سعودی عرب کے انسانی حقوق کے کمیشن نے ملک میں کوڑوں کی سزا کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اسے بادشاہ اور ولی عہد کے اصلاحی پروگرام کے ضمن میں ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کے اخبارات کے مطابق موجودہ اصلاحات اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ آئندہ کسی بھی مجرم کو کوڑوں کی سزا نہ سنائی جائے۔
جیل میں قید سعودی بادشاہ کی بھتیجی کا اپنی رہائی کے لیے خط سامنے آ گیا
کورونا وبا سعودی عرب کے شاہی خاندان تک پہنچ گئی
ریاست کے انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ اعواد العواد نے یہ بھی بتایا ہے کہ جن قیدیوں کو کوڑوں کی سزا سنائی جا چکی ہیں وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور ان کی یہ سزا جرمانہ یا قید میں تبدیل کر دی جائے گی۔
اس سے قبل سعودی عرب میں نامحرموں سے جنسی تعلقات رکھنے، امن و امان خراب کرنے یا قتل جیسے جرائم پر کوڑوں کی سزا دی جاتی رہی ہے، مستقبل میں عدالتیں اس کی جگہ جرمانہ یا قید کی سزا دیا کریں گی۔
حالیہ تاریخ میں کوڑوں کی سزا کا سب سے بڑا واقعہ سعودی عرب کے بلاگر رائف بداوی کا تھا جنہیں 2014 میں توہین اسلام کے الزام کے تحت 10 برس قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔
اگلے ہی برس انہیں یورپی پارلیمنٹ کا انسانی حقوق کا سخاروف ایوارڈ دیا گیا۔
حالیہ دنوں میں انسانی حقوق کے علمبردار عبداللہ الحامد کی 69 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث دوران قید موت واقع ہو چکی ہے، انہیں مارچ 2013 میں 11 برس کی سزا سنائی گئی تھی۔
سعودی عرب نے کورونا کے تمام مریضوں کے مفت علاج کا اعلان کردیا
متحدہ عرب امارات کا چند ممالک سے بھرتیوں پر پابندیاں لگانے کا امکان
وہ سعودی سول اینڈ پولیٹکل رائٹس ایسوسی ایشن کے بانی رکن تھے، انہیں سعودی رہنماؤں سے بیعت توڑنے، بدامنی پھیلانے اور ریاستی سیکیورٹی کو متاثر کرنے جیسے الزامات کے تحت یہ سزا سنائی گئی تھی۔