دنیا بھر میں ناروے اس وقت الیکٹرک کاروں کے فی کس مالکان کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے، ناروے نے یہ مقام کس طرح حاصل کیا، یہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔
1980 کی دہائی کے مشہور بینڈ اے ہا (A_Ha) کے مرکزی گلوکار اور ناروے کے ماحولیاتی گروپ بیلونا کے سربراہ نے 1995 میں ایک گاڑی سوئٹزرلینڈ سے درآمد کی جس میں تبدیلی لا کر اسے الیکٹرک کار بنایا گیا تھا، یہ کار فیاٹ پانڈا تھی۔
وہ اس گاڑی پر سوار ہو کر شہر کی سیر پر روانہ ہو گئے، انھوں نے اوسلو شہر اور اس کے گردونواح میں گاڑی چلائی اور شہر میں حکومت کی طرف سے عائد کردہ روڈ ٹیکسز ادا کرنے سے انکار کر دیا، جہاں جہاں وہ غیر قانونی طور پر پارکنگ کر سکتے تھے، انھوں نے کی اور انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے کئی جرمانے کے نوٹس نظر انداز کر دیے۔
ناروے میں ایک پاکستانی نژاد تاجر کے ایثار کی کہانی
ناروے میں کرونا اور ہزاروں کرونے کے جرمانے، ایک دلچسپ رپورٹ
آخر کار حکام نے ان کی گاڑی کو پکڑ لیا اور جرمانے کی رقم وصول کرنے کے لیے گاڑی کو نیلام کر دیا گیا۔
دی گارڈین میں شائع ایک آرٹیکل کے مطابق ان کی اس حرکت نے بڑے پیمانے پر میڈیا کی توجہ حاصل کر لی اور وہ یہی چاہتے تھے، اس واقعے کے فوراً بعد ہی ناروے میں برقی گاڑیوں کو مراعات دینے کا آغاز کر دیا گیا جس میں سب سے بڑی سہولت روڈ ٹول کی ادائیگی سے استشنی تھا۔
ان مراعات نے کچھ ہی سالوں میں ناروے کو سب سے زیادہ فی کس الیکٹرک وہیکلز کی ملکیت رکھنے والا ملک بنانے میں مدد دی۔
گزشتہ ماہ جب ناروے کی معیشت کورونا وائرس کی وجہ سے بحران کا شکار ہوئی تو حساب لگایا گیا کہ ناروے کی مارکیٹ میں الیکٹرک کاریں 60 فیصد سے کچھ کم جبکہ پلگ ان ہائبرڈ کاریں 15 فیصد سے زیادہ ہیں، اس کا مطلب ہے کہ فروخت شدہ تمام نئی کاروں میں سے چار میں سے تین کاریں مکمل یا جزوی طور پر الیکٹرک تھیں۔
ناروے کو ابھی بھی اس سلسلے میں کچھ سفر طے کرنا باقی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنے 2016 میں تشکیل کئے گئے اہداف کو پورا کرنے کے قریب ہے جس میں 2025 تک ایندھن سے چلنے والی تمام نئی کاروں اور لائٹ کمرشل وہیکلز کی فروخت کو ختم کرنا شامل ہے۔
ناروے تیل اور گیس کی پیداوار کا بڑا مرکز ہونے کے باوجود تقریباً تمام گھریلو توانائی پن بجلی سے حاصل کرتا ہے، اس لیے کوئلے سے توانائی حاصل کرنے والے ممالک کی نسبت اس کے لیے برقی گاڑیوں کو فروغ دینا زیادہ ماحولیات دوست آپشن ہے۔
ماحولیات کو آلودگی سے بچانے کیلیے نارویجن حکومت نے برقی گاڑیاں خریدنے کے لیے مراعات کا سلسلہ 1990 کی دہائی میں ہی شروع کر دیا تھا۔ اولین مراعات میں الیکٹرک وہیکل کی خریداری پر عارضی طور پر ٹیکس میں چھوٹ دی گئی جسے 6 سال بعد مستقل کر دیا گیا۔
تیل کی دریافت سے پہلے ناروے ایک غریب ملک تھا اور گاڑی یا کار کا شمار لگژری آئٹم میں ہوتا تھا۔ گاڑیوں پر بہت زیادہ ٹیکس کے باعث دوسرے ممالک کی نسبت ناروے میں گاڑی خریدنا زیادہ مہنگا ہے، تاہم برقی گاڑی پر ٹیکس میں چھوٹ سے اس کی قیمت کم ہو کر عام گاڑی جتنی رہ گئی ہے۔
ناروے میں برقی گاڑیوں کو بہت سی سہولیات میسر ہیں جیسا کہ ٹول فری، میونسپل کار پارکنگ میں فری پارکنگ کی سہولت، بغیر ٹکٹ کے فیری کا سفرشامل ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں پر پیٹرول اور ڈیزل کی نسبت کم ٹیکس عائد ہے اور الیکٹرک گاڑی رکھنے والے ڈرائیور کو بس لین میں گاڑی چلانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے جس سے وہ رش میں باآسانی اپنا وقت ضائع ہونے سے بچا سکتا ہے۔
لیکن اتنی ساری مراعات کے باوجود بھی 2010 تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت بہت زیادہ نہیں تھی۔ لیکن اب ہر نارویجن کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ میری اگلی کار الیکٹرک کار ہو گی۔
بو نامی تنظیم جو صارفین کی نمائندگی کرتی ہے، نے گارڈین کو انٹرویو میں بتایا کہ یہ مراعات اتنی اہم تھیں کہ ایسے لوگ جنہوں نے الیکٹرک کار کے ٹیسلا اور جیگوار جیسے مہنگے ترین ماڈلز خریدے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ انھوں نے آنے والے وقت میں کتنی بچت کی ہے۔
بو نے مزید کہا کہ ہمیں بحیثیتِ معاشرہ دو اہم چیزیں کرنا ہے۔ پہلی یہ کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ قابل تجدید کی پیدوار بڑھانی ہے اور دوسرا اس پر چلنے والی مصنوعات میں بھی اضافہ کرنا ہے، ہم تب تک آرام سے نہیں بیٹھ سکتے جب تک کہ ہم 100 فیصد قابل تجدید توانائی حاصل نہیں کر لیتے۔
انھوں نے کہا کہ برقی گاڑیاں بھی مکمل طور پر ماحول دوست نہیں ہو سکتیں کیونکہ اہم مسئلہ بیٹریاں بنانے کا ہے۔ ہمیں یورپ میں صاف بیٹری بنانے والوں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہمیں کاروں اور بسوں کی ضرورت ہے خاص کر شہر میں اور شہر سے باہر الیکٹرک گاڑیاں ہی بہتر ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ نے گذشتہ نومبر میں نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی کی منظوری دی جس میں مینوفیکچررز، امپورٹرز اور خریداروں کو مراعات دی گئیں تاکہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے آلودگی کم کی جا سکے۔
مقامی آٹو میکرز کی جانب سے مزاحمت حکومتی پالیسی کو منطقی انجام تک پہنچانے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے جس سے الیکٹرک وہیکل مینوفیکچررز پالیسی فائنل نہیں ہو سکی اور برقی گاڑیاں بنانے والے تذبذب کا شکار ہیں۔