• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

کس زبان میں سوچااور لکھا جائے؟

by sohail
اپریل 24, 2020
in کالم
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اپنی پہلی کتاب ”گاڈ آف اسمال تھنگز”کے شائع ہونے کے ایک ہفتے بعد، میں کولکتہ کتاب کی تقریب پذیرائی کے سلسلے میں ایک تقریب میں شریک تھی کہ ہال میں موجود حاضرین میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور بڑے غصیلے انداز میں بولے”کیا کبھی کسی منصف نے کوئی شاہکار تحریر کیا ہے؟ اور وہ بھی کسی اجنبی زبان میں؟ کوئی ایسی زبان جو اس کی مادری زبان نہ ہو؟”

میں نے کبھی دعویٰ تو نہیں کیا کہ میں نے کوئی شاہکار ناول تحریر کیا ہے تاہم میں، اپنے حوالے سے، اس کے غصے کو سمجھ سکتی تھی کہ میری ساری عمر بھارت میں گزری اور ناول انگریزی زبان میں لکھا جس نے بے انتہا توجہ حاصل کی۔

میرے جواب نے اس کے غصے کو مزید بڑھا دیا۔

 ”ناباکوف” میں نے کہا۔

میرا جواب سن کر وہ غصے سے ہال سے باہر نکل گیا۔

اس شخص کے پوچھے گئے سوال کا آج کے دور میں درست جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ”الگورتھم”

ہمیں بتایا گیا ہے کہ ”مصنوعی ذہانت”کے ذریعے کسی بھی زبان میں شاہکار تحریر کیا جا سکتا ہے اور پھر اسے کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرکے اسے بھی شاہکار بنایا جا سکتا ہے۔ زبان کے حوالے سے اس واقعے کے بعد چند ہفتوں بعد میں لندن میں ایک ریڈیو شو میں شریک تھی، جہاں میرے ساتھ دوسرا مہمان ایک انگریز مورخ تھا۔

 ایک سوال کے جواب میں اس انگریز مہمان نے برطانوی سامراجیت کے قصیدے پڑھنے شروع کردیے ، پھر اچانک رعونت سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا ”یہ حقیقت کہ آپ انگریزی میں لکھتی ہیں، دراصل برطانوی راج کو خراج تحسین جاتا ہے۔”

مجھے ریڈیو شوز میں شرکت کا زیادہ تجربہ نہیں تھا لہٰذا اس وقت تو میں خاموش رہی، جیسا کہ ایک مہذب فرد کو کرنا چاہے، تاہم اس کے بعد مجھے یاد نہیں کیا ہوا اور میں نے شاید اسے بے نقط سنا دیں۔ میری باتیں سن کر وہ انگریز مورخ کچھ پریشان سا ہوگیا اور پروگرام ختم ہونے کے بعد مجھ سے بولا کہ جو کچھ اس نے کہا وہ تعریفاً کہا تھا، کیونکہ اسے میرا ناول بہت پسند آیا تھا۔

میں نے اس سے پوچھا کہ اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام ”جیز موسیقی، نغمے اور سیاہ فام افراد کی تحریروں اور شاعری میں دراصل غلامی کو خراج پیش کیا گیا ہے؟ اسی طرح لاطینی امریکا کا تمام ادب ہسپانوی اور پرتگالی استعماریت کی یادگار میں لکھا گیا ہے؟

 دونوں مواقع پر میرے جوابات تسلی بخش ہرگز نہیں تھے، بلکہ یہ مدافعانہ ردعمل کی طرح تھے۔

ان مواقعوں پرچند اشتعال انگیز قسم کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جن کی نوعیت استعماریت، وطن پرستی، اشرافیہ کی حکمرانی، جبلی افکار، ذات پات اور ثقافتی شناخت جیسے موضوعات تھے۔ یہ تمام سوالات کسی بھی مصنف کے اعصابی نظام کے لیے ایک ناگوار دباؤ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کولکتہ کی اس تقریب کے دوران میں واقعی سوچ رہی تھی کہ آخر میری مادری زبان کیا ہے؟مجھے کس زبان میں سوچنا اور لکھنا چاہئے کہ جو اقلیتوں کے جذبا ت کا لحاظ کرتے ہوئے، ثقافتی طور پر موزوں اور اخلاقی طور پر درست بھی ہو؟ مجھے خیال آیا کہ میری ماں حقیقت میں ایک اجنبی کی طرح تھی، کالی دیوی کی طرح اس کے کئی ہاتھ تو نہیں، البتہ اس کی کئی زبانیں ہیں اور انگریزی ان میں سے ایک ہے۔

