عالمی میڈیا پر شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کی موت کے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں، بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ چین نے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم شمالی کوریا بھیجی ہے جس کے باعث قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ہانگ کانگ کے ایک ٹی وی چینل کی وائس ڈائرکٹر نے کہا ہے کہ ایک انتہائی قابل اعتماد ذریعے سے انہیں اطلاع ملی ہے کہ کم جونگ ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔
گزشتہ روز جاپان کے جریدے شوکان گیندائی میں یہ خبر آئی تھی کہ وہ کومے میں جا چکے ہیں۔
یہ تمام قیاس آرائیاں گزشتہ ہفتے شمالی کوریا کے حکمران کی ایک سرجری کے بعد شروع ہوئی ہیں۔
ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں وہ دیہاتی علاقوں کا دورہ کر رہے تھے جب انہوں نے اچانک اپنے سینے کو تھاما اور نیچے گر گئے۔
چین کے ایک طبی ماہر کا کہنا ہے کہ ان کے سینے میں ایک سٹنٹ ڈالنا ضروری تھا مگر یا تو وہ درست طریقے سے نہیں ڈالا گیا یا پھر ایسا کرنے میں بہت دیر کر دی گئی۔
شمالی کوریا کے حکمران 11 اپریل کو آخری بار میڈیا پر دکھائی دیے تھے، اس دوران انہوں نے 15 اپریل کی تقریبات میں بھی حصہ نہیں لیا، ریاستی میڈیا اس حوالے سے مکمل طور پر خاموش ہے۔
شمالی کوریا میں کام کرنے والے سی آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈویژن چیف نے سی این این کو بتایا کہ اس سے قبل بھی کم جونگ ان کی خرابی صحت کی افواہیں غلط ثابت ہوئی ہیں تاہم ملک کے اندر موجود شدید قسم کی رازداری کے باعث کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