چین کے امیر ترین شخص جیک ما نے گذشتہ ہفتے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ کھولا ہے اور ان کی ہر پوسٹ میں دنیا کے ہر ملک میں طبی سازوسامان پہنچانے کا ذکر ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی پوسٹ میں یہ نعرہ دیا تھا کہ ‘ایک دنیا، ایک لڑائی’ اور ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘ہم مل کر یہ کام کر سکتے ہیں’۔
اس وقت جیک ما دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں طبی سازوسامان کے جہاز پر جہاز بھیج رہے ہیں، ان میں فیس ماسک اور وینٹی لیٹرز شامل ہیں اور یہ سامان ایسے ممالک میں بھی جا رہا ہے جن کی طرف پوری دنیا میں کسی کی توجہ نہیں تھی۔
چین میں دو قسم کی کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کی منظوری
کورونا وبا سے چین میں امریکہ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
ان کے بعض ناقدین اب بھی شک و شبہ میں ہیں کہ ان کی اس مہم کا حقیقی مقصد کیا ہے، کیا وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کا دنیا کے سامنے دوستانہ چہرہ ہیں یا وہ اپنی مرضی سے یہ سب کر رہے ہیں لیکن انہیں چینی حکومت پراپیگنڈہ کے لیے استعمال کر رہی ہے؟
اس وقت دنیا کے دیگر کھرب پتی لوگ بھی کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں عطیات دے رہے ہیں، ٹویٹر کے جیک ڈورسی نے ایک ارب ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔
ایک امریکی ادارے نے جیک ما کو عطیات دینے والوں کی فہرست میں 12 ویں نمبر پر رکھا ہے لیکن اس ادارے نے صرف نقد رقوم کو مدنظر رکھا ہے اور اس طبی سازوسامان کو شامل نہیں کیا جو وہ مختلف ممالک کو بھیج رہا ہے۔
مارچ سے جیک ما فاؤنڈیشن اور اس کی علی بابا فاؤنڈیشن افریقہ، ایشیاء، یورپ، لاطینی امریکہ، ایران، اسرائیل، روس اور امریکہ کو یہ سامان بھیج رہی ہیں۔
جیک ما نے کورونا کی ویکسین تیار کرنے کے لیے بھی لاکھوں ڈالرز عطیہ کیے ہیں لیکن طبی سازوسامان کی فراہمی ان کا اصل کارنامہ ہے جس کا ذکر عالمی میڈیا میں ہر وقت دکھائی دیتا ہے۔
جیک ما کا ایک انگریزی پڑھانے والے استاد سے کھربوں ڈالر کی ٹیک کمپنی کا مالک بننے کا سفر حیرت انگیز ہے۔
چین میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز، ہربن شہر میں لاک ڈاؤن نافذ
کورونا مریضوں کی بڑی تعداد میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، نئی تحقیق میں انکشاف
انہوں نے 1999 میں علی بابا کمپنی کو اپنے چھوٹے سے اپارٹمنٹ سے شروع کیا اور پھر مڑ کر نہیں دیکھا، آج اس کمپنی کو چین کی ایمازون کا نام دیا جاتا ہے۔
اس وقت جیک ما خود 40 ارب ڈالر کا مالک ہے، اگرچہ انہوں نے 2018 میں علی بابا کی چیئرمین شپ سے خود کو الگ کر لیا تھا لیکن وہ اس کے بورڈ میں ایک مستقل نشست کے مالک ہیں، وہ اس وقت چین کے طاقتور ترین افراد میں سے ایک ہیں۔
بی بی سی کے مطابق غالب امکان ہے کہ ان کے عطیات بھی چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اصولوں کے تحت ہوتے ہیں، چین کے مخالف تائیون کے کئی دوست ممالک کو ابھی تک انہوں نے طبی سازوسامان نہیں دیا۔
تاہم مجموعی طور پر جیک ما کی کاوشوں کو دنیا میں تحسین کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، چین کے سرکاری میڈیا میں ان کا تذکرہ اسی قدر ہوتا ہے جتنا چین کے صدر شی جن پنگ کا ذکر ہوتا ہے۔
اس وقت چین بھی یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو بھی طبی سازوسامان بھیج رہا ہے لیکن بہت جگہوں پر شکایات موصول ہوئی ہیں کہ یہ سامان زیادہ کارآمد نہیں ہے اور اس کی کوالٹی بہت خراب ہے۔
لیکن جیک ما کا معاملہ اس سے مختلف ہے، ان کے طبی سامان بھیجنے کی ہر طرف سے تعریف اور تحسین ہو رہی ہے، پورے افریقہ میں ان کا تذکرہ بہت اچھے الفاظ میں ہو رہا ہے۔
چین افریقہ پراجیکٹ کی ویب سائیٹ کے مینیجنگ ایڈیٹر ایرک اولینڈر کا کہنا ہے کہ جیک ما نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد تمام افریقی ممالک کا سفر کرنے کا عہد کیا تھا اور مسلسل ان مملک میں جایا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جیک ما کا سازوسامان متعلقہ حکومت کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ اس کی تقسیم میں امتیاز یا نااہلی کا مظاہرہ کرتی ہے تو الزام اسی کے سر جاتا ہے، جیک ما ان الزامات سے محفوظ رہتا ہے۔
یہ افواہیں بھی ہر طرف سنی جاتی ہیں کہ چین کے صدر جیک ما کی مقبولیت سے خوش نہیں ہیں، 2017 میں علی بابا کے چیئرمین نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور اگلے برس انہوں نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان پر دباؤ ڈال کر یہ فیصلہ کرایا گیا تھا۔
چینی صدر اس سے قبل بھی کئی مشہور لوگوں کے خلاف ایکشن لے چکے ہیں، حالیہ سالوں میں ملک کی مقبول ترین اداکارہ، ایک نامور نیوز اینکر اور کئی ارب پتی افراد طویل عرصے کے لیے غائب ہو چکے ہیں۔
تاہم جیک ما ان تمام افواہوں کی تردید کرتے ہیں، تکنیکی طور پر وہ کمیونسٹ پارٹی کے باہر کے فرد نہیں ہیں کیونکہ وہ 1980 سے اس جماعت کے رکن ہیں جب وہ یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔
ان کا ادارہ بہت بار کمیونسٹ پارٹی سے اجازت لیے بغیر بہت سے فیصلے کرتا رہا ہے تاہم چینی حکومت ان کی فیاضی سے فائدہ بھی اٹھا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ جن ممالک میں ان کا سامان پہنچتا ہے وہاں چینی سفیر اسے لینے اور حکومتوں کے حوالے کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔
اسی طرح جیک ما کی مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوستانہ تعلقات سے بھی چینی حکومت فائدہ اٹھا سکتی ہے اور اپنا تاثر بہتر بنا سکتی ہے۔
کلارک کا کہنا ہے کہ وہ چین کے ڈیل کارنیگی ہیں جن کی عالمی سطح پر بااثر افراد کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔
(یہ تفصیل زیادہ تر بی بی سی کی ایک رپورٹ سے لی گئی ہے)