میری انگریزی زبان کو گیرائی اور گہرائی یہاں بولی جانے والی دیگر زبانوں کے تال میل سے ملی ہے۔ میں نے اپنے دیس کو بدیس یا اجنبی کیوں کہا؟ کیونکہ پہلے اس کے قومی شریر کو متشددانہ طور پر برطانوی استعماریت کا حصہ بنایا گیا اور بعد ازاں اسے ٹکڑوں میں تقسیم کردیا گیا۔ میں اسے اجنبی اس لیے بھی کہتی ہوں کہ اس کے نام پر ان لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو اس کا حصہ رہنے کی خواہش نہیں رکھتے، مثال کے طور پر کشمیری عوام ، جو اس دھرتی کا حصہ بننا نہیں چاہتے، دوسری جانب ان لوگوں پر بھی تشدد روا ہے جو اس کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں، یعنی مسلمان اور دلت افراد۔ انہی اقدامات نے بھارت کو ایک ایسی دھرتی ماں بنا دیا ہے جو مادرانہ محبت سے عاری ہے۔

یہ دھرتی آخر کتنی زبانیں رکھتی ہے؟ سرکاری طور پر 370 کی تعداد بتائی جاتی ہے جن میں 72کو باقاعدہ طور پر یعنی بھارتی آئین میں تسلیم کیا گیا ہے جبکہ 38 زبانیں سرکاری طور پر تسلیم کیے جانے کے انتظار میں ہیں۔ قومی زبان کوئی بھی نہیں ہے، اب تک تو نہیں، البتہ ہندی اور انگریزی کو سرکاری زبانیں قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی آئین ،جو کہ انگریزی زبان میں تحریر کیا گیا، اس کے مطابق ریاست کی جانب سے انگریزی زبان کا سرکاری سطح پر استعمال آئین کے نفاذ کے پندرہ برسوں بعد، یعنی 26جنوری 1965ء کو ختم ہوجانا تھا اور اس کی جگہ ہندی زبان نے رائج ہونا تھا تاہم ہندی کو قومی زبان کے طور پر رائج کرنے کی ہرسنجیدہ کوشش کے نتیجے میں ملک کے غیر ہندی بولنے والے علاقوں  میں ہنگامے پھوٹ پڑتے تھے۔ تصور کیجیے کہ سارے یورپ میں کسی ایک زبان کو نافذ کرنے کی کوشش کیا رنگ لائے گی، لہٰذا اس ملک میں انگریزی زبان مجرمانہ اور غیرسرکاری طور پر اپنی بنیادیں مضبوط کر رہی ہے۔

بھارت بطور ایک قومی ریاست دراصل برطانوی تصور تھا، تاہم انگریزی زبان میں لکھنا یا گفتگو کرنے کا مقصدبرطانوی راج کو خراج تحسین پیش کرنا ہرگز نہیں، جیسا کہ اس دن برطانوی مورخ نے مجھے باور کرانے کی کوشش کی تھی، درپیش حالات کے تناظر میں اس کا عملی حل یہی ہے۔

بنیادی طور پر  بھارت آج بھی ایک راج دھانی کی طرح ہے کہ جس کے مختلف خطوں کو مسلح افواج کے ذریعے یکجا رکھا گیا ہے اور جن کا انتظام دلی کے ذریعے چلایا جاتا ہے لیکن وہاں بسنے والوں کے لیے دلی اتنا ہی دور است جتنا کوئی بھی بدیسی شہر۔ اگر بھارت کو زبان کی بنیاد پر مختلف جمہوری ریاستوں میں تقسیم کیا جائے تو شاید پھر ہم انگریزی سے جان چھڑا پائیں اور ایسا مستقبل قریب میں تو نظر نہیں آ رہا۔ موجودہ حالات میں انگریزی جو کروڑوں افراد کی زبان ہے، ایک متحرک اور مستعد، موجودہ وقت کے لیے موزوں، عدالت، صحافت، وکلا، سائنس، انجینئرنگ، اور عالمی رابطے کی زبان ہے۔ یہ خصوصی امتیاز کی حامل ہے۔

