• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں

by sohail
اپریل 24, 2020
in کالم
2
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پہلی دفعہ ”قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا ”نامی کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی تو پاکستانیوں نے اسے درخور اعتناء نہ جانا۔ پاکستانی انگریزی زبان میں اگر کسی دیسی کو پڑھنا مناسب سمجھتے ہیں تو وہ پہلے خوشونت سنگھ تھے۔ ایک تو تھے بھی وہ سرگودھے کے اور مذاق بھی اپنی طرف والا کرتے تھے۔ انڈین سول سروس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ”اگر گورنر جنرل کی بیوی کے بچہ پیدا ہو تو کتنے گن کا سیلوٹ فائر ہوتا ہے۔ موصوف جواب میں کہنے لگے کہ ایسے موقعے پر گورنر جنرل سمجھدار ہو تو اسے اپنے اے ڈی سی کو فائر کرنا چاہئے۔ اب ایک اور خاتون سے اللہ اللہ کر کے پاکستانیوں نے دل باندھ لیا ہے وہ ہیں اروندھتی رائے۔ اس دکھیاری کو بھی یہ کٹھور قوم کسی خاطر میں نہ لاتی مگر اب کیا ہے وہ ایک ہی ہندوستانی ہے جو امریکہ میں رہ کہ مودی جی کی انگریزی میں چھترول کرتی ہے۔ پاکستانیوں کو اس کی بات سمجھ آتی ہو یا نہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 آخر سنی لیونے کو بھی تو وہ بغیر سمجھے جسمانی حوالوں سے پسند کرتے ہیں۔ سو یہ رعایت کشمیر کے حوالے سے وہ اروندھتی رائے کو بھی خوش دلی سے بخش دیتے ہیں۔

 ”قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا “ اردو میں شائع ہوئی تو بہت سے مختلف شہروں کی دکانوں پر اچانک کورونا وائرس کی طرح لوگ آئے۔ گاڑیاں قیمتی، انداز ہلکا، اسلحہ جدید،گفتگو کم، چٹے چولے، سر پر جناح کیپ، کپتان سینڈل۔ ملازمین سے کتاب کی کاپیاں گاڑیوں میں رکھوائیں اور پیسے دیے بغیر چل دیے، وہ بھی ان کو تسلی دیے بغیر۔ دکاندار وں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو جواب ملا ”کہنا خان آیا تھا۔ شاہ رخ خان“

ہم نے دکاندار سے کہا بھائی میاں ہماری کتابیں بھی لوڈ کرا دیتے۔ پہلے بھی تم نے ہمیں کون سے بیچ کر پیسے دینے ہیں۔ کہنے لگے نہیں وہ صرف آموں کی پیٹی والی کتاب کی کھوج میں ہیں حالانکہ زبیدہ آپا کا دسترخوان اور گھریلو ٹوٹکے نمرہ احمد کے ناول اور آپ کی کتابیں اس کے ساتھ رکھی تھیں۔

کھوج میں تھا کہ کتاب میں ایسا کیا ہے۔ ایسا ہی برا لگتا ہے تو اسلام آباد میں جبڑہ چوک کا نام بدل کر سرمہ سرکار رکھ دیں۔

ہم نے بتایا کہ تم نے نہیں سمجھنا۔

اب جو نقطہ بیان کرنے جا رہے ہیں اس کے ایک سرے کو مضبوطی سے تھام کے رکھیں۔ سیاست میں حادثے نہیں ہوتے۔ اگر کوئی سانحہء ہو تو اسے بھی حادثہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ہم نہیں امریکی صدر روزولیٹ کہا کرتے تھے۔

Anthony Mascarenhas  کراچی میں سرکاری اخبار مارننگ نیوز میں ملازم تھے۔ Mascarenhas  پرتگالی نام ہے اور اسے مس کے رین ئیس پکارا جاتا ہے۔ گوا کے پرتگالی سن ستر کے وسط تک کراچی میں موجود تھے۔ اکثریت عیسائی کیتھولکس کی ہوتی تھی۔ کراچی کے دفاتر نائٹ کلبوں اور اسکولوں میں ان کے دم سے رونق تھی۔ بااصول، جرات مند اور بہت امن پسند لوگ تھے۔

