پارک لین ٹاور ریفرنس میں نامزد دو ملزمان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اصل فائدہ سابق صدر آصف زرداری اور حسین لوائی نے اٹھایا ہے جو ضمانتوں پر رہا بھی ہو چکے ہیں۔
یہ بات ریفرنس میں نامزد ملزمان اقبال نوری اور محمد حنیف کی ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت کے دوران انکے وکیل نے سپریم کورٹ میں کہی ہے۔
سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔
دوران سماعت وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اقبال نوری اور محمد حنیف کمپنی کے ملازمین تھے، ریفرنس کے مرکزی ملزمان آصف زرداری اور عبدالغنی مجید کی ضمانتیں ہو چکی ہیں۔
اس موقع پر نیب کے وکیل نے کہا کہ آصف علی زرداری اور عبدالغنی مجید کو طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی۔
ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حال ہی میں نیب نے عبوری ریفرنس داخل کیا ہے اور کیس میں ابھی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ رہن رکھی گئی جائیداد آج بھی موجود ہے، جائیداد کی قیمت قرض کی رقم سے زیادہ ہے، ہائیکورٹ نے جائیداد کی قیمت کو مدنظر نہیں رکھا جبکہ نیب تسلیم کرتا ہے کہ دونوں ملزمان صرف کمپنی کے ملازمین تھے اوراصل فائدہ آصف زرداری، حسین لوائی نے اٹھایا۔
جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ لیے گئے قرضہ کا ایک پیسہ بھی واپس نہیں کیا گیا، قرضہ لینے کا مقصد سامنے نہیں، شادی کیلئے تو قرضہ نہیں لیا گیا ہوگا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان قرض کی رقم واپس دینے کو تیار ہیں۔
نیب کے وکیل نے بینچ کو بتایا کہ یہ کیس قرضہ واپسی کا نہیں بلکہ منی لانڈرنگ کا ہے، ملزمان نے 3 ارب 77 کروڑ کا غیر قانونی قرضہ لیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف نیشنل بینک اور سمٹ بینک نے قرضہ کی واپسی کیلئے سول مقدمات دائر کررکھے ہیں، عدالت اجازت دے تو رہن رکھی گئی جائداد کے دستاویزات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
عدالت نے ملزمان کے وکیل کو دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے سماعت دس روز کیلئے ملتوی کردی۔