انگریزی حریت اور آزادی کی زبان بھی ہے، وہی زبان جس میں خصوصی امتیاز اور حیثیت کی ملامت کی گئی۔ ذات پات کے خلاف لکھی گئی ڈاکٹر بی آر امبڈکر کی کتابAnnihilation of Caste   جس میں ہندوؤں کے ذات پات کے تباہ کن نظام کے بارے میں لکھا گیا، جس کتاب کا وسیع پیمانے پر مطالعہ اور متعدد زبانوں  میں ترجمہ کیا گیا، وہ کتاب انگریزی زبان میں ہی لکھی گئی تھی۔

اس کتاب نے ہی اس بحث کا آغاز کیا جس میں کسی بھی معاشرے میں منظم انداز میں کی جانے والی نا انصافیوں کاجائزہ لیا گیا۔ معاملات اور حالات کتنے مختلف ہوتے اگرڈاکٹر امبیڈکر کی کتاب مخصوص طبقات کی بولی جانے والی زبان میں ہی لکھی گئی ہوتی۔ انہی مباحث کا نتیجہ ہے کہ آج یہ بات واضح طور پر سامنے آنے لگی ہے کہ کس طرح نچلے اور محروم طبقات کو معیاری انگریزی تعلیم اور زبان سے دور رکھا جا رہا ہے اور اسی براہمن روایات کو برقرار رکھا جا رہا ہے جس کے تحت نچلے طبقات کو تعلیم اور خواندگی سے محروم رکھا جاتا تھا تاکہ وہ علم اور پھر اس کی بدولت خوش حال نہ ہونے پائیں۔

اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک دلت اسکالر چندربھان پرساد نے اپنے گاؤ ں میں ایک مندر کی بنیاد رکھی اور اسے دلتوں کی ”انگریزی زبان کی دیوی کا مندر” کہا۔ چندر پرساد کا کہنا تھا کہ” یہ مندر دلتوں کی مزاحمت کی ایک علامت ہے، اور ہم انگریزی زبان سیکھیں گے اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو بلند کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائیں گے۔”

”ایک قوم، ایک مذہب، ایک زبان”  وہ ہوشربا اور فنکارانہ تصور ہے کہ جس سے موجودہ ہندو قوم پرست حکمراں سیاسی طور پر ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ 1920ء میں اپنے قیام سے آج تک راشٹریا سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) یہی نعرے بلند کرتی آ رہی ہے ”ہند۔ ہندو۔ہندوستان”۔ المیہ یہ ہے کہ یہ تینوں لفظ عربی اور فارسی سے بنے ہیں۔ الہند سے ہندوستان بنا جس میں ”ستان” کے معنی ہیں ”رہنے کی جگہ” ۔ اسی سے ملتا جلتا سنسکرت کا لفظ ”ستھان” ہے جس کے معنی بھی یہی ہیں جبکہ ”ہندو” سے مراد ہندوستان کا رہنے والا تھا، یعنی ہندو کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ علاقے سے تھا، لیکن آر ایس ایس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے تجربات سے سیکھے گی عبث ہے، حالانکہ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اپنے بنگالی بولنے والے خطے پر بھی اردو لاگو کرنے کی کوشش کی تو اسے اپنے نصف ملک سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ اسی طرح سری لنکا نے تامل شہریوں پر ”سنہالی” زبان نافذ کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ برسہا برس کی خانہ جنگی کی صورت میں سامنے ہے۔

یہ سب باتیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک ایسے خطے میں بستے ، لکھتے اور بولتے ہیں جو پرپیچ ہے، جہاں کوئی معاملہ سیدھا نہیں ہے، خاص طور پر زبانوں کا تو بالکل بھی نہیں۔

اپنے پہلے ناول ”گاڈ آف اسمال تھنگز” کی اشاعت کے بیس برس بعد جب میں نے اپنا دوسرا ناول ”منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نس” ختم کیا۔ شاید مجھے کہنا تو نہیں چاہئے لیکن اگر ناول کا کوئی دشمن ہوسکتا ہے تو پھر میرے اس دوسرے ناول کا دشمن وہی خیال تھا یعنی ”ایک قوم۔ ایک مذیب۔ ایک زبان”۔