 ان انتھونی صاحب نے بنگلہ دیش پر ایسی کتابیں لکھیں کہ اس میں مغربی پاکستان کے ادارے اور افراد حقائق کی روشنی میں بہت بھیانک کردار کے مالک دکھائی دیے۔ جب ان کے مضامین لندن میں چھپنا شروع ہوئے تو انہیں لگا کراچی یا پاکستان میں کہیں بھی ان کا رہنا بہت خطرناک کھیل ہے اس لیے وہ لندن ترک وطن کر گئے۔

بے نظیر صاحبہ ان دنوں لندن آکسفورڈ میں تھیں اور ان کے رابطے انتھونی صاحب کے خاندان سے خاصے خوشگوار تھے۔ کراچی کے گوا نیز عیسائیوں کا کراچی کے مشنری تعلیمی اداروں پر قبضہ تھا۔ اس بات کو خارج الامکان نہیں سمجھا جاسکتا کہ وہ اور انتھونی یا ان کی اہلیہ کراچی گرامر اسکول میں ہم مکتب یا ہم جماعت ہوں۔ یوں بھی وہ ایک ملنسار، خوش مزاج خاتون تھیں۔

 انتھونی صاحب کی ایک کتاب Bangladesh – A legacy of blood میں ایک عجب کردار ہے۔ ایک پیدائشی نابینا بزرگ کا۔ ان کا نام تو اللہ جانے کیا تھا۔ بہاری تھے، سبھی لوگ انہیں اندھا حافظ کہتے تھے۔ چٹاگانگ۔ بنگلہ دیش کی ایک گنجان آباد غریب بستی”حالی شہر “ میں ایک کمرے کے گھر میں رہتے تھے۔ ان بزرگ کی آشیر باد اور روحانی تقویت سے یہ اہم ترین سیاسی قتل ممکن ہوا۔ یوں شیخ مجیب ارحمن کو قتل کرنے کے منصوبے کے یہ سب سے اہم غیر فوجی کردار تھے۔

خان فیملی چٹاگانگ کی ایک معتبر فیملی تھی۔ اس کے سربراہ عبدالقدیر خان ایوب خان کی کابینہ میں وزیر صنعت تھے۔ اس گھرانے کو حافظ جی سے کچھ خصوصی ارادت تھی۔

یوں سمجھیں وہ ان کے Patron Saint تھے۔

مجیب الرحمن کے دو مرکزی کردار یعنی میجر دیوان عشرت اللہ سید فاروق رحمن اور خوندکر رشید احمد کی بیگمات سگی بہنیں اور اے کیو خان کی بھتیجیاں تھیں۔ ڈھاکہ میں ان دونوں کے بنگلے کنٹونمٹ میں ساتھ ساتھ تھے۔ میجر فاروق کی ایک زمانے میں بانی بنگلہ دیش شیخ مجیب سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے انتھونی صاحب کو لندن میں بتایا تھا کہ

”وہ ہمیں گھاس کھانے کا کہتے تو ہم یہ بھی کر لیتے۔ وہ کہتے کہ زمین کو اپنے ہاتھوں سے کھود لو۔ ہم اس پر بھی تیار تھے مگر دیکھو تو اس ظالم نے ہمارے ملک کا کیا حال کیا “

دسمبر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں جنرل یحیی خان نے قومی انتخابات کرائے۔ خواتین کی خصوصی نشستوں سمیت قومی اسمبلی کی 313 نشستوں میں مجیب کی عوامی لیگ نے 166 اور ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی نے 84 حاصل کیں۔ یوں یہ انتخابات ایک واضح مغرب مشرق تقسیم بن گئے۔ جب عوامی لیگ کو اقتدار کی منتقلی میں دیر ہو گئی تو احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مجیب صاحب کے چھ نکات کو بنیاد بناکر اسے پاکستان کی مرکزی حیثیت کے خلاف ایک بڑا حملہ مانا گیا۔

مغربی پاکستان کی سیاسی اکائیاں فوجی اور سویلین بیوروکریسی جو ہر طور اپنے آپ کو مشرقی پاکستان میں حاکم کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے، ان کے لیے عوامی لیگ کو اقتدار سونپنے کا مطلب ایک ملک دو سرکار تھا۔ پاکستانی فوج کی جانب سے ایک دن پہلے آپریشن سرچ لائٹ لانچ ہوا تو 26 مارچ 1971 کومجیب الرحمن نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ شیخ مجیب کی گرفتاری اور فوج کشی اس وقت ہمارا موضوع نہیں۔ وہ جنوری 1972 میں پاکستان سے رہائی پاکر لندن کے راستے ڈھاکہ آئے تھے۔ جیسا فقید المثال پہلے مجیب کا اور بعد میں امام خمینی کا ہوا وہ ایشیا ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں میں بے مثال ہے۔

