسن کے ڈین ڈاکٹر ایلی سن پٹرڈ کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کو مکمل صحتیاب ہونے میں ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگتا ہے۔
اسپتال کے بستر پر طویل عرصہ پڑے رہنے سے مسل کمزور پڑ جاتے ہیں جنہیں دوبارہ سے مضبوط ہونے میں وقت لگتا ہے، کچھ مریضوں کو صحتیابی کے بعد چلنے کے قابل ہونے کے لیے فیزیوتھراپی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
کیا کورونا وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا؟ امریکی سائنسدانوں کی تحقیق نے امید جگا دی
کیا نکوٹین کورونا کے خلاف موثر ہے؟ نئی تحقیق سامنے آ گئی
اس کے علاوہ ایسے مریضوں کو نفیساتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، چین اور اٹلی سے آنے والی رپورٹس کے مطابق ان مریضوں میں پوری جسم میں کمزوری، معمولی کام کرنے سے سانس پھول جانا، مستقل کھانسی، سانس لینے میں بے ترتیبی اور بہت زیادہ نیند آنا جیسے مسائل دیکھے گئے ہیں۔
سب کے ساتھ اس طرح نہیں ہوتا، کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو آئی سی یو میں وقت گزارنے کے چند ہفتوں بعد نارمل زندگی گزارنے لگے۔
کورونا کے صحت پر طویل المعیاد اثرات
ابھی تک اس حوالے سے کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کیونکہ کورونا وائرس ایک نئی وبا ہے جس کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
کچھ مریضوں کے پھیپھڑوں کو قوت مدافعت کے ضرورت سے زیادہ ردعمل دکھانے کے باعث نقصان پہنچ سکتا ہے اور وہ ایکیوٹ ریسپیریٹری ڈسٹریس سنڈروم کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایک ماہر مسٹر ٹوز کا کہنا ہے کہ بعض لوگوں کو کورونا سے نجات حاصل کرنے کے بعد پانچ سالوں تک جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اب تک کتنے افراد صحتیاب ہو چکے ہیں؟
اس حوالے سے بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، 26 اپریل تک جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق29 لاکھ مریضوں میں سے 8 لاکھ 20 ہزار صحتیاب ہو چکے ہیں۔
لیکن مختلف ممالک مریضوں کے اعدادوشمار مختلف انداز میں اکٹھا کرتے ہیں، کچھ مکمل ڈیٹا نہیں فراہم کرتے جبکہ بعض معمولی علامات والے مریض ریکارڈ میں نہیں آتے۔
ریاضیاتی ماڈلز کو دیکھا جائے تو اندازاً 99 فیصد سے 99.5 فیصد افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
کیا کرونا دوسری بار بھی ہو سکتا ہے؟
اس حوالے سے بہت سے مفروضے سامنے آ چکے ہیں لیکن اس بات کا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ کورونا کے خلاف قوت مدافعت کتنا عرصہ برقرار رہتی ہے۔
جن افراد کے کورونا سے دوسری بار مریض ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں ان کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلی بار شاید ٹیسٹ کے نتائج درست نہیں آئے ہوں گے۔
(یہ مواد بی بی سی کی ایک رپورٹ سے حاصل کیا گیا ہے)