ناول کے مسودے کے سروق پر میرادل چاہا کہ لکھ ڈالوں ”اصل سے ترجمہ :ارون دھنی رائے” کیونکہ ”منسٹری” ایسا ناول ہے جو لکھا تو انگریزی زبان میں گیا لیکن اسے سوچا اور تصور کئی زبانوں میں کیا گیا۔ اس ناول میں ”ترجمے” کو تخلیق کے بنیادی جوہر کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ترجمے سے مراد محض الفاظ اور خیال کو زبان میں ڈھال دینا نہیں بلکہ مخصوص دنیا میں بسنے والے مخصوص افراد سے منسوب جو کہانی ہے اسے کئی زبانوں میں ہی تصور کیا جانا چاہئے تھا۔ یہ ایسی کہانی ہے جو مختلف بھاشاؤں کے ساگر سے ابھرتی ہے، جس میں ایک زرخیز اور ثمر آور ماحول ہے، جہاں تیرتی مختلف آبی مخلوق کی طرح، لفظ بھی مل جل کر اس کی زرخیزی بڑھاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں کہ وہ بقا کے لیے باہم مل کر رہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

ترجمہ صرف اعلیٰ ادبی فن ہی نہیں جوایک سے زائد زبانیں جاننے والے نفیس اطوار افراد کرتے ہیں بلکہ یہ ایک روزہ مرہ زندگی کی طرح ہے، سڑک پر ہونے والی کسی سرگرمی کی طرح ،جہاں یہ بسنے والوں کی بقا کے لیے ضروری اور کارآمد شے کی مانند ہوتی ہے۔ اسی طرح کئی زبانوں کے اس ناول میں، نہ صرف مصنف بلکہ اس ناول کے اپنے کردار بھی لطیف و نفیس ادھورے پن کے ساگر میں تیر رہے ہیں، جو مسلسل ایک دوسرے کے لیے ترجمہ کر رہے ہیں، جو متواتر دوسری زبانیں بول رہے ہیں، اور جو ہر دم یہ بات سمجھ رہے ہیں کہ وہ لوگ جو ایک زبان بول رہے ہیں ضروری نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھنے والے بھی ہوں۔

ناول ”منسٹری” کا اب تک 48 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ہر زبان میں ترجمہ کرنے والے کو ایک ایسی زبان سے واسطہ پڑا ہو گا جو کئی زبانوں سے گندھی ہوئی ہے، اور پھر اسے جس زبان میں ڈھالا ہوگا جس میں خود کئی زبانیں شامل ہوں گی۔

”منسٹری” کا ترجمہ جن 48 زبانو ں میں اب تک ہوچکا ان میں اردو اور ہندی بھی شامل ہیں۔ ناول میں پیش کیے گئے ماحول کو دیکھیں اگر تو اردو اور ہندی زبانوں میں ترجمہ ، ”گھر واپس لوٹنے” کی طرح ہے۔ اس ناول میں کئی زبانیں گندھی ہوئی ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا، اور آج میں اسی بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں کہ مجھے کس طرح اس ناول کے تحریر کیے جانے سے قبل مختلف زبانوں کے الفاظ یا ”ترجمے” کے مشکل  مرحلے سے گزرنا پڑا اور یہ سب کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا، اس مشکل گزرگاہ کی ایک جھلک دکھلانے کے لیے میں آپ کو بتاتی ہوں وہ راستہ جس سے گزرتے ہوئے میں یہاں تک پہنچی۔

میری ماں کا تعلق کیرالا سے ہے اور وہ ایک شامی نژاد عیسائی ہیں۔ اس علاقے میں” ملیالم” زبان بولی جاتی ہے۔ میرے والد بنگالی تھے جن کا تعلق کولکتہ سے تھااور یہیں ان دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔ ان دونوں کے درمیان بات چیت کے لیے مشترکہ زبان انگریزی تھی۔ میرے والد نوکری کے سلسلے میں آسام میں مقیم تھے، جہاں ایک قصبے شیلونگ میں میری پیدائش ہوئی۔

  شیلونگ میں ”خاسی” زبان والے والے قبائل آباد ہیں جن کا تعلق کمبوڈیا سے تھا۔ میری بچپن کے ابتدائی دو سال اسی گاؤں میں گزرے۔ میرے ماں ، باپ کے درمیان تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے، اور جب کبھی وہ جھگڑا کرتے تو مجھے چائے کے باغات میں کام کرنے والے ملازمین میں سے کسی کے گھر دیکھ بھال کے لیے بھیج دیا جاتا، جہاں میں نے اپنی ابتدائی زبان سیکھی۔ چائے کے باغات میں کام کرنے والے افراد کا تعلق بھارت کے مشرقی اور مرکزی علاقوں کے قبائل سے تھا جن کی زبان بگڑتے  ہوئے اور بگانیا سے مدغم ہو چکی تھی اور وہ ہندی، آسامی دونوں لہجوں کا ملاپ تھی اور یہی وہ زبان تھی جو میں نے سب سے پہلے بولنا سیکھی۔