 تاریخ کا سفر بھی عجب ہے۔ ساتھیوں کے مظالم، کرپشن اور اقربا پروری کی بنیاد پر جس پلٹن میدان میں مجیب نے اپنے چھ نکات پیش کیے تھے، جنہیں ان کا دستور آزادی مانا جاتا ہے،  اسی پلٹن میدان میں عبدالرب، جو ایک اسٹوڈنٹ لیڈر اور مکتی باہنی فورس کے سرگرم رکن تھے اور جنہوں نے بنگلہ دیش کا پرچم سب سے پہلے لہرایا تھا، سات ماہ کے اندر 17 ستمبر 1972 کو اسی اسٹیج سے کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے کہ عوامی لیگ پاکستانی حکمرانوں سے بدتر ثابت ہوئی ہے۔

بنگلہ دیش کا آئین مجیب نے ویسے ہی بنایا جیسے بھٹو نے بنایا۔ اپنے اقتدار کو دوام لینے کے لیے۔ دونوں کا سن تشکیل بھی ایک ہی یعنی مارچ 1973 تھا۔ اپنی من پسند بیوروکریسی پاکستان کی سول سروس کو برباد کر کے مختلف ذرائع اور کوٹا سسٹم کے ذریے بھرتی کر کے وہ قائم کرچکے تھے۔ دونوں وزرائے اعظم اپنے اپنے ایوان ہائے اقتدار میں متکبر اور بے خوف تھے۔

مجیب کی بربادی کی داستان کا آغاز ہنوئی میں ہوا۔ نئے سال کی آمد پر ویت نام میں امریکہ نے ہنوئی پر کارپیٹ بمبنگ کی تو بنگال کا باشعور طالب علم طبقہ بھڑک اٹھا ہے۔ احتجاج کی لہر اٹھی۔ پولیس فائرنگ سے امریکہ انفارمیشن سینٹر کے باہر دو طالب علم مر گئے۔ مجیب خود بھی طالب علم تھے۔ انہی نوجوانوں نے انہیں ایوان کی اس منزل پر پہنچایا تھا۔ یہ بات بہت بری لگی اور نوجوان فوجیوں کے اس گروپ نے جس کی سربراہی میجر فاروق کر رہے تھے بہت سوچ بچار کے بعد طے کیا کہ بنگلہ بندھو کو مارنے کا وقت آگیا ہے۔ میجر فاروق اور میجر رشید نے طے کیا۔ مجیب کے گھرانے کے تین افراد کو مارنا تمام مسائل کا حل ہے، مجیب، بھانجے فضل الحق مونی، بہنوئی عبدالرب سرنی بت۔

ہر رات ملازم کے روپ میں میجر فاروق رحمن دھان منڈی میں وزیر اعظم کے گھر کا جائزہ لیتا، پورا ایک سال یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہندوستان نے مجیب کو وراننگ بھی دی تھی مگر وہاں یہ سمجھا گیا تھا کہ بغاوت کا خطرہ بریگیڈئر اور اس سے بڑے رینکوں میں ہے۔ مجیب کی ویسے تو سرکاری رہائش گاہ کا نام گونو بان تھا مگر ان کا بنی گالا 32 دھان منڈی والا گھر تھا۔ گونوبان کو وہ بطور کیمپ آفس استعمال کرتے تھے۔

میجر فاروق کو سات سے گیارہ اپریل 1975 تک چٹاگانگ کے نزدیکی قصبے میں فوجی مشقیں کرنی تھیں۔ ہیڈکوارٹر کی جانب سے اس میں دو روز کی تاخیر ہوئی تو حضرت بیگم سے ملنے سسرال پہنچ گئے جنہیں ان کے ان خوفناک عزائم کا علم تھا، وہ انہیں لے کر حالی شہر اندھے حافظ جی کے پاس پہنچ گئیں۔

 کوئی سوال کرتا تو حافظ جی اس کا ہاتھ تھام کر وائبیریشنز کی مدد سے پیشن گوئی کرتے تھے۔ حافظ جی ہاتھ تھام کے بیٹھے رہے اور پھر گویا ہوئے کہ تم تو بہت خطرناک ارادے بنائے بیٹھے ہو۔

