موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں موجودہ دہائی کے آخر تک 14 کروڑ 70 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہونگے اور یہ ایک تباہ کن تعداد ہو گی۔ اس نئی تحقیق اور تجزیے کے مطابق 2030 تک سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد دوگنا ہو جائے گی جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔
عالمی تحقیقات گروپ ورلڈ ریسورس انسٹیٹیوٹ (ڈبلیو آر آئی) نے انکشاف کیا ہے کہ موجودہ دہائی کے آخر تک ہر سال دریاؤں اور ساحلوں سے آنے والے سیلابوں سے 14 کروڑ 70 لاکھ لوگ متاثر ہونگے جبکہ اس سے 10 سال قبل یہ تعداد 7 کروڑ 20 لاکھ تھی۔
کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 26 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ
اسی طرح سیلاب سے ہر سال شہری املاک کو ہونے والے نقصانات 174 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 712 ارب ڈالرز تک پہنچ جائیں گے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2050 تک یہ تعداد تباہ کن حد تک پہنچ جائے گی اور کل 22 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو سیلاب کا خطرہ لاحق ہو گا۔
ڈبلیو آر آئی کی واٹر انی شئیٹو کے ڈائریکٹر چارلی آئس لینڈ نے گارڈین کو بتایا کہ جب 2014 میں ڈبلیو آر آئی نے پہلی بار سیلاب ماڈلنگ آلہ تیار کیا تو تب کی جانے والی پیش گوئیاں ایک "تصور کی مانند” محسوس ہوتی تھیں۔
آئس لینڈ نے مزید کہا کہ اب ہم حقیقت میں نقصانات کی شدت میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے پہلے کبھی اس قسم کے سیلاب نہیں دیکھے۔
زیرزمین پانی کا بے دریغ استعمال، زمین کا کم ہونا، شدید خطرے سے دوچار علاقوں کو آباد کرنے جیسے غلط فیصلوں اور آب و ہوا میں تبدیلی کے بحران سیلابی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث ہیں۔
سب سے بدترین سیلاب جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں آئیں گے جس میں بنگلہ دیش، ویت نام، بھارت، انڈونیشیا اور چین شامل ہیں جہاں پر زیادہ آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ میں بھی سیلاب کا خطرہ سنگین نوعیت کا ہے تاہم اس کے اثرات کچھ کم ہونگے۔ اگلے 10 سالوں میں چین اور انڈونیشیا کے بعد ساحلی سیلاب سے نقصان اٹھانے والے ممالک میں امریکہ تیسرے نمبر پر ہو گا۔
امریکہ کی 3 ریاستیں زیادہ متاثر ہونگی جن میں لوئیزیانا، میساچوسٹس اور فلوریڈا شامل ہیں۔