چین میں ہونے والی ایک تازہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس نے اپنی ساخت میں تبدیلی (میوٹیشن) کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جس کے باعث ویکسین تیار کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔
چین میں ریسرچرز کی ایک ٹیم نے 11 مریضوں میں موجود وائرس کا تجزیہ کیا تو انہیں 33 قسم کی تبدیلیاں نظر آئیں، ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے خود کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
کیا کرسمس سے قبل کورونا ویکسین تیار ہوجائے گی؟
امریکی کمپنی کی تجرباتی ویکسین کورونا کے خلاف موثر ثابت ہونے لگی
نیوزویک سے بات کرتے ہوئے ژی جنگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ریسرچر شاؤ ژیانگ کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وائرس میں آنے والی تبدیلیوں سے ان کی انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت کا کتنا تعلق ہے، یہ وائرس ان تبدیلیوں کے باعث مزید مضبوط یا کمزور ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق کے ویکیسین کی تیاری پر اثرات بہت اہم ہوں گے، کچھ تبدیل شدہ وائرس جنہیں ویکسین کی تیاری کے وقت مدنظر نہیں رکھا گیا ہو گا، وہ اس کے اثرات کو کمزور کر سکتے ہیں۔
آسٹریلیا کی مردوک یونیورسٹی کے سائنسدان ژانگ جیا نے نیوز ویک کو بتایا کہ اگر کورونا میں ان تبدیلیوں شرح معمولی ہے تو ویکسین تیار کرنے والوں کے لیے زیادہ مسائل پیدا نہیں ہوں گے، لیکن چونکہ یہ وائرس دنیا کی بڑی آبادی کو متاثر کیے جا رہا ہے اس لیے تبدیلیوں کی نوعیت کم ہونے کے باوجود اس کی اقسام بہت زیادہ ہو سکتی ہیں۔
نیوز ویک کے مطابق اگر کورونا وائرس اگر خود کو تبدیل کر کے انٹی باڈیز، جو قوت مدافعت پیدا کرتی ہیں، کو جڑنے سے روک لیتا ہے تو پوری دنیا کے لیے ایک ہی قسم کی ویکسین تیار کرنا مشکل ہو جائے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی جسم کی قوت مدافعت انٹی باڈیز کو وائرس کے مخصوص حصوں سے جوڑ کر اپنا کام کرتی ہے، اگر وائرس ان حصوں میں تبدیلی لانے کے قابل ہو گیا تو انٹی باڈیز کی کارکردگی محدود ہو جائے گی۔
گزشتہ ماہ برطانوی سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ وہ نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس میں آنے والی تبدیلیوں کو ٹریک کر رہے ہیں، اس کے لیے وہ جینز سیکیوئنسنگ کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں کورونا سے مرنے والوں میں ایشیائی اور افریقی زیادہ کیوں ہیں؟
ویکسین تیار ہونے سے پہلے لاک ڈاؤن کا خاتمہ کورونا وبا کو واپس لا سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ
برطانوی حکومت کے چیف سائنٹسٹ ایڈوائزر پیٹرک ویلینس کا کہنا ہے کہ جب وائرس کے جینز کا نقشہ ان کے پاس ہو گا تو وہ اس کے علاج کے متعلق بہتر لائحہ عمل تیار کر سکیں گے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پال کلینرمین نے کہا کہ تمام وائرس تبدیلیوں کے مرحلے سے گزرتے ہیں، ان میں سے کچھ باقیوں کی نسبت جلد تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ابھی نیا ہے، اس کی مختلف اقسام کو پوری تفصیل کے ساتھ ٹریک کیا جا سکتا ہے۔