برطانیہ میں پیدا ہونیوالی جڑواں بہنیں کورونا وائرس کا شکار ہوکر تین دنوں کے وقفے سے چل بسیں، بچوں کی نگہداشت کرنیوالی 37سالہ کیٹی ڈیوس منگل جبکہ اس کی جڑواں بہن ایما جمعہ کی صبح ساؤتھمپٹن جنرل اسپتال میں دم توڑ گئیں۔
ایما اور کیٹی کی بہن زوئی نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ میری دونوں بہنیں اکثر کہتی تھیں کہ وہ اکٹھی اس دنیا میں آئی ہیں اور اکٹھے ہی یہاں سے جائیں گی۔
قربانی اور ایثار کی دیوی، برطانوی نرس اریمہ نسرین جان کی بازی ہار گئیں
طبی فضلہ کے تھیلے اوڑھ کر اسپتال میں کام کرنے والی نرسیں کورونا کا شکار ہو گئیں
انہوں نے بتایا کہ یہ ’حیرت انگیز‘ جوڑ ی جو ایک ساتھ رہتی تھی، صحت کے کچھ دیگر مسائل کی وجہ سے پچھلے کچھ عرصہ سے بیمارتھیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں کہ میرے لیے وہ کتنی خاص تھیں۔ زوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ میری جڑواں بہنیں زندگی میں اگر کچھ کرنا چاہتی تھیں تو وہ دوسروں کی مدد تھی، جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا وہ ایسے محسوس کرتی تھیں کہ وہ ڈاکٹر اور نرسز ہیں جو اپنی گڑیا کا دیکھ بھال کر رہی ہیں۔
انہوں نے اپنی زیر نگرانی دیکھ بھال والے تمام مریضوں کو اپنا سب کچھ دیا، وہ غیرمعمولی دل رکھنے والی تھیں۔ ساؤتھمپٹن کے چلڈرن اسپتال میں کام کرنیوالی کیٹی کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر وہیں داخل کر لیا گیا جہاں وہ منگل کی شام چل بسیں۔
یونیورسٹی اسپتال ساؤتھمپٹن این ایچ ایس فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو پاؤلا ہیڈ کا کہنا تھا کہ کیٹی کے ساتھ کام کرنیوالے ساتھیوں کے بیان کے مطابق وہ بطور نرس ایسی خاتون تھیں جو لوگ اس طرح کی بننے کی خواہش کریں گے اور نرسنگ ان کے لیے محض نوکری سے زیادہ کچھ تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ مریضوں، ساتھ کام کرنیوالوں اور کمیونٹی کی طرف سے کیٹی کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرنا چاہتی ہیں۔ رائل کالج آف نرسنگ کے بیان کے مطابق انہیں ایک بے لوث اور جذبہ سے سرشار نرس کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جو مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کے لیے ہر وقت اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر ان کا دکھ بانٹنے میں کوشاں رہتی تھیں۔
برطانیہ میں کورونا سے مرنے والوں میں ایشیائی اور افریقی زیادہ کیوں ہیں؟
گورنر نیویارک نے کورونا وائرس کی سخت جانی کی خطرناک تفصیلات بتا دیں
کیٹی کی بہن ایما ڈیوس بھی اسی اسپتال میں 9 سال تک خدمات سر انجام دیتی رہیں۔ چیف نرسنگ آفیسر گیل برنی کے مطابق جب ایما کو کورونا ٹیسٹ کے لیے اسپتال داخل کیا گیا تو ان کی صحت پہلے سے ناساز تھی۔
ایما بھی شاندار نرس تھیں جو بہت پرسکون اور دوسروں کے درد کو اپنا سمجھنے والی طبیعت کی مالک تھیں۔ اسپتال سٹاف نے جمعرات کی شام اسپتال کے مرکزی دروازے پر کیٹی کی موت سے چند گھنٹے قبل ان کے لیے تالیاں بجائیں تھیں۔
نرسنگ ٹائمز کے مطابق برطانیہ میں اس وقت 50 سے زائد نرسنگ سٹاف کورونا وباء کا شکار ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