میں تقریبا تین سال کی تھی جب میرے والدین میں علیحدگی ہو گئی اور میں، میری ماں اور چھوٹا بھائی ہم لوگ تامل ناڈو آ گئے اور پھر تھوڑے عرصے بعد ہم لوگ کیرالا کے ایک چھوٹے سے گاؤں چلے گئے۔

جب میں پانچ برس کی تھی تو میری ماں نے ایک اسکول کا آغاز کیا، اسکول کی جگہ کا کرایا روزانہ کی بنیاد پر تھا۔ میری پرورش ایک ایسے ثقافتی ماحول میں ہوئی جہاں شیکسپیئر، کپلنگ کے علاوہ کتھا کلی (ایک قسم کا رقص) کا رواج تھا اور میری تعارف اس دور میں ملیالم اور تامل سنیما سے بھی ہوا۔ ابھی میں کمسن ہی تھی کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ صرف انگریزی میں بات کیا کرو کیونکہ اسے میرے کیریئر کے بارے میں فکر تھی۔ جب کبھی میں ملیالم بولتی پکڑی جاتی تو مجھے سزا کے طور پریہ جملہ ہزار بار لکھنا پڑتا ”میں انگریزی میں بات کروں گی”۔

دس سال کی عمر میں مجھے بورڈنگ اسکول بھیج دیا گیا۔ ملیالم اور انگریزی کے بعد یہاں میں نے ہندی زبان سیکھی جبکہ جس ٹیچر نے ہمیں ہندی پڑھائی وہ خود ملیالم سے تھے اور اسی لہجے اور انداز میں انہوں نے ہمیں ہندی پڑھائی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے سیکھا بہت کم اورسمجھا تو بالکل بھی نہیں۔

سولہ برس کی عمر میں اسکول آف آرکی ٹیکچر میں پڑھنے کے لیے میں دلی پہنچی۔ مجھے ہندی کے ایک دو جملوں کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا جن میں ایک تھا کہ ”صبح اٹھ کے دیکھا تو کتیا مری پڑی تھی”۔ یہ جملہ دراصل ہندی کے ایک سبق میں تھا جو مجھے یاد رہ گیا اور دلی آنے کے بعد کئی ہفتوں تک کسی بھی گفتگو کے دوران یا ہندی میں پوچھے جانے والے سوال کے بعد میرا جواب بس یہی جملہ ہوتا تھا۔

اس کالج کے ہوسٹل میں رہنے والے طالب علموں میں سے زیادہ تردیگر شہروں سے آئے ہوئے تھے اور بیشتر ہندی نہیں جانتے تھے۔ ان میں بنگالی، آسامی، ناگالینڈ والے، مانی پور، نیپالی، سکم، گووا، تامل ناڈو اور دیگر علاقوں سے آئے طلبا شامل تھے۔ میری پہلی روم میٹ ایک کشمیری تھی، دوسری کا تعلق نیپال سے تھا جبکہ میری قریب ترین دوست کا تعلق اڑیسا سے تھا، جسے نہ انگریزی آتی تھی نہ ہی ہندی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم سب ایک ایسی زبان میں گفتگو کرنے لگ گئے جو انگریزی اور ہندی سے مل کر بنی تھی اور ہاسٹل کیمپس میں بولی جاتی تھی اور یہی میرے پہلے اسکرین پلے کی زبان بھی تھی۔

آج بھارت میں یہ حال ہے کہ اردو بولنے والوں کی نئی نسل اپنے رسم الخط سے بالکل ناآشنا ہے اور وہ اردو بھی دیوناگری میں پڑھتے ہیں، کیونکہ اردو کو صرف مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ پاکستان کی زبان سمجھا جاتا ہے اسی لیے کچھ لوگوں کی نظروں میں یہ مجرمانہ ٹھہری ہے۔

sohail

sohail

Next Post

کیا کورونا وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا؟ امریکی سائنسدانوں کی تحقیق نے امید جگا دی

کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق

بھارت کا اپنے شہریوں کو لے جانے سے انکار یو اے ای سے تعلقات خراب کر سکتا ہے

انٹرنیٹ کے بغیر ایک ماہ سمندری سفر کرنیوالا جوڑا کورونا کی تباہی دیکھ کر پریشان

وفاقی حکومت کا لاک ڈاؤن میں 9 مئی تک توسیع کا فیصلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In