• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

موسمیاتی ماہرین نے جنوب مشرقی ایشیا کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

by sohail
اپریل 24, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں موجودہ  دہائی کے آخر تک 14 کروڑ 70 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہونگے اور یہ ایک تباہ کن تعداد ہو گی۔ اس نئی تحقیق اور تجزیے کے مطابق 2030 تک سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد دوگنا ہو جائے گی جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔

عالمی تحقیقات گروپ ورلڈ ریسورس انسٹیٹیوٹ (ڈبلیو آر آئی)  نے انکشاف  کیا ہے کہ موجودہ  دہائی کے آخر تک ہر سال دریاؤں اور ساحلوں سے آنے والے سیلابوں سے 14 کروڑ 70 لاکھ لوگ متاثر ہونگے جبکہ اس سے 10 سال قبل یہ تعداد 7 کروڑ 20 لاکھ تھی۔

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 26 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ

اسی طرح سیلاب سے ہر سال شہری املاک کو ہونے والے نقصانات 174 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 712 ارب ڈالرز تک پہنچ جائیں گے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2050 تک یہ تعداد تباہ کن حد تک پہنچ جائے گی اور کل 22 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو سیلاب کا خطرہ لاحق ہو گا۔

ڈبلیو آر آئی کی واٹر انی شئیٹو کے ڈائریکٹر چارلی آئس لینڈ نے گارڈین کو بتایا کہ جب 2014 میں ڈبلیو آر آئی نے پہلی بار سیلاب ماڈلنگ آلہ تیار کیا تو تب کی جانے والی پیش گوئیاں ایک "تصور کی مانند” محسوس ہوتی تھیں۔

آئس لینڈ نے مزید کہا کہ اب ہم حقیقت میں نقصانات کی شدت میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے پہلے کبھی اس قسم کے سیلاب نہیں دیکھے۔

زیرزمین پانی کا بے دریغ استعمال، زمین کا کم ہونا، شدید خطرے سے دوچار علاقوں کو آباد کرنے جیسے غلط فیصلوں اور آب و ہوا میں تبدیلی کے بحران سیلابی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث ہیں۔

سب سے بدترین سیلاب جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں آئیں گے جس میں بنگلہ دیش، ویت نام، بھارت، انڈونیشیا اور چین شامل ہیں جہاں پر زیادہ آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ میں بھی سیلاب کا خطرہ سنگین نوعیت کا ہے تاہم اس کے اثرات کچھ کم ہونگے۔ اگلے 10 سالوں میں چین اور انڈونیشیا کے بعد ساحلی سیلاب سے نقصان اٹھانے والے ممالک میں امریکہ تیسرے نمبر پر ہو گا۔

امریکہ کی 3 ریاستیں زیادہ متاثر ہونگی جن میں لوئیزیانا، میساچوسٹس اور فلوریڈا شامل ہیں۔

Tags: موسمیاتی تبدیلیاں اور سیلاب
sohail

sohail

Next Post

کس زبان میں سوچااور لکھا جائے؟

کیا کورونا وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا؟ امریکی سائنسدانوں کی تحقیق نے امید جگا دی

کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق

بھارت کا اپنے شہریوں کو لے جانے سے انکار یو اے ای سے تعلقات خراب کر سکتا ہے

انٹرنیٹ کے بغیر ایک ماہ سمندری سفر کرنیوالا جوڑا کورونا کی تباہی دیکھ کر پریشان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In