 کامیابی ملے گی بشرطیکہ تم تین اصولوں کی پابندی کرو ورنہ بربادی۔ ۔ ۔ ۔

اپنے لیے کچھ نہیں صرف اللہ اور اسلام کی رضامندی کی خاطر یہ قدم اٹھا رہے ہو

ڈرنا نہیں ہے

افراد اور اوقات کار کا چناؤ بہت سوچ سمجھ کرنا ہے۔ تین ماہ انتظار کرو، انتشار میں اضافہ ہو گا۔ کچھ افراد بھی ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔ مرنے والے بھی مارنے والے بھی۔

7 جون کو مجیب الرحمان صاحب نے بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ (بخشل) کی بنیاد رکھ دی، یہ انہیں تاحیات صدر بنا کر ایک پارٹی اسٹیٹ بنانے کا منصوبہ تھا۔ اس دوران مجیب کے ہاتھوں ستائے ہوئے دو افسر جنہیں پارٹی افراد سے الجھنے پر فوج سے فارغ کر دیا گیا تھا وہ بھی اس مختصر گروپ کا حصہ بن گئے یعنی میجر شرف الحق ڈیلم اور میجر نور

جب میجر فاروق کو سن گن ملی کہ ممکن ہے مزید تاخیر ان کے لیے بہت برے نتائج پیدا کرے تو اس نے اپنی بیوی فریدہ کو چٹاگانگ بھیجا کہ وہ اندھے حاٖفظ سے ملے۔ گھر کی سواری نہ لے بلکہ بازار میں ادھر ادھر چکر لگا کر کسی خاموش سے کونے سے بے بی ٹیکسی پکڑے (جسے بنگلہ دیش میں بے بی ٹیکسی کہتے ہیں وہ ہمارے ہاں کا رکشہ ہے۔

14 اگست 1975۔ گیارہ بجے سے جو یہ سفر شروع ہوا تو ٹیکسی کئی مرتبہ خراب ہوئی۔ دو بجے کے قریب وہ وہاں پہنچی۔ ٹیکسی والے نے معافی کی بجائے جب کرایہ ستائیس ٹکے مانگے تو دونوں میں کچھ سرد گرم الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔

اس دن چٹاگانگ کے ساحلی شہر مییں گرمی اور حبس کافی تھا۔ حالی شہر کی بستی بھی کوئی صاف ستھری نہیں۔ حافظ جی کے کمرے میں ایک رسی پر کپڑے ٹنگ رہے تھے۔ وہ خود فرش پر بنیان اور تہ بند باندھے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ فریدہ بی بی کو دو باتوں نے چونکا دیا۔ کمرے میں ایک عجب خنکی بھری طمانیت تھی۔ باہر کے ماحول سے بے اثر۔ کمرے میں ایک عجب پراسرار مدہوش کرنے والی پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ حافظ جی فریدہ کا ہاتھ تھام کے بیٹھے رہے۔

 اردو میں کہا اس بد بخت کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ جو کرنا ہے جلدی اور بے حد رازداری سے کریں۔ مشن پر جانے سے پہلے وہ اور ان کے ساتھی سورہ یسین اور آیت الکرسی پڑھ کرنکلیں۔

کہنے لگے کل جمعہ کا مبارک دن ہے فجر کی نماز کے وقت یہ سب چار ٹولیوں میں جائیں۔ میجر فاروق البتہ اس ٹولی میں نہ ہو جو مجیب کے دھان منڈی والے گھر پر جائے۔ وہاں ہر طرف خون ہے۔ فون لائن خراب تھی۔ فاروق سے بات بمشکل ہوپ ائی جو پیغام تین بجے ملنا تھا وہ سات بجے مل پایا وہ بھی اس کے والد صاحب کے توسط سے۔

آپ نے وہ سرا تو نہیں چھوڑا نہ جو ہم نے تھامنے کو کہا تھا۔ یہ تو یاد ہے نا کہ مارچ 1981 ایم آر ڈی بنانے کی پاداش میں بے نظیر کو سکھر جیل میں قید کیا گیا تھا۔ 1984 رہائی ملی تو وہ بغرض علاج پہلے جینوا سوئزرلینڈ گئیں اور پھر لندن۔ وہاں جب اپنے پرانے دوستوں سے ملیں جن میں ہمارے وہ کراچی کے صحافی Anthony Mascarenhas بھی شامل تھے۔ اب آپ تو جانتے ہی ہیں سیاست دان ہر وقت آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے رہتے ہیں۔ ایوان اقتدار ہر در پر کیسے جھک جھک جاتے ہیں وہ آپ نے پچھلے دنوں دیکھا ہوگا۔

