عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ کورونا سے صحتیاب ہونے والے دوسری بار اس وائرس کا شکار نہیں ہو سکتے۔
اس وقت تک کورونا سے اموات کی تعداد دو لاکھ ہوچکی ہے، مریضوں کی تعداد تیس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور پوری دنیا کی حکومتیں اس وبا سے نبٹنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔
گورنر نیویارک نے کورونا وائرس کی سخت جانی کی خطرناک تفصیلات بتا دیں
کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق
اس وقت آدھی دنیا کسی نہ کسی قسم کے لاک ڈاؤن کا شکار ہے جس کے باعث عالمی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے بھی عالمی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کورونا کی ویکسین تیار کرنے میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا ہے تاہم مستقبل قریب میں اس میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔
دنیا میں ایمیونٹی پاسپورٹ یعنی کورونا سے صحتیاب ہونے والے افراد کو سرکاری دستاویزات دینے کی بات چل رہی ہے تاکہ ایسے لوگ کام پر جانا شروع کر دیں اور معیشت کو سہارا دے سکیں۔
سب سے پہلے یہ بات چلی کی حکومت کی جانب سے سامنے آئی، امریکہ اور دیگر ممالک بھی اس آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
سویڈن جیسے ممالک بھی ہرڈ ایمیونٹی جیسے تصورات کے تحت لاک ڈاؤن نہیں کر رہے، تاہم ابھی تک ایسی کوئی شہادت سامنے نہیں آئی کہ ایک بار کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ یہ وائرس نہیں چمٹ سکتا۔
اگرچہ سائنسدان مسلسل تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا دیگر بیماریوں کی طرح کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کے جسم میں اس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے یا نہیں لیکن کوئی حتمی نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
کیا کورونا وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا؟ امریکی سائنسدانوں کی تحقیق نے امید جگا دی
کورونا وائرس کے خلاف جنگ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ نے جمہوریت کا بھرم رکھ لیا
اسی لیے عالمی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ صحتیاب افراد کے کورونا سے محفوظ ہو جانے کی بات ابھی تک مفروضہ ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا ہے کہ جو لوگ یہ فرض کر رہے ہیں کہ وہ کورونا کے دوسرے وار سے محفوظ ہو چکے ہیں، وہ صحت کے حوالے سے اصولوں کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔
اس وقت مغربی ممالک میں کورونا سے اموات کی شرح کم ہوتی نظر آ رہی ہے لیکن عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دوسری اقوام ابھی تک کرونا کے ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہیں۔