بے نظیر صاحبہ کو بھی روحانیت سے بہت لگاؤ تھا، کبھی ایبٹ آباد کے تناکے والے بابا۔ سائیں پیر حسین شاہ صاحب اور دیگر صاحبان رسائی سے مل کر بہت خوش ہوتی تھیں۔ جنرل ضیا کے دورے سے پہلے یا بعد وہ ان صحافی کے مشورے سے پہلے ڈھاکہ پہنچیں اور پھر چٹاگانگ تشریف لے گئیں۔ شنید ہے کہ ان کی ملاقات اندھے حافظ سے بھی ہوئی تھی۔ سوال یقینا وہی ہو گا کہ میں وزیر اعظم کب بنوں گی۔ اب یہ بزرگ لوگ بعض دفعہ بہت Abstract غیر مربوط باتیں کرتے ہیں۔ اس سرے کو بھی تھام کر رکھیں۔

 غیاث الدین تغلق نے بنگال کی فتح سے واپسی پر جب سیدنا نظام الدین اولیا کو اپنی آمد سے پہلے دہلی خالی کرنے کو کہا تو آپ نے جواب دیا کہ ہنوز دہلی دور است۔ اللہ کا کرنا یوں کہ صبح جب بادشاہ دہلی کی طرف روانہ ہونے کو تھا تو لشکر میں ایک ہاتھی بدک گیا اور آپس میں ہاتھیوں کی ایک یلغار کی وجہ سے سائبان گر پڑے اور غیاث الدین کچل کا مارا گیا۔

 اب آپ کے خیال میں حافظ جی نے بے نظیر کے سوال پر سن 1985 میں چٹاگانگ بنگلہ دیش میں کیا کہا ہوگا

انہون نے کہا تھا:

 ”جب آموں کی پیٹیاں پھٹیں گی تو میری بچی تم بھی وزیر اعظم بنوگی “

      ایسا ہوا نا کہ وہ وزیر اعظم بنیں۔

ہم نے کہا تھا نا کہ بزرگ اور امریکی صدر بہت Abstract اور غیر مربوط باتیں کرتے ہیں۔ یاد ہے نا امریکی صدر فرینکلن روزولٹ نے کہا تھا سیاست میں حادثے نہیں ہوتے۔ ہاں اکثر سانحوں کو Palatable بنانے کے لیے حادثہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں۔

sohail

sohail

Next Post

ڈانس کرتے افریقی جنازہ برداروں کی وائرل ’میم‘ کی دلچسپ کہانی

بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت ملی، ہارون الرشید کے تہلکہ خیز انکشافات

گورنر نیویارک نے کورونا وائرس کی سخت جانی کی خطرناک تفصیلات بتا دیں

سعودی عرب کا قیدیوں کے لیے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان

سنجے دت کی گرفتاری اور اعتراف جرم کی تفصیلی کہانی سابق پولیس کمشنر کی زبانی

Comments 2

  1. سعدیہ کیانی says:
    6 سال ago

    شکریہ دیوان صاحب آپ سے درخواست کی تھی کہ کبھی لکھئے بھٹو کے سیاسی کردار کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانیں کہ ان کے فیصلوں نے کس حد تک پاکستان کو فائدہ یا نقصان دیا۔ یہ داستان مجیب الرحمان بھی بہت سی نئی باتیں کھول رہی ہے ہمارے واسطے۔ البتہ ہم ایک بات پہ شرمندہ ضرور ہوتے ہیں کہ شاید ہم نے ہی بنگلہ دیش بنوایا اپنے تعصب اور ناانصافی کے سبب ۔ ہم نے بہت سی غلطیاں کیں لیکن اللہ نے کوئی بڑی سزا نہ دی ماسوائے نااہل حکمرانوں کے۔۔ بس یہی کافی ہیں اور اب عذابوں سے بھاری ہیں۔

    جواب دیں
  2. محمد اقبال دیوان says:
    6 سال ago

    ہم نے ایک کالم قصہ ساڑھے چار درویش بھیجا ہے جس میں بہت محدود پیمانے پر مگر بھٹو کے مظالم کا تذکرہ کیا ہے